چلیے ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا خیال آیا۔ اس میں ہم سب اپنے اپنے علاقوں میں ایسے الفاظ اور محاوروں کا ذکر کریں گے جو عموماً فصیح اردو میں نہیں ہیں۔
یوں تو میں اب حیدر آباد میں ہوں، اور یہاں کی حیدر آبادہ یا دکنی اردو کے اپنے محاورے اور صرف ہیں لیکن آج مجھے ایک بات ناگپور کی یاد آ گئ، اس سے شروع کرتا ہوں۔
ناگپور میں اردو ہندی بولنے والوں سے مثلاً آپ پوچھیں کسی بس سٹاپ پر کھڑے کسی آدمی سے کہ ’بھائی یہاں سے کوئی بس تاج آباد جاتی ہے؟‘
وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا ہے۔
’پچھلے ہفتے میں ایک بس سے ٹکرایا تو تھا، شاید جاتی ہے۔۔۔:‘
یہاں ٹکرانے کا مطلب انگریزی کے encounter سے ہے، یعنی میرے سامنے سے مذکورہ بس گزری تھی، یا میں نے راستے میں اسے دیکھا۔۔۔۔
جیہ — مئی 29، 2007 5:49 شام
گڈ آئیڈیا بابا جانی مگر میرے علاقے میں تو پشتو بولی جاتی ہے۔ مطلب میں کیسے حصہ لے سکتی ہوں؟
الف عین — مئی 30، 2007 5:57 صبح
جوجو، وہاں جب لوگ اردو بھی بولتے ہوں گے ضرورت کے تحت تو ان کی اردو میں پشتو کا اثر ضرور ہوگا۔ اس کا ذکر کرو یہاں۔
اب میں حیدرآباد کی اردو کے دو الفاظ کا ذکر کروں جو عام استعمال میں آتے ہیں اور اخباروں میں بھی لکھے جاتے ہیں بلکہ کچھ ادیب بھی استعمال کرتے ہیں۔
ٹپّہ ۔ بمعنی ڈاک، یہاں جی پی او پر بھی اردو میں لکھا ہے
صدر ٹپّہ خانہ
اور ایک لفظ
بلدیہ۔ بمعنی میونسپلٹی یا کارپوریشن
الف نظامی — مئی 30، 2007 6:02 صبح
گوجری زبان(کشمیر ، شمالی علاقہ جات میں بولی جاتی ہے) کی اردو سے مماثلت:
گوجری میں ایک لفظ تَم بولا جاتا ہے جسکا مطلب اردو میں تُم ہے۔
اسی طرح “تھارا“ جس کو مطلب اردو میں تمھارا ہے۔
آئیو جس کا مطلب اردو میں “آیا“ ہے۔
قیصرانی — مئی 30، 2007 7:31 صبح
سلسلہ تو بہت مزے کا ہے لیکن کل سے اب تک میں ایسا کچھ سوچ نہیں سکا جو ادھر شئیر ہو سکے۔ پسندیدگی ظاہر کرنے کے لئے آخر جواب لکھ ہی دیا
الف عین — جون 27، 2007 7:40 صبح
حیدر آبادی اردو۔۔۔۔۔۔۔جاری
اخبارات کی سرخیوں میں بھی اکثر لکھا جاتا ہے:
مسلمانوں کو ریزرویشن دئے جانے پیش رفت یہاں ’کے لیے‘ مستور ہے۔ بول چال میں بھی بولا جاتا ہے ’یہ کرنے اس کی ضرورت ہو گی‘۔ یوں درست اردو میں یہ اس طرح صحیح ہے کہ میں یہ کام کرنے جا رہا ہوں، یہاں بھی کے لیے حذف شدہ ہے، لیکن درست ہے
الف عین — جون 27، 2007 7:48 صبح
ایک اور دلچسپ فرق حیدر آبادی اردو میں
سربراہ
مطلب
سپلائ
مثال:
آج اس علاقے میں پانی سر براہ نہیں کیا جائے گا۔
بجلی کی سربراہی میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔
اعجاز — جون 29، 2007 10:14 صبح
پچنا! (بمعنی راس آنا)
‘جھوٹ کا مال مجھے پچتا ہی نہیں ہے‘ یہ ہمارے گھر میں عام طور پر بولا جاتا ہے اور ابھی کچھ دنوں پہلے میری ایک انڈین کولیگ جو کہ بہار سے تعلق رکھتی ہے نے بھی اپنے جملے میں استعمال کیا تھا۔
ساجداقبال — جون 29، 2007 10:20 صبح
اعجاز انکل ہندوستان والے الفاظ لکھتے وقت ہجے بھی تو دوسری طرح کرتے ہیں۔ دبئی میں کسی ہندوستانی اخبار میں دیکھا تھا۔۔۔
میچ کو میاچ
سچن ٹنڈولکر کو سیاچن ٹندولکر
اعجاز — جون 30، 2007 11:21 شام
تڑپنا (بمعنی پھلانگنا) اس نے دیوار تڑپ کر جان بچائ
یہ بھی ہمارے گھروں میں تو عام بولا جاتا ہے پر نارمل پاکستانی اردو میں نہیں۔ مقتدرہ قومی زبان کی جاری کردہ لغت میں بھی موجود ہے۔
الف عین — جولائی 3، 2007 9:06 صبح
اعجاز نے کہا:
پچنا! (بمعنی راس آنا)
‘جھوٹ کا مال مجھے پچتا ہی نہیں ہے‘ یہ ہمارے گھر میں عام طور پر بولا جاتا ہے اور ابھی کچھ دنوں پہلے میری ایک انڈین کولیگ جو کہ بہار سے تعلق رکھتی ہے نے بھی اپنے جملے میں استعمال کیا تھا۔
اعجاز پچنا در اصل ہندی لفظ ہے، بمعنی ہضم ہونا۔ اور جس طرح کہتے ہیں کہ یہ بات ہضم نہیںہوتی، سی طرح اکثر ہندی علاقے والے پچنا بھی استعمال کرتے ہیں۔ کچھ دور از کار معانی ’راس آنا‘ بھی اسی چرح ممکن ہیں۔
الف عین — جولائی 3، 2007 9:08 صبح
ساجداقبال نے کہا:
اعجاز انکل ہندوستان والے الفاظ لکھتے وقت ہجے بھی تو دوسری طرح کرتے ہیں۔ دبئی میں کسی ہندوستانی اخبار میں دیکھا تھا۔۔۔
میچ کو میاچ
سچن ٹنڈولکر کو سیاچن ٹندولکر
ساجد، سارے ہندوستانی نہیں، یہ حیدر آبادی خصوصیت ہی ہے، یہاں کے ہی کسی اخبار میں دیکھا ہوگا۔ انگریزی کے اے کا تلفظ ’یا‘ سے کرنے کا۔ لیکن سچن کو اگر ساچن لکھا دیکھا ہے تو یہ املا کی غلطی ہوگی۔
دوست — جولائی 3، 2007 2:17 شام
ہمارے ہاں ایک اصطلاح ڈنگ ٹپاؤ پالیسی بہت چلتی ہے اردو میں۔ ڈنگ ٹپانا پنجابی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے عارضی طور پر کسی چیز کا بندوبست کرنا۔ اسی طرح ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کا مطلب نکلا کہ کام چلاؤ بعد کی بعد میں۔
اعجاز — جولائی 3، 2007 9:05 شام
اعجاز اختر نے کہا:
اعجاز نے کہا:
پچنا! (بمعنی راس آنا)
‘جھوٹ کا مال مجھے پچتا ہی نہیں ہے‘ یہ ہمارے گھر میں عام طور پر بولا جاتا ہے اور ابھی کچھ دنوں پہلے میری ایک انڈین کولیگ جو کہ بہار سے تعلق رکھتی ہے نے بھی اپنے جملے میں استعمال کیا تھا۔
اعجاز پچنا در اصل ہندی لفظ ہے، بمعنی ہضم ہونا۔ اور جس طرح کہتے ہیں کہ یہ بات ہضم نہیںہوتی، سی طرح اکثر ہندی علاقے والے پچنا بھی استعمال کرتے ہیں۔ کچھ دور از کار معانی ’راس آنا‘ بھی اسی چرح ممکن ہیں۔
حیدرآبادی اردو۔۔۔
مزید کچھ
بخار
پلنگ
چکّر
قرآن
یہ الفاظ یہاں مؤنث استعمال کئے جاتے ہیں۔ جیسے
’آج ایسی بخار آئی کہ خوب چکّریں آئیں‘
فہیم — جولائی 4، 2007 6:58 صبح
سوچ رہا ہوں اگر میں نے کراچی میں استعمال ہونے والے الفاظ لکھ دیے۔
تو بچارے کافی لوگ تو سر پکڑ لیں گے۔
کیوں کے کراچی تو گڑ ہے نت نئے الفاظ بنانے کا جو اردو تو کیا دنیا کی کسی زبان کی ڈکشنری میں نہیں ملیں گے
اعجاز — جولائی 4، 2007 11:11 صبح
اگر روز مرہ استعمال کے ایسے الفاظ ہیں تو ضرور لیکھیں ۔ میرے خیال میں اعجاز صاحب نے اسی لیے تو شروع کیا تھا یہ تھریڈ