میرا یک چھوٹا سا سوال ہے کہ "اردو شاعری میں کن کن شعراء کو اساتذہ کا درجہ دیا جا سکتا ہے، یعنی کون کون سے شعراء ایسے ہیں جو اردو شاعری کے لیے سند کی حیثیت رکھتے ہیں؟"
کلاسیکل شعراء سے جدید شعراء تک
شاید اس وجہ سے کہ وہ بیسویں صدی کے جدید طرز رکھنے والے شاعر ہیں، اور اُن کا کوئی دیوان نہیں۔
یوسف-2 — جنوری 4، 2013 7:01 صبح
مرزا غالب
علامہ اقبال
میر تقی میر
مومن
میر درد
ذوق
آتش
احسان دانش
جمیل الدین عالی
ڈاکٹر پیزادہ قاسم
احمد ندیم قاسمی
رئیس امرہوی
جوش ملیح آبادی
چند نام پیش ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سارے کے سارے میرے پسندیدہ شعراء نہیں ہیں۔ تاہم ان کے اساتذہ کی صف میں ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ایک لمبی فہرست ہے، کسے لکھوں، کسے بھول جاؤں والا معاملہ ہے۔
وپل کمار — جنوری 4، 2013 7:04 صبح
بھائی میرے خیال میں زیادہ تر کلاسکل مشہور شعراء کو سند لیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ گو کہ کوئی بھی شاعر ایسا نہیں دکھتا جسنے کہیں بھی کوئی غلطی نہ کی ہو۔۔۔۔۔میر، غالب، مومن کے یہاں بھی اغلات کی مسول ملتی ہیں۔۔۔۔ لیکن انکے مقام اور وقار کو دیکھتے ہوئے انہیں آسانی سے نزر انداز کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔
جدید شعراء میں تو کہنا بہت مشکل ہے کیوںکہ امومن سبھی نے اپنی سہولیت کے لئے قواعد سے ڈھیل برتی ہے۔۔۔۔۔۔
اردو شاعری کے قادر الکلام اساتذہ کی بھاری اکثریت چونکہ دین اسلام سے کی تعلیمات سے کوئی خاص ”رغبت“ نہیں رکھتی۔ جبکہ علامہ اقبال کی شاعری دین اسلام کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے۔ اسی لئے ان اساتذہ کے مداحین والا طبقہ اقبال کو (بے دین) ”بلند پایہ اساتذہ“ کی فہرست میں نہیں رکھتا۔ علامہ اپنی ذاتی میں زندگی خود بھی دین سے قریب تر تھے، بہ نسبت دیگر مشہور شعراء کے مقابلہ میں۔ اسی لئے تو علامہ اقبال کے نام کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ بغیر کسی جھجک کے لگایا جاسکتا ہے۔ جبکہ کوئی ادب نواز مسلمان کبھی بھی جوش، غالب، میر، فیض وغیرہ کے ناموں کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا
بھائی میرے خیال میں زیادہ تر کلاسکل مشہور شعراء کو سند لیا جا سکتا ہے۔۔۔ ۔۔ گو کہ کوئی بھی شاعر ایسا نہیں دکھتا جسنے کہیں بھی کوئی غلطی نہ کی ہو۔۔۔ ۔۔میر، غالب، مومن کے یہاں بھی اغلات کی مسول ملتی ہیں۔۔۔ ۔ لیکن انکے مقام اور وقار کو دیکھتے ہوئے انہیں آسانی سے نزر انداز کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ۔۔۔
جدید شعراء میں تو کہنا بہت مشکل ہے کیوںکہ امومن سبھی نے اپنی سہولیت کے لئے قواعد سے ڈھیل برتی ہے۔۔۔ ۔۔۔
میرے خیال میں غالب کو جدید شعراء کی فہرست میں نہ رکھنا ایک نا انصافی ہوگی۔ یقیناً غالب ایک جدید شاعر تھے۔
باقی یہ ہے کہ اقبال کو اساتذہ شعراء میں نہیں رکھا جاسکتا۔ وجہ اس کی کوئی تعصب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ کہ اقبال اردو شاعری میں مضامین کی حد تک تو درست مگر زبان و بیان میں اکثر ایسی اغلاط چھوڑ گئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس مقابلے میں میری رائے یہ ہے کہ دور اقبالؔ میں بادشاہ شاعر تو حسرت موہانی ہی ہیں۔ اور یاس یگانہ کو بھی اساتذہ کی فہرست سے خارج کرنا زیادتی ہے۔
اس کے بعد اساتذہ میں قمر جلالوی وغیرہ بھی معتبر شعراء میں سے ایک ہیں۔
اسی طرح داغ دہلوی۔ یا اور دوسرے۔
حسان خان — جنوری 4، 2013 7:19 صبح
علامہ اقبال کے نظریات و افکار سے اختلاف تو ممکن ہے، لیکن اُن کی شاعرانہ عظمت اور اُن کا استاد ہونا تسلیم نہ کرنا تو ناانصافی ہے۔
اس کا موضوع سے تو کوئی تعلق نہیں، پھر بھی تجسس کے مارے میں اُن اغلاط کی کچھ مثالیں دیکھنا چاہوں گا۔
چودھری ناصر حسین — جنوری 4، 2013 7:54 صبح
کلاسیکی شعراء میں۔۔۔ امیر خسرو
نصرتی
شا کر نا جی
ولی دکنی میر تقی میر
خواجہ حیدر علی آتش
مرزا محمد رفیع سودا
میر درد
نظیر اکبر آبادی
میر حسن مرزا غالب
حکیم مومن خا ں مومن
ابراہیم ذوق
داغ دہلوع اور نئے شعراء میں۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال فیض احمد فیض مجید امجد
ن م راشد
قتیل شفائی
صوفی تبسم
حفیظ جالندھری
ناصر کاظمی
احمد فراز
احمد ندیم قاسمی
امجد اسلام امجد
جون ایلیا
سلیم کوثر
میرے نزدیک تو یہ ہی استاد شاعر ہیں خدائے سخن میرتقی میر ہیں پھر غالب اور غالب کے بعد اقبال بڑا شاعر ہے اور پھر فیض احمد فیض اور مجید امجد
حسان خان — جنوری 4، 2013 7:57 صبح
ویسے اگر مضامین سے قطعِ نظر بات کی جائے تو میر انیس بھی بجا طور پر اردو شاعری کے استاد ہیں۔
بلا شعبہ اقبا ل بیسویں صدی کے بڑے شاعر ہیں۔آپ جتنے بھی اعتراضات کر لیجیے گا اُن کا ادبی مقا م جو تعین ہو چکا وہی رہے گا۔ایک شعر آپ کی نظر ۔۔معذرت کے ساتھ
سورج میں لگے دھبا، فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے
بلا شعبہ اقبا ل بیسویں صدی کے بڑے شاعر ہیں۔آپ جتنے بھی اعتراضات کر لیجیے گا اُن کا ادبی مقا م جو تعین ہو چکا وہی رہے گا۔ایک شعر آپ کی نظر ۔۔معذرت کے ساتھ
حضرت آپ کی معذرت قبول فرمائی۔ لیکن میں تو اقبال کو بیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر مانتا ہوں۔
حسان خان — جنوری 4، 2013 8:05 صبح
ویسے میری نظر میں جوش ملیح آبادی بھی استاد کہلائے جا سکتے ہیں۔
چودھری ناصر حسین — جنوری 4، 2013 8:05 صبح
اور اگر آپ "آب حیات" از محمد حسین آزاد کا مطالعہ کر لیں تو آپ کو ہر دور کے بڑے شعراء کا مقا م و مرتبہ پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔
شاہد شاہنواز — جنوری 4، 2013 8:08 صبح
اساتذہ کی فہرست ترتیب دینا تو سمجھ سے بالا تر بات ہوئی کیونکہ اردو ادب کی تاریخ بہت طویل ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ کوئی اساتذہ میں شمار ہوتا ہے یا نہیں، یہ اس کی تاریخ دیکھنے سے پتہ چلے گا۔ موجودہ دور میں ہم ان تمام شعراء کو اساتذہ کا درجہ دے سکتے ہیں جو شاعری اس حد تک جانتے ہیں کہ دوسروں کو سکھا سکیں۔ رہی بات اقبال کے شاعر ہونے یا نہ ہونے کی تو میرا فتویٰ اس ضمن میں یہ ہے کہ اگر اقبال شاعر نہیں تو غالب بھی نہیں ہے ، نہ کوئی اور۔۔۔ شاعر کی تعریف میری نظر میں صرف اتنی ہے کہ جو شعر موزوں کرسکے اور مسلسل کرتا رہے۔۔۔ اس کے اشعار مدلل اور قابل فہم ہوں ۔۔۔ اقبال اس تعریف پر پورے اتر تے ہیں۔ ہاں غزل گوئی کے حوالے سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ غزل گو نہیں ہیں۔۔۔ وہ خود فرماتے ہیں میں نے نظم کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔۔۔ شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔