
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا ۔۔۔۔۔۔۔جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا ۔۔۔۔۔۔۔جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیامیرے عزیز وہ غزل گو کیوں نہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اقبال فلسفہ اسلام اور حقیقت پسندی کے علمبردار ہیں، حقیقت تلخ ہوتی ہے اور غزل میں تلخ زبان استعمال ہوئی ہو تو اکثریت اسے غزل تسلیم نہیں کرتی۔ بہرحال، اقبال کا غزل گو ہونا نہ ہونا ایک الگ بحث ہے جسے چھیڑنایہاں درست نہیں ہے۔۔۔سوال تھا اقبال شاعر ہیں یا نہیں، میرا جواب اس پر اثبات میں ہے۔ پھر سوال ہے کہ اساتذہ میں کس کس کا شمار کیاجائے۔ کیا اقبال کو مانا جائے کہ وہ شاعری کے استاد ہیں۔ ادب کا تقاضا ہے اور منطق کہتی ہے کہ مانا جائے۔ اقبال کو کوئی دلچسپی نہیں۔ اور ادب کے قدردانوں کا اس پر اختلاف ہے۔ میرا ذاتی خیال (جس سے آپ کو اختلاف کا پورا حق ہے) یہ ہے کہ اقبال شاعر نہیں تو کوئی بھی نہیں، پھر غزل کیا ، نظم کیا اور قطعات و رباعیات کیا، ادب کی پوری تاریخ کو بھی کوئی بھلا دے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔۔۔اقبال نے غزل کی زبان دوسری استعمال کی ہے، اسی طرح ان کی رباعیات بھی رباعی کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں۔۔۔ لیکن معانی اتنے بلند ہیں کہ ادب کے ناقدین نے اس طرف انگلی اٹھانے سے عام طور پر اجتناب ہی برتا ہے۔۔۔
میرا خیال ہے کہ ان اغلاط کے بارے میں گیان چند نے اپنی کتاب "ابتدائی کلامِ اقبال رحمۃ اللہ علیہ" میں اشارہ کیا ہے۔
پھر تو یقناً وصی شاہ بھی اساتذہ شعراء میں شمار ہو گا لیکن عقل کے لیے اس بات کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔
سو فیصد متفق
متفق۔
متفق۔ لیکن پھر تنویر سپرا بھی غزل گو شعراء میں شمار نہیں ہو سکتے حالانہ کہ اُن کے پاس تو باقادہ ٹھوس جواز موجود تھا اپنی تلخی کا۔
ٹھیک کہا۔
میری بھی یہی رائے ہے۔
اس پر تو وہی کہوں گا جو کہ ناصر صاحب نے کہا تھا
آپ نے یہ کہا ہے تو یقیناً کسی ٹھوس جواز کی بنیاد پہ ہی کہا ہو گا لیکن میں اپنی کم علمی کی وجہ سے اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔
اگر میں غلط نہیں ہوں تو ناسخ وہی ہیں، جو آتش کے دور میں تھے اور ان کا مقابلہ کرتے تھے شاعری میں۔
اب سمجھ آئی "استاد" کی تعریف شاعری میں۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%D8%B4%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%A1.58265/page-2