دلکش صاحب !
آپ کا یہ تبصرہ عمدہ ہے اور حقائق پر بھی مبنی ہے۔
ہم معذرت چاہتے ہیں اگر ہماری کوئی بات آپ کو ناگوار گزری ہو۔ درحقیقت یہ اڑوس پڑوس کی بات نہیں بلکہ وہی مذہبی رشتہ ہے جس کے سبب آپ اور ہم ایک مضبوط ڈور سے جڑے ہوئے ہیں۔
بات صرف اتنی تھی کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے ہاں کے کسی غیرمسلم ادیب و شاعر کے ہاتھ کوئی ثبوت آئے اور وہ اسے بتا بتا کے رونا روئے کہ دیکھو ، ان میں اور ہم میں کیا فرق کہ وہ بھی غصے میں برا لہجہ ہی اپناتے ہیں۔
اور پھر مشورہ تو اپنوں کو ہی دیا جاتا ہے نا بھائی۔

اینی وے ، ایک بار پھر معذرت۔
ارے نہیں بھائی۔۔میں خود تھوڑا سا جذباتی اوربے حد جلد باز ادمی ہوں۔۔پٹھان ھوں نا۔۔گرم مزاج۔لیکن ایک بات ہے کہ پٹھانوں کی طرح ضدی بلکل نہیں۔اور اپنی بات کو حرف اخرکبھی نہیں سمجھا۔۔جیسا کہ ایک پٹھان اپنی عمر بیس سال بعد بھی وہی بتاتا تھا جو کہ اتنے برس پہلے بتایا تھا۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ پٹھان کی ایک ہی بات ہوتی ہے۔ہاہاہا
بھائیوں دراصل میں معافی کا خواستگار ہوں کہ بہت سارے لوگوں کو میری بات سے تکلیف ہوئی۔
خوشحال بابا کا شعر ہے۔
ہم قلعہ دہ ہم بلا دہ خپلہ ژبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خہ ہغہ چہ تل کوی خوگے خبرے
ترجمہ۔۔اپنی زبان حفاظتی قلعہ بھی ہے اور خطرناک بلا بھی ھے
وہ اچھا ھے جو ہمیشہ شرین بیانی کرے۔
حیدرابادی بھائی۔۔
کھبی تشریف لائے انشااللہ حیدرابادی مطعم پر خیمہ کھلاؤنگا۔۔بہت شکریہ
اپکے اس شرین اور محبت بھرے مکتوب کےجواب میں ((وساطت سے)) قبلہ اعجاز اختر صاحب سے بھی معزرت کا طالب ہوں