قرۃ العین طاہرہ کی مذکورہ غزل میں نے یہاں سے نقل کی ہے۔
متن اور ترجمہ کی صحت کی ذمہ داری جناب
محمد بلال اعظم پر، کہ ان کے بلاگ پر لکھا ہے۔
طاہرہ کی غزل کی اصل بحر تو ہے ’’فاعلتن مفاعلن فاعلتن مفاعلن‘‘ جس میں ’’فاعلتن‘‘ کی جگہ ’’فاعلات‘‘ لانا جائز ہے۔ جیسے اقبال کے ہاں ہے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گبندِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
۔۔
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب
طاہرہ کی منقولہ غزل میں کچھ شعروں کے مصرعِ ثانی البتہ بحرِ رجز مثمن سالم پر بھی پورے اترتے ہیں، بہ شرطیکہ ہم ان کو ’’اردو انداز‘‘ میں پڑھیں جو چنداں مفید نہیں ہو گا۔
جون ایلیا کے منقولہ اشعار کے بارے میں:
1۔ پہلے شعر کی املاء کو بارِ دگر دیکھ لیجئے۔
2۔ دوسرے شعر کا پہلا مصرع ’’فاعلن فاعلتن فاعلتن مفعولن‘‘ میں ہے، دوسرا مصرع طاہرہ کا ہے:۔
میرود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام
دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم ، چشمہ بہ چشمہ جوبجو