علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کی فتح الباری الشرح صيح البخاری پڑھنے والی ہے خاص طور پر مقدمہ
اس واقعے کے بارے علما کا کہنا ہے کہ یہ جملے رجز تھے، شعر نہیں ... نصوص میں یہ واضح ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کو شعر کی تعلیم نہیں دی گئی تھی.
اس واقعے کے بارے علما کا کہنا ہے کہ یہ جملے رجز تھے، شعر نہیں ... نصوص میں یہ واضح ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کو شعر کی تعلیم نہیں دی گئی تھی.
اسی کے آگے صاحب صراط الجنان جناب قاسم قادری صاحب صدر الافضل، مولانا نعیم الدین مرادآبادی کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ
ان شاء اللہ عنقریب ہم اس پر بھی گفتگو کریں گے اور ساتھ میں یہ بیان کریں گے کہ کیسے جناب سید دو عالم اصحاب کے اشعار کی اصلاح فرمایا کرتے تھے۔
خاص طورپر ردم یعنی لے کے حوالے سے جو نکات بیان کیے گئے ہیں وہ کمال کے ہیں۔
شعرا کے سر قلم کر دیئے جائیں
نہیں، ایٹم بم گرانا پڑے گا۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی کی طرح
علی وقار نے اسلام کے لحاظ سے پوچھا تھا آپ سیدھے مغرب کی تقلید پر اتر آئے
جوش سے یاد آیاکہ وہ اپنے بے باک خیالات کے باعث خاصی شہرت رکھتے تھے۔ ایک مشاعرے میں اپنا کلام سنانا شروع کیا تو ان کے جرات مندانہ خیالات سن کر فورا ایک جذباتی صاحب بولے:
لبرل لوگوں کا دور دورہ ہے اسی لیے انہی کے اصولوں چلیں گے۔
پھر بند کریں یہ لڑی اور لبرلزم کی بیعت کریں
یہ دلچسپ ہو گا لیکن میرا رجحان یہ ہے کہ کسی بھی رسول کے مقام سے یہ بہت فروتر ہے کہ وہ اشعار کی اصلاح جیسا کام بھی کرے۔
پہلی بات یہ ہے کہ یہ لڑی میں نے نہیں بنائی۔
عبدالرؤف بھائی! آپ برا مت منائیں. زیک کا ارادہ آپ کے ایمان پر حملہ کرنا بالکل نہ تھا.
جی، اس سے آگے کے مراسلے میں یہ ذکر بھی کیا ہے۔ شرح مسلم کے حوالے سے۔
ہمیں بھی پہلا کتابچہ اس موضوع پر یہی ہاتھ لگا تھا
درست فرمایا۔ میرا خیال ہے وہ شرکیہ یا موہم شرک اشعار کی (یعنی مضمون شعر کی) اصلاح کہنا چاہ رہے ہیں، وزن و قافیہ وغیرہ کی نہیں۔
لاجواب ۔۔۔ عمدہ اپنی نوعیت کے اعلی ترین اشعار کا انتخاب کیا ہے آپ نے بالخصوص عصر حاضر میں ان اشعار کی اشد ضرورت ہے۔