رضوان — اگست 26، 2007 10:56 صبح
شکریہ اعجاز صاحب
سیدہ شگفتہ — اگست 26، 2007 11:14 صبح
نجانے کیوں اس خبر پر یقین کرنے کو دل آمادہ ہی نہیں ہو رہا ۔۔۔ !
سیدہ شگفتہ — اگست 26، 2007 11:19 صبح
شمشاد بھائی
تعجب ہے ابھی تک انکی کوئی تحریر ہم نے برقیائی بھی نہیں ہے۔ کیوں نہ اب انہی کا کوئی ناول چاہے مختصر ہی برقیا لیا جائے؟
گردشِ رنگِ چمنقرۃ العین حیدر کا یہ ناول ہو چکا ہے۔
سیدہ شگفتہ — اگست 26، 2007 11:22 صبح
قرۃ العین حیدر نے ایک ناول لکھنے کا کہا ہوا تھا اور یہ بھی کہ وہ ناول ان کی اب تک کی تمام تحریروں سے بڑھ کر ہوگا۔۔۔
اعجاز انکل ۔۔۔ اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں ؟
شمشاد — اگست 26، 2007 11:33 صبح
واقعی رضوان بھائی ان کی کوئی تحریر برقیا کر اردو محفل کی زینت بنانا چاہیے۔
ماوراء تم کوئی مشورہ دو۔
رضوان — اگست 26، 2007 7:33 شام
قراۃ العین حیدر کے بھارت جانے کے سلسلے میں اسی دھاگے پر مکالمہ ہوا تھا آج کے روزنامہ جنگ میں جناب جمیل الدین عالی صاحب کا کالم چھپا ہے جسمیں انہوں نے اس وقعہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انکے مطابق یہ کوئی سیاسی معاملہ یا مارشل لاء کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ ایک مالی معاملہ تھا لیکن یہ بھی بعید نہیں کہ مارشل لاء بھی ایک وجہ ہو۔۔۔۔۔
جمیل الدین عالی
عمر سیف — اگست 26، 2007 7:39 شام
انا للہ و انا الیہ راجعون
محب علوی — اگست 26، 2007 8:10 شام
بہت شکریہ محب جو یہ آپ نے شیئر کیا۔
شمشاد آپ بھی دیکھیں کوئی افسانہ اگر ملے تو پوسٹکریں۔
فاتح — اگست 27، 2007 1:42 صبح
اس صفحہ پر آپ قرۃ العین حیدر کی اپنی آواز میں ان کے افسانے "ڈالَن والا" سے ایک اقتباس، جو انہوں نے " لائبریری آف کانگریس" کے لیے ریکارڈ کروایا، سن سکتے ہیں:
صفحہ کا ربط
آڈیو ڈاؤنلوڈ کرنے لیے ربط برائے ایم پی تھری
آنلائن سننے کے لیے ربط برائے ریئل میڈیا
شمشاد — اگست 27، 2007 2:10 صبح
شمشاد آپ بھی دیکھیں کوئی افسانہ اگر ملے تو پوسٹکریں۔
محب میرے پاس تو ان کی " آگ کا دریا " پڑی ہوئی ہے۔ فرصت سے کوئی اقتباس ضرور لکھوں گا۔
الف عین — اگست 27، 2007 6:25 صبح
ان کے ناول تو بہر حال کاپی رائٹ ہوں گے اور ان کے وارثین ہی اب اس کے وارث ہوں گے۔ محترمہ رائلٹی کے معاملے میں سنجیدہ تھیں بلکہ اکثر ترقی پسند ادیب اپنی رائلٹی کی ہی کمائی کھاتے تھے (یا پارٹی کا الاؤنس جب باقاعدہ ممبر ہوتے تھے تو)۔ اس لئے ناولوں کو چھوڑ دیا جائے۔ لیکن افسانوں کا ہم ایک نیا مجموعہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ دو افسانے تو پروف ریڈ موجود ہیں ہی۔ مزید افسانے ٹائپ کرنے ہوں گے، کون ہاتھ اٹھا رہا ہے؟ کس کس کے پاس مرحومہ کی کوعئی کتاب موجود ہے کہانیوں کی؟ سکین کر کے تصویروں کو دیکھ کر ٹائپ کرنے سے بہتر میں یہی سمجھتا ہوں کہ اصل کتاب سے ٹائپ کیا جائے۔
شمشاد — اگست 27، 2007 3:41 شام
اعجاز بھائی اگر آپ کے پاس سکین شدہ افسانے ہیں تو بے شک مجھے بھیج دیں، میں ٹائپ کر دوں گا۔
الف عین — اگست 27، 2007 5:04 شام
میں اکثر لکھتا رہتا ہوں شمشاد کہ میں تصویریں نہ ڈاؤن لوڈ کرتا ہوں اور ہن سکین کرتا ہوں۔ دیکھتا ہوں کہیں کچھ مواد مل جائے تو۔
الف عین — اگست 27، 2007 5:08 شام
اس صفحہ پر آپ قرۃ العین حیدر کی اپنی آواز میں ان کے افسانے "ڈالَن والا" سے ایک اقتباس، جو انہوں نے " لائبریری آف کانگریس" کے لیے ریکارڈ کروایا، سن سکتے ہیں:
صفحہ کا ربط
آڈیو ڈاؤنلوڈ کرنے لیے ربط برائے ایم پی تھری
آنلائن سننے کے لیے ربط برائے ریئل میڈیا
لائبریری آف کانگریس پر یاد آیا کہ آج ہی پنجابی ادیبہ اجیت کور کا ای میل ملا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ عینی کا دکھ بانٹنے کے لئے لکھ رہی ہیں۔ اور میرا بایو ڈاٹا بھی مانگا ہے انڈیا کے اردو رائٹرس کے صفحات کے لئے۔
اجیت کور کا صفحہ
http://www.loc.gov/acq/ovop/delhi/salrp/ajeetcour.html
اردو ادیبوں کا
http://www.loc.gov/acq/ovop/delhi/salrp/urdu.html
جہاں سے ڈالن والا کہانی کی ریڈنگ کا یہ آڈیو کلپ لیا گیا ہے۔
فاتح — اگست 27، 2007 9:41 شام
لائبریری آف کانگریس پر یاد آیا کہ آج ہی پنجابی ادیبہ اجیت کور کا ای میل ملا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ عینی کا دکھ بانٹنے کے لئے لکھ رہی ہیں۔ اور میرا بایو ڈاٹا بھی مانگا ہے انڈیا کے اردو رائٹرس کے صفحات کے لئے۔
اعجاز صاحب! یہ تو انتہائی اعزاز کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے اس اعزاز کو مبارک فرمائے اور اس سے بڑھ کر مزید اعزازات کا وارث بنائے۔ آمین۔
سیدہ شگفتہ — اگست 27، 2007 9:50 شام
اعجاز انکل ۔۔۔ میں بھی فاتح بھائی کے کلمات کا اعادہ کرتی ہوں آپ کے لئے !
شمشاد — اگست 27، 2007 9:57 شام
یہ ہمارے لیے بھی اعزاز کی بات ہے کہ اعجاز بھائی اس محفل کے رکن ہیں۔
الف عین — ستمبر 20، 2007 7:17 صبح
عینی آپا کا افسانہ مونا لیزا یہاں دستیاب ہے۔ انشاء الللہ سمت کے اگلے شمارے میض بھی اے شامل کروںب گا۔
http://www.urducouncil.nic.in/urduduniya/07_05_May/index_matbu.html
شمشاد — ستمبر 20، 2007 12:43 شام
بہت شکریہ اعجاز بھائی ربط دینے کا۔
علی وقار — مارچ 13، 2025 6:19 شام
محترمہ قرۃ العین حیدر سید سجاد حیدر یلدرم کی بیٹی تھیں اور 1958 میں ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد احتجاجاً واپس انڈیا چلی گئیں تھیں جو حالات ترقی پسند مصنفین کیخلاف پیدا کیے جاچکے تھے اُسی کے تحت انہوں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔ ان دنوں یہ لطیفہ خاصا مقبول تھا
" ایک ادیب کے گھر پولیس کا چھاپہ پڑا اور انہیں پولیس پکڑ کر لیجانے لگی کہ تم کمیونسٹ ہو تو وہ صاحب گھگیائے قسم لے لیجیے میں تو اینٹی کمیونسٹ ہوں تھانیدار نے گرفتار کرتے ہوئے کہا ہمیں ہر قسم کے کمیونسٹ پکڑنے کا آرڈر ہے۔"
بہت خوب۔