عروضی مسائل تو میری سمجھ سے بہت اوپر کی چیز ہیں سرکار۔ لیکن یہ شعر بہت پسند آیا۔۔۔۔
خامیاں اپنی کسی طور نظر آئیں تجھے
حق کسی روز تجھے تیرا تماشا ئی کرے
آپ کی داد ہو یہ تنقید بندے کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب ہے مصرعہ میں خطاب دل سے تھا تو "اپنی " کی جگہ اگر" تیری " آ جائے تو ثقالت دور ہو جاتی ہے یہ نہیں
استاد محترم آپ کی تحریر پر تنقیدی تبصرہ کرنا اس قدر دشوار ہے کہ مجھ سے کم علم کے لیے قریب قریب ناممکن ہے۔
اس غزل کی خوبصورت بات ہے کہ اس میں کوئی عروضی مسئلہ نہیں۔ اگرچہ فاضل شاعر خود کو نوآموز کہتے ہیں۔ میری ان سے ذاتی شناسائی بھی ہے۔
تکرار کی صورت بنے گی ۔۔ تیرے تجھے تجھے تیرا ۔۔ دیکھ لیجئے، جیسے مناسب ہو۔
خطاب اپنے آپ سے ہے اور دوسرے مصرعہ پر آپ کی رائے مری ناقص عقل میں نہیں آئی
ع: ۔۔ ۔۔ جو مزاجِ یار میں آئے
نوازش اور شکریہ بات سمجھانے کے لیے
مطلب واضح ہوتا تو ایسا کہنے کی نوبت ہی نہ آتی، حضرت! مطلب ہی تو واضح نہیں ہے۔ اور وہ آپ کے کرنے کا کام ہے۔
حضور ناراض ہونا اور وہ بھی آپ سے نہ مجھے منظور نہ ہی وارا کے سیکھنا ہی آپ سے ہے
جی یہ ہوئی نہ بات اب سمجھ میں آیا اور کسی کو پسند آئے مجھے آپ کا یہی انداز پسند آیا
جی یہ ہوئی نہ بات اب سمجھ میں آیا اور کسی کو پسند آئے مجھے آپ کا یہی انداز پسند آیا
جناب محترم نیرنگ خیال صاحب پذیرائی کا شکریہ
استاذِ محترم آپ کی گراں قدر رائے کا بے حد شکریہ
بہت اچھی غزل پیش کی ہے آسی بھائی نے اس کےمجموعی لہجے کا تاثر شستہ ، دھیما اور کسی قدر پختہ بھی لگ رہا ہے ۔ البتہ بیان اور اسلوب کہیں کہیں تخیل اور نفسِ مضمون کو مکمل گرفت میں نہیں لے رہا ۔کہیں بیانیہ زبان کے مھاورے سے ہٹنے کی وجہ سے یا کہیں تراکیب کی تقدیم و تاخیر کی وجہ سے۔۔۔۔
محترم جناب سید عاطف علی صاحب آپ کی گراں قدر رائے بارے میری غزل کے مجھ نو آموز کے لئے مسرت کا با عث ہے بے حد شکریہ

ہا ہا ہا ہا ہا ---
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%82%D8%AF-%D9%88-%D9%86%D8%B8%D8%B1.78618/page-8