انس معین — مئی 24، 2019 6:16 شام
والد کے نام کا احمد لے کر نام میں جوڑ لیں اور عبد اللہ احمد کے نام سے شاعری کریں۔ تخلص کی ضرورت نہیں سمجھتا میں ۔ ایک اور نئی آئ ڈی بنا کر ادا اور انس کی آئ ڈی مرج کروا لیں
ابن سعید سے کہہ کر
جی استاد محترم ۔ بہت شکریہ۔ میں ابن سعید بھائی کو میسیج کرتا ہوں ۔ نام کی تبدیلی کا ۔۔
انس معین — مئی 24، 2019 6:28 شام
تمام احباب کی رائے قابل احترام ہے اور وارث بھائی کا تجویز کردا تخلص بھی بہت کمال لگا ۔۔
مگر میری یہ دلی خاہش تھی کے استاد محترم کوئی نام تجویز کریں ۔۔
سید عاطف علی — مئی 24، 2019 6:35 شام
ادا تو مونث اسم ہے اور اسی لیے ایک مشہور شاعرہ کا تخلص تھا۔۔۔ "ادا جعفری"
اور اگر سندھی میں شاعری کرنی ہو تو ادا بہترین ہے ۔
انس معین — مئی 24، 2019 6:38 شام
اور اگر سندھی میں شاعری کرنی ہو تو ادا بہترین ہے ۔
میں خود سرائیکی ہوں اس لیے رکھا تھا اسی لیے مونث ہونے کا احساس بھی نہیں ہوا ۔۔ لیکن اردو شاعری کے لیے کچھ مناسب نہیں لگا
فاخر — مئی 24، 2019 7:32 شام
تخلص میں کیا جھنجھٹ ہے؟ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ :’لوگ یہ سوچتے ہیں کہ تخلصؔ ایسا بھاری بھرکم ہو اس سے قد کا اشارہ ملے‘جب کہ ایسا نہیں ہے۔ آپ کی شاعری آپ کو بڑا بنائے گی۔ شاعر مشرق اقبال کا کوئی الگ سے تخلص نہیں ہے؛لیکن ان کی شاعری ان کو شاعر مشرق بناتی ہے۔ در اصل یہ ایک فیشن ہے اور کم از کم میں اس فیشن کا قائل نہیں ہوں۔ الف عین مدظلہ العالی اور خلیل صاحب کی رائے پر ایک مرتبہ غور کرلیجئے گا۔
سردست میں’فاخر‘ کا قائل نہیں ؛لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں بحر میں ’’افتخار‘‘ کو آسانی سے ڈھال نہیں پاتا تھا ؛بناء بریں میرے استاد محترم (اللہ تعالیٰ انہیں خیر و عافیت سے رکھیں،آمین )جن سے قافیہ ردیف اور کچھ بحروں کا علم حاصل کیا تھا،انہوں نے ایک دن جوش میں آکر کہا کہ:’بیٹے فاخرؔ ! اور بتاؤ کیسے آنا ہوا؟‘ میں ہکا بکا یہ نیا ماڈرن نام اور وہ بھی ایک ہی مصدر سےمشتق! کیا بات ہے؟ پھر کہنے لگے کہ:’ میں نے تمہارے لیے ’افتخار‘ کی جگہ ’’فاخرؔ‘‘ تجویز کیا ہے تم بتاؤ تمہیں کیسا لگا؟ میں نے عرض کیا آپ کا حکم سرآنکھوں پر ! پھر اس دن سے ’’فاخر‘‘ استعمال کرنے لگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ:’لفظ افتخار کے بجائے’’فاخر‘‘ استعمال کرنے میں آسانی ہوتی ہے‘۔ویسے دیگر اساتذہ کرام ہیں ان کا مشورہ مفید تر ہوگا۔
فاتح — مئی 24، 2019 8:45 شام
میں خود سرائیکی ہوں اس لیے رکھا تھا اسی لیے مونث ہونے کا احساس بھی نہیں ہوا ۔۔ لیکن اردو شاعری کے لیے کچھ مناسب نہیں لگا
عاطف بھائی کا مطلب وہ نہیں تھا کہ سندھی میں ادا ان معنوں میں مذکر ہوتا ہے۔ ان کا مطلب تھا کہ سندھی میں "ادا" بمعنی بھائی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ادا گالھ بدھ ہیڈاں اچ۔۔۔ کیڈھاں پیو ونجھیں؟
فاتح — مئی 24، 2019 8:49 شام
سردست میں’فاخر‘ کا قائل نہیں ؛لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں بحر میں ’’افتخار‘‘ کو آسانی سے ڈھال نہیں پاتا تھا ؛
ویسے تو افتخار عارف نے پورا نام بھی شعر میں برتا ہے لیکن "بے وزن"۔۔۔ افتخا ۔۔۔ رارف۔۔۔ بنا کے۔
تم بھی افتخار عارف
بارہویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہو جائے
جس میں سانحہ ہو جائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاؤ گے
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے
انس معین — مئی 24، 2019 8:53 شام
عاطف بھائی کا مطلب وہ نہیں تھا کہ سندھی میں ادا ان معنوں میں مذکر ہوتا ہے۔ ان کا مطلب تھا کہ سندھی میں "ادا" بمعنی بھائی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ادا گالھ بدھ ہیڈاں اچ۔۔۔ کیڈھاں پیو ونجھیں؟
سرائیکی میں بھی بڑے یا بھائی کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے ۔۔۔
فہد اشرف — مئی 24، 2019 9:50 شام
انس معین کا نام دیکھ کر مجھے بھی اس نو مرگ شاعر کی یاد آئی کہ انس معین دوبارہ کہاں پیدا ہو گیا؟ عبد اللہ ادا کی غزلوں کی اصلاح کرتے وقت سوچا تھا کہ کہوں کہ زنانہ تخلص کیوں رکھا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ دونوں آئ ڈی ایک ہی شخص کی ہیں!
ان کا نام آنس معین نہیں تھا؟
الف عین — مئی 25، 2019 6:33 صبح
ان کا نام آنس معین نہیں تھا؟
پڑھا تو میں نے بھی آنس معین ہی تھا لیکن شک ہوا کہ شاید ٹائپو ہو اور درست انس ہی ہو
انس معین — مئی 25، 2019 12:58 شام
ان کا نام آنس معین نہیں تھا؟
پڑھا تو میں نے بھی آنس معین ہی تھا لیکن شک ہوا کہ شاید ٹائپو ہو اور درست انس ہی ہو
جی ان کا نام آنس معین ہی تھا