آج کا شعر

شمشاد — نومبر 26، 2020 4:08 صبح
مجھ میں سات سمندر شور مچاتے ہیں
ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے
ساقی فاروقی
شمشاد — نومبر 26، 2020 4:09 صبح
وہ کم سخن تھا مگر ایسا کم سخن بھی نہ تھا
کہ سچ ہی بولتا تھا جب بھی بولتا تھا بہت
اختر ہوشیارپوری
شمشاد — نومبر 26، 2020 4:09 صبح
جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئی
وقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں
محسن زیدی
شمشاد — نومبر 26، 2020 9:34 صبح
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر
عنایت علی خاں
شمشاد — نومبر 27، 2020 3:37 صبح
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
خالد معین
شمشاد — نومبر 27، 2020 3:37 صبح
پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے
بشیر بدر
شمشاد — نومبر 27، 2020 3:37 صبح
کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا
کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں
عبرت مچھلی شہری
شمشاد — نومبر 27، 2020 3:38 صبح
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے
مخدومؔ محی الدین
لاريب اخلاص — نومبر 27، 2020 7:13 صبح
وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں
طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا
وزیر آغا
شمشاد — نومبر 27، 2020 9:12 صبح
جو مل گئے تو تونگر نہ مل سکے تو گدا
ہم اپنی ذات کے اندر چھپا دیے گئے ہیں
(میر احمد نوید)
سیما علی — نومبر 28، 2020 1:19 شام
وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا
جو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہوا
حیدر علی آتش
شمشاد — نومبر 28، 2020 3:01 شام
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

ناصر کاظمی
لاريب اخلاص — نومبر 28، 2020 4:50 شام
یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
فیض احمد فیض
لاريب اخلاص — نومبر 28، 2020 4:53 شام
رفتہ رفتہ تھم گیا مانوس آوازوں کا شور
دل میں یادیں, ڈائری میں فون نمبر رہ گئے
سید مبارک شاہ
شمشاد — نومبر 28، 2020 5:20 شام
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
فراق گورکھپوری
سیما علی — دسمبر 2، 2020 2:17 شام
فسانہ جبر کا یاروں کی طرح کیوں مجروحؔ
مزہ تو جب ہے کہ جو کہیے برملا کہیے!!!!!!
مجروح سلطانپوری
شمشاد — دسمبر 2، 2020 6:04 شام
قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی
آشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھا

آسی الدنی
سیما علی — دسمبر 3، 2020 7:29 شام
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔۔
مصطفیٰ زیدی
شمشاد — دسمبر 3، 2020 8:17 شام
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے
احمد فراز
لاريب اخلاص — دسمبر 4، 2020 12:59 شام
وقت رکھتا ہے جو سنبھال کے لوگ
ڈھونڈ کر لا وہی کمال کے لوگ
احمد امیر پاشا
صفحات: 1 2 3 4 5 6

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AC-%DA%A9%D8%A7-%D8%B4%D8%B9%D8%B1.114043/