روحانی بابا
ایک تصحیح معذرت کے ساتھ ۔ ۔ ۔
ستا پہ اننگو کے د حمزہ د وینو سرہ دی
تہ شوے د پختو غزلہ زوان، زہ دے باباکڑم
یہ حمزہ بابا کی ایک بہت ہی بہترین غزل کا شعر ہے
غزل کا مطلع کچھ یوں ہے کہ ۔ ۔
پریگدہ چہ لوظونہ د دروغو د رختیا کڑم
تہ راتہ سبا سبا کوہ،زہ بہ بیگا کڑم
بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے ماضی(1988 تا 1990) ایک فلم کی رفتار سے نگاہوں میں گھومنے لگا مجھے ستار شاہ بادشاہ (ڈبگری گارڈن پشاور شہر) کا عرس یاد آنے لگا وہ آستانہ وہ خانقاہ وہ لوگ نہ جانے کدھر چلے گئے۔
بساطِ بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی
فضا خموش ، سُبُو چپ ، اداس پیمانے
نہ اب وہ جلوہ یوسف نہ مصر کا بازار
نہ اب وہ حسن کے تیور ، نہ اب وہ دیوانے
نہ حرفِ حق ، نہ وہ منصور کی زباں ، نہ وہ دار
نہ کربلا ، نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے
نہ با یزید ، نہ شبلی ، نہ اب جنید کوئی
نہ اب و سوز ، نہ آہیں ، نہ ہا و ہو خانے
خیال و خواب کی صورت بکھر گیا ماضی
نہ سلسلے نہ وہ قصے نہ اب وہ افسانے
نہ قدر داں ، نہ کوئی ہم زباں ، نہ انساں دوست
فضائے شہر سے بہتر ہیں اب تو ویرانے
بدل گئے ہیں تقاضے مزاجِ وقت کے ساتھ
نہ وہ شراب ، نہ ساقی ، نہ اب وہ میخانے
(نصیرگولڑوی)
حمزہ خان شینواری کی یہ مشہور زمانہ غزل متعدد بار دربارعالیہ ستاریہ میں قوالی کے اسلوب میں سماعت کی ہے اور ان کے مرید خاص رفیق شینواری کی زبانی ہی سنی ہے آپ کی تصحیح بالکل درست ہے۔
کچھ اشعار آپ کے ذوق لطیف کے نذر
خہ د ما تہ چی داسے پریدے پریدے اخکارےگی
ستا ہُم دے ادا خو زہ ستا سرہ اشنا کڑم
پام لرمہ دا چی دا ماضی نا خراج واخلم
ز بہ پخوانے شمہ ستا مینہ بہ پخلا کڑم
ستا دا طوفانی نظر بہ سا شی لنڈا گنڈہ
داسے نوئی نوئی اسیلی درلہ پیدا کڑم
لا یم دا سپین مخ خالونہ شمارمہ اوزگار نہ یم
پریدہ الوتنہ دا سپوگمی پہ لوری بیا کڑم
یو تہ اے چی قدر ہیس زما دا اخکو نہ کڑے
وایا کانہ سومرا مشتری در لہ پیدا کڑم
خوش رہیں آباد رہیں