آرزوئے دید

محمد زکریا شاکر — دسمبر 13، 2015 8:07 صبح
میں آرزوئے دید کے کِس مرحلے میں ہوں؟
خود آئینہ ہوں یا میں کسی آئینے میں ہوں
رہبر نے کیا فریب دیئے ہیں مجھے نہ پوچھ
منزل پہ ہوں نہ اب میں کسی راستے میں ہوں
اِس دم نہیں ہے فرق ، صبا و سموم میں
اِحساس کے لطیف سے اِک دائرے میں ہوں
تیرے قریب رہ کے بھی تھا تجھ سے بے خبر
تجھ سے بچھڑ کے بھی میں تیرے رابطے میں ہوں
واصف مجھے ازل سے ملی منزلِ ابد
ہر دور پر محیط ہوں جِس زاویے میں ہوں.
سید عاطف علی — دسمبر 13، 2015 8:15 صبح
بہت اچھی غزل ہے ۔ واہ
محمد زکریا شاکر — دسمبر 13، 2015 8:36 صبح
حوصلہ افزائی پر جناب کا شکرگزار ہوں
ادب دوست — دسمبر 13، 2015 10:43 صبح
بہت خوب بہت خوب بھئی کیا کہنے۔۔
حضور اپنا تعارف بھی کرادیں۔
محمد زکریا شاکر — دسمبر 13، 2015 11:23 صبح
بندہ کی ہستی لائق تعارف نہیں. بس ایک دینی مدرسے کا طالب علم ہوں.
ادب دوست — دسمبر 13، 2015 12:19 شام
تعارف مانگنے والوں سے ان کا حال نہ پوچھ۔۔ آپ بہت بہتر ہیں بھائی۔۔
ویسے آپ کی مرضی ہے ۔
نازنین شاہ — دسمبر 13، 2015 2:18 شام
بہت خوب انتخاب
حمیرا عدنان — دسمبر 13، 2015 2:47 شام
بہت خوب
محمد زکریا شاکر — دسمبر 13، 2015 6:05 شام
مرضی کیسی جناب؟
ادب دوست — دسمبر 13، 2015 9:36 شام
مرضی ایسی کہ اگر آپ اپنا تعارف پیش کرنا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%AF%DB%8C%D8%AF.86360/