امجد میانداد — فروری 15، 2013 4:47 شام
چاوہ، نا تعلق ام مستونگ آنے۔ صحیح؟
آ خا، ایلم

کنا خیال اے دیگر محفلین نا خیال بعض ضروری اے کہ ہر بندغ براہوی پو مفک۔
لیکن میں شاید 2 بار مستونگ گیا ہوں۔
میرے کچھ دوست اور ایک عزیز رہتے تھے مستونگ۔ دہائیاں گزر گئیں،
میرے دوستوں میں (محمود، ان کا چھوٹا بھائی عرفان، عمران)وغیرہ اور گاؤں ہی کے ایک تھے جن کی ایک بیکری تھی مکہ بیکری کے نام سے۔
ذوالقرنین — فروری 15، 2013 4:57 شام
بہت شکریہ امجد بھائی!
آپ شاید حاجی نذیر کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ مکہ بیکری انہی کا تھا اور اس بیکری کے کیک بلوچستان سے باہر بھی بہت مشہور تھے۔
امجد میانداد — فروری 15، 2013 5:02 شام
بہت شکریہ امجد بھائی!
آپ شاید حاجی نذیر کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ مکہ بیکری انہی کا تھا اور اس بیکری کے کیک بلوچستان سے باہر بھی بہت مشہور تھے۔
جی بالکل۔ وہ ہمارے عزیز ہیں۔
کیا آپ میرے دوستوں کو بھی جانتے ہیں۔ وہ دراوڑ تھے اور شاید محمود نے کوئی میڈیکل وغیرہ کھول لیا تھا وہاں مستونگ کے مین اڈے میں۔
ذوالقرنین — فروری 15، 2013 5:21 شام
اف امجد بھائی! آپ نے یہ کیا کیا؟ آپ نے مجھے میرے مہربان، مشفق اور باپ جیسے استاد سر جاوید صاحب کی یاد دلا دی۔ ظالموں نے اسے بڑے بے رحمانہ طریقے سے شہید کر دیا تھا۔ اس کے شہادت کا واقعہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔
امجد میانداد — فروری 15، 2013 5:33 شام
اف امجد بھائی! آپ نے یہ کیا کیا؟ آپ نے مجھے میرے مہربان، مشفق اور باپ جیسے استاد سر جاوید صاحب کی یاد دلا دی۔ ظالموں نے اسے بڑے بے رحمانہ طریقے سے شہید کر دیا تھا۔ اس کے شہادت کا واقعہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔
جاوید !! شاید محمود کے بڑے بھائی کا نام تھا پر مجھے ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا۔
ذوالقرنین — فروری 15، 2013 5:55 شام
جی بالکل! محمود کا بڑا بھائی اور ہمارا مشفق استاد تھا۔ چھٹی سے نویں تک ہمارے سکول، ہائی سکول محمد شہی میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ بعد میں ڈسٹرکٹ آفیسر مستونگ کے عہدے پر تعینات ہو گئے۔ سر جاوید صاحب کا بیٹا نعمان میرا دوست تھا جو فٹ بال کا بہت اچھا کھلاڑی تھا اور واپڈا ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کھیلتا تھا۔
زین — فروری 15، 2013 6:14 شام
بہت خوب ۔ ذوالقرنین بھائی۔
میرے پاس بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ براہوی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر صاحب کی ایک براہوی کتاب کے اردو ترجمہ کا کچھ حصہ کمپوز شدہ موجود ہے ۔کتاب ہندوستان کے سفر نامے اور براہوی زبان کے درواڑی زبان سے تعلق کے بارے میں ہے ۔ اردو ترجمہ ’’کوئٹہ سے کنیا کماری تک‘‘ کے نام سے چھپا ہے ۔ مترجم اور مصنف سے اجازت ملی تو انشاء اللہ شیئر کروں گا۔
زین — فروری 15، 2013 6:15 شام
کاشف عمران صاحب
خوش آمدید
ماشاء اللہ۔ محفل میں بلوچستانیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ۔

ذوالقرنین — فروری 15، 2013 6:38 شام
بہت خوب ۔ ذوالقرنین بھائی۔
میرے پاس بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ براہوی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر صاحب کی ایک براہوی کتاب کے اردو ترجمہ کا کچھ حصہ کمپوز شدہ موجود ہے ۔کتاب ہندوستان کے سفر نامے اور براہوی زبان کے درواڑی زبان سے تعلق کے بارے میں ہے ۔ اردو ترجمہ ’’کوئٹہ سے کنیا کماری تک‘‘ کے نام سے چھپا ہے ۔ مترجم اور مصنف سے اجازت ملی تو انشاء اللہ شیئر کروں گا۔
بہت بہت منت وار
زین بھائی! میں منتظر رہوں گا۔
نامعلوم اول — فروری 15، 2013 6:42 شام
چاوہ، نا تعلق ام مستونگ آنے۔ صحیح؟
مستونگیک کل اسہ جاگہ اٹ جمع مسن او۔ دا انڈیا نا سازش خو افک؟
نامعلوم اول — فروری 15، 2013 6:49 شام
کاشف عمران صاحب
خوش آمدید
ماشاء اللہ۔ محفل میں بلوچستانیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ۔
شکریہ زین بھائی۔ چلیں انٹرنیٹ کے ذریعے ہم نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں! لوگ تو یہ سمجھتے تھے کہ شاید ہم غاروں میں رہتے ہیں۔ میں حالات کی وجہ سے راولپنڈی آ گیا ہوں۔مگر دل اب بھی وہیں ہے۔ ایک بات ماننے والی ہے کہ یہاں کے لوگوں میں تعصب نہیں اور انھوں نے بلوچستان سے آنے والوں کو کبھی اجنبی ہونے کا احساس نہیں دلایا۔ ہم تو بڑی آسا نی سے یہاں کے سسٹم کا حصہ بن گئے۔ ایک لمحے کے لیے نہیں لگا کہ ہم مہاجر ہیں۔ کاش سارے پاکستان میں ایسا ہو جائے اور جس کا جہاں جی چاہے جا کر رہے۔ میں تو فورا مستونگ چلا جاؤں گا۔
امجد میانداد — فروری 15، 2013 6:52 شام
جی بالکل! محمود کا بڑا بھائی اور ہمارا مشفق استاد تھا۔ چھٹی سے نویں تک ہمارے سکول، ہائی سکول محمد شہی میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ بعد میں ڈسٹرکٹ آفیسر مستونگ کے عہدے پر تعینات ہو گئے۔ سر جاوید صاحب کا بیٹا نعمان میرا دوست تھا جو فٹ بال کا بہت اچھا کھلاڑی تھا اور واپڈا ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کھیلتا تھا۔
ذوالقرنین بھائی محمود میرا ہم عمر یعنی کوئی 32 ، 33 سال کا ہو گا، تو اس سے بڑے ہارون بھائی تھے جو حافظ قرآن تھے اور ان سے بڑے ایک بھائی تھے ان کا مجھے نام نہیں یاد آ رہا۔ وہ اتنے بڑے نہیں ہوں گے کہ ان کے بیٹے آپ کے ساتھ فٹ بال کھیلتے ہوں۔ انتہائی مذہبی اور تبلیغی گھرانہ تھا۔ محمود سے چھوٹا عرفان بھی مدرسہ کا طالب علم تھا اور شاید حفظ کر رہا تھا تب۔ محمود نے میڈیسن کا کام سیکھ کر مستونگ کے اڈے میں ایک میڈیکل کھولا تھا شاید ۔ ان کے والد امین لودھی صاحب تھے ۔ امین ہی نام تھا میرا خیال ہے اور قوم لودھی تھی۔
ذوالقرنین — فروری 15، 2013 6:53 شام
مستونگیک کل اسہ جاگہ اٹ جمع مسن او۔ دا انڈیا نا سازش خو افک؟
ترجمہ: سارے مستونگی ایک ہی جگہ پر جمع ہیں۔ کہیں یہ انڈیا کی سازش تو نہیں؟
کاشف بھائی! خدا کا خوف کریں۔ آہستہ بولیے نہیں تو تھوڑی ہی دیر میں سیاسی بھائیوں کی یلغار ہوگی یہاں۔ بعد میں
انٹیلی جینس والے بھی آ دھمکیں گے۔ ہمارے صحافی بھائی
زین بھی کوریج کے لیے پہلے سے ہی براجمان ہے۔ آخر میں رحمان ملک بھی اس دھاگے پر بین لگانے پہنچ جائے گا یا منتظمین کو مقفل کرنے کا حکم دیگا۔

امجد میانداد — فروری 15، 2013 6:54 شام
مستونگیک کل اسہ جاگہ اٹ جمع مسن او۔ دا انڈیا نا سازش خو افک؟
راس پا ریٹ ایلم
ذوالقرنین — فروری 15، 2013 6:59 شام
ذوالقرنین بھائی محمود میرا ہم عمر یعنی کوئی 32 ، 33 سال کا ہو گا، تو اس سے بڑے ہارون بھائی تھے جو حافظ قرآن تھے اور ان سے بڑے ایک بھائی تھے ان کا مجھے نام نہیں یاد آ رہا۔ وہ اتنے بڑے نہیں ہوں گے کہ ان کے بیٹے آپ کے ساتھ فٹ بال کھیلتے ہوں۔ انتہائی مذہبی اور تبلیغی گھرانہ تھا۔ محمود سے چھوٹا عرفان بھی مدرسہ کا طالب علم تھا اور شاید حفظ کر رہا تھا تب۔ محمود نے میڈیسن کا کام سیکھ کر مستونگ کے اڈے میں ایک میڈیکل کھولا تھا شاید ۔ ان کے والد امین لودھی صاحب تھے ۔ امین ہی نام تھا میرا خیال ہے اور قوم لودھی تھی۔
پھر تو آپ اغلباؐ کسی اور محمود کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ مستونگ اڈے میں کافی سارے میڈیکل اسٹورز تھے بلکہ تین چار اب بھی ہیں۔ اگر آپ اس کے میڈیکل اسٹور کا نام بتا سکے تو شاید میں پہچان جاؤں۔ میں نے جس محمود کے متعلق لکھا، اس کے میڈیکل اسٹور کا نام بھی محمود میڈیکل اسٹور تھا اور بہت مشہور تھا۔ سر جاوید صاحب اس کے بڑے بھائی تھے اور وہ کشمیری تھے۔
ذوالقرنین — فروری 15، 2013 7:03 شام

راس
ت پاری
س ایلم
نامعلوم اول — فروری 15، 2013 7:05 شام

راس
ت پاری
س ایلم
تو من شدی، من تو شدم۔
امجد میانداد — فروری 15، 2013 7:07 شام

راس
ت پاری
س ایلم
دراصل راست کا ت تو تقریباََ سائلنس ہی ہوتا ہے۔ ہاں میں ان کے بارے میں کہہ رہا تھا اس لیئے مجھے پاریٹ کے بجائے پاریس لکھنا چاہیے تھا۔
عزیز آبادی — فروری 27، 2014 5:37 شام
برادر من ذوالقرنین۔۔۔۔۔۔۱ براہوئی زبان ادب سے متعلق آپکی قابل قدر کاوشیں یقینًا خراج تحسین کے مستحق ہیں، امیس ہے کہ آپ آئیندہ بھی آپ اپنے بے پناہ خدادا صلاحیت کو بروےکار لاتے رہنگے۔ انشااللہ
عزیز آبادی — فروری 28، 2014 5:25 شام
برادرم ذوالقرنین ۔۔۔ آپکی کاوشیں براہوئی ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے