محمد نثار علی
شہرت ، غالب کی ایک ملاقات کا حال لکھتے ہیں:
ایک روز میں مرزا غالب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ کھانا نوش فرما رہے تھے۔ میں مودب ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ آپ نے ایک رنگ ترہ میری طرف پھینکا کہ اس سے شغل کیجیے۔ چوں کہ رمضان کا مہینہ تھا اور مجھے روزہ تھا۔ میں نے اس رنگترہ کو ہاتھ نہیں لگایا ، آپ تاڑ گئے اور فرماتے کیا ہیں:
ہاں ! آپ مولوی آگئے ہیں
میں ہنسا تو آپ بھی مسکرانے لگے ، جب آپ کھانا نوش فرما چکے تو جو قلمی رسالہ آپ کے سامنے رکھا تھا اس میں کچھ بنانے لگے ، غالبا اصلاح دے رہے تھے۔ میں نے گذارش کی
جناب کیا ارقام فرما رہے ہیں؟ تو فرمانے لگے :
اس میں فارسی الفاظ بہت ٹھونس دیے گئے ہیں اس لیے انہیں نکال رہا ہوں اور شستہ الفاظ اس میں ڈال رہا ہوں
میں نے ادب کے ساتھ گذارش کی
آپ کا دیوان بھی تو فارسی سے مالا مال ہے
فرمانے لگے
وہ جوانی کی نازک خیالیاں ہیں ،
شہرت بعض شعر تو ایسے ادق میرے قلم سے نکل گئے ہیں کہ میں اب ان کے معنی خود نہیں بیان کر سکتا۔
پھر فرمانے لگے
دہلی والوں کی جو اردو ہے ( جس کو مشک و عنبر کہنا چاہیے ) اس کو ہی اشعار میں لکھنا چاہیے ، آخر عمر میں ہماری تو یہی رائے قائم ہوئی ہے۔
( احوالِ غالب از پروفیسر مختار الدین احمد ، صفحہ 22 )آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا