بالکل یہی بات درست ہے کہ سالم اور محذوف کو ایک دوسرے کے مقابل لانا عروضی طور پر غلط ہے۔ لیکن یہاں اس بات کا خیال بھی ضروری ہے کہ شعر کہنے والا کون ہے۔۔۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قوانین کی پابندی مبتدی کے لیے ہے۔ منتہی کے لیے ان پابندیوں کا اختیار کرنا اور ان پابندیوں میں اپنی طرف سے گنجائش نکالنا اس بات کا بڑا حصہ کسی استاد، یا ماہر فن کی صوابدید پر بھی ہے۔
اب دیکھو اردو نحوی تراکیب میں اگر کوئی مبتدی سیکھنے والا سیکھنے آئے تو اسے اصول سکھائے جاتے ہیں یا فروعات؟ میرے خیال میں کسی بھی فن کے فروعات سکھائے نہیں جاتے بلکہ وقت کے ساتھ خود ہی ان پر دسترس حاصل ہوجاتی ہے۔
ایک مثال لو :
1۔ میں لاہور جا رہا ہوں
2۔ میں جا رہا ہوں، لاہور۔
3۔ لاہور جا رہا ہوں۔
یہ ایک ہی جملہ ہے لیکن پہلا جملہ جس قدر درست ہے باقی اتنے درست نہیں ہیں۔ اور جس نے اردو گرائمر کو ابھی پڑھنا شروع ہی کیا ہو وہ دوسرے اور تیسرے جملے کی ترکیبی نوعیت کیا جانتا ہے؟ ہم خود ہی اردو میں کس قدر تصرفات سے کام لیتے ہیں۔ خصوصاً شاعری میں، وہاں گرائمر کہاں جاتی ہے؟ اگر تھوڑا غور سے سوچیں تو معلوم ہوگا کہ جب انسان کسی فن پر مکمل دسترس حاصل کرلے تو اسے قوانین کی ضرورت نہیں رہتی۔ پھر عروض تو ویسے بھی شاعری میں ثانوی درجہ رکھتا ہے۔ تو اساتذہ پر اعتراض کرنا میرے نزدیک درست نہیں۔ اور وہ بھی اس وقت جب ایک شاعر نے اپنے لیے غزل میں بحر کے استعمال کا طریقہ متعین کرلیا ہو، وہ پہلے ہی بتا رہا ہو کہ میں سارے غیر مقفی مصرعے سالم میں اور مقفی محذوف میں رکھوں گا۔ یہاں تو لوگ نثر کو شاعر کہہ دیتے ہیں تو منیر نے کوئی گناہ تو نہیں کیا۔

یہ علٰیحدہ بات ہے کہ کوئی ایک مصرع سالم کی جگہ محذوف میں جا پڑتا، یا محذوف کی جگہ سالم میں جا پڑتا۔ یا آدھی غزل محذوف اور چند مصرعے سالم وغیرہ کے ہوتے تو یہ کہنا بنتا تھا کہ غلطی ہوئی ہے۔
ہاں آپ اگر غالب پر اعتراض کریں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں کہ انہوں نے اس رباعی میں وزن کی غلطی کی ہے اور رباعی کا دوسرا مصرع خارج از وزن ہے::
دُکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب
دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سوگند ہو گیا ہے غالب