احباب’’مہم جوئیں‘‘ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ لگتا ہے باقی اشعارجوؤں کی نذر ہو گئے 
آپ بھی غزل کی مشاطہ گری میں شرکت فرمائیں کچھ ۔
آپ بھی غزل کی مشاطہ گری میں شرکت فرمائیں کچھ ۔
اس شعر میں حشو و زوائد کے بارے میں اساتذہ و ماہرین کی کیا رائے ہے؟
اس شعر کے معنی کا ابلاغ بھی مجھ تک نہ ہو سکا ۔۔۔ شاید ۔۔۔ غالبا شاعر کی مراد یہاں یہ ہے کہ وہ کسی ایسے احمق سے دل لگا بیٹھے ہیں جو محبت کی زبان نہیں سمجھتا!
مطلب دن میں دوست کی جو معیت میسر آتی ہے، اس کا خیال رات کی تاریکیوں کا سد باب کر نے کا سامان ہے؟؟؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ چھلانگ ’’مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو‘‘ سے تھوڑی ہی چھوٹی ہوگی
متروکات کے باب میں اگرچہ میں نے بسا اوقات دریدہ دہنی کا ارتکاب کرتے ہوئے ظہیر بھائی سے اختلاف کی جسارت کی ہے ۔۔۔ مگر شعر مذکورہ کے تناظر میں ان کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے کہ اب لفظ جوں بمعنی مثل یا مانند مفرد کہیں استعمال نہیں ہوتا۔۔۔ سو قوی امکان ہے کہ یہاں اکثر قاری اس کو جونہی پر قیاس کریں گے اور شعر کا مفہوم الجھ کر رہ جائے گا۔ ۔۔
مجھے آپ کے اس مراسلے کے جواب میں ظہیر بھائی کے جواب کا انتظار رہے گا۔
عاطف بھائی ، آپ كے اِس قول میں وزن ہے کہ ’جیوں‘ شاید ’جوں‘ سے بھی زیادہ متروک ہے . چند لغات ، جیسے مولوی عبدالحق اور فیروز الغات ، میں صرف ’جوں‘ ہے ، ’جیوں‘ نہیں ہے . دیگر لغات ، جیسے آن لائن اُرْدُو لغت ، میں دونوں شکلیں موجود ہیں . بہر حال ، جیسا میں نے عرض کیا ، مجھے ادھر ’جیوں‘ کئی بار نظر آیا ہے . معلوم نہیں کہ یہ اِس شکل کو زندہ کرنے کی دانستہ کوشش کا نتیجہ ہے یا کتابت کی غلطی کا .
ظہیر بھائی ، تفصیلی جواب کا بہت بہت شکریہ !
جاسمن صاحبہ ، اب شاید آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ زبان میں سَر سے کہیں زیادہ جوئیں ہوتی ہیں .
یہ سوال میرا بھی ہے۔ کبھی کبھی وزن پورا کرنا محال ہو جاتا ہے۔ اتنی علمی استعداد بھی نہیں ہوتی کہ بہت اچھا متبادل سامنے لایا جا سکے۔ تو کیا اکا دکا بھرتی کے الفاظ ڈال دیے جائیں تو یہ قابلِ معافی نہیں؟ ظہیراحمدظہیر بھائی، عرفان علوی بھائی، سید عاطف علی بھائی
یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ: جوئیں کھا گئیں تبصرے کیسے کیسے
مجھ کوں بھی سر میں یہ کھاج ہوا تھیں کبھو پھر میں اتنا مصروف ہو اکہ اب سر کھجانے کی فرصت نہیں
عرفان بھائی ، جدید شعرا کے ہاں لفظ جوں بمعنی جیسے کا استعمال مجھے شعوری کوشش سے زیادہ عجزِ کلام کا مظہر معلوم ہوتا ہے۔ اگر اس متروک لفظ کو شعوری طور پر زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی تو اس کی مثالیں نثر میں بھی نظر آتیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کچھ شاعر حضرات متبادل پیرایہ ڈھونڈنے کے بجائے وزن کی مجبوری کے باعث اس لفظ کو استعمال کرلیتے ہیں جیسا کہ زیرِ تبصرہ غزل میں عبدالرؤف صاحب نے کیا۔ اب اگر کسی اور فورم میں کہیں کوئی صاحب عبدالرؤف کا یہ شعر لے کر بطور مثال پیش کریں کہ دیکھئے یہ لفظ اب بھی استعمال ہوتا ہے تو اس مثال سے اس لفظ کے حق میں کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔
اچھا سوال پوچھا ہے آپ نے ، خواہرم صابرہ ! میں تو گاجر کے حلوے کی توقع کررہا تھا لیکن اس بار بھی سوال کے ساتھ قدم رنجہ فرمایا ہے آپ نے ۔ خیر ، حلوہ ادھار رہا ۔
احسن بھائی ، اس نششست میں آپ کو شریک دیکھ کر دلی خوشی ہوئی! یہ چراغ جو آپ جلارہے ہیں دیر تک اور دور تک روشنی دیں گے۔ ان شاء اللّٰہ۔
یہ سوال ایک پیچیدہ تصور کے اجمالی استفسار پر مبنی ہے جسے بیان کرنا قدرے نزاکت اور احتیاط کا متقاضی ہے ۔ اس سلسلے میں مجھے یہ بات اہم معلوم ہوتی ہے کہ وہ یہ ہے کہ اس امر کو سمجھا جائے کہ وہ جوہر دراصل ہے کیا جو کسی شعر کے خوب یا بلند ہونے میں کارفرما ہوتا ہے ۔
شعر میں الفاظ کی جبری بھرتی اچھے اور بڑے شاعر کے لیے ناقابل معافی ہی تصور کی جاتی ہے۔ مبتدی اور نو آموز شاعر بھرتی کے الفاظ ڈال کر اساتذہ کو ڈانٹ ڈپٹ کا موقع فراہم کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے یہ روا ہے۔