اصلاح شعر

ذوالقرنین — مئی 18، 2012 7:16 صبح
مجھے غالب چچا کے اس شعر کا لفظ لفظ معنی، تشریح، درستگی (اگر الفاظ میں ردوبدل ہوں تو) اور وغیرہ وغیرہ چاہیے۔
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبین کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

تشکر کے ساتھ۔
ذوالقرنین — مئی 18، 2012 12:15 شام
انکل الف عین،
بڑے بھائی محمد وارث
بھیا شمشاد
چھوٹے چھوٹاغالبؔ
اور سخن ور حضرات
محمد وارث — مئی 18، 2012 12:42 شام
شکریہ جناب یاد آوری کیلیے۔
طاعت - اطاعت، بندگی، عبادت
مے - آپ جانتے ہی ہیں :)
انگبین - شہد ﴿شعر میں نون غنہ ہے یعنی انگبیں﴾
لاگ - چاہت، آرزو، خواہش، پسندیدگی
مطلب یہ کہ لوگ خدا کی بندگی اور اطاعت شراب اور شہد یعنی جنت کی خواہش میں کرتے ہیں لہذا مرزا فرماتے ہیں کہ اصل عبادت اور اطاعت تو یہ ہے کہ بغیر جنت کی خواہش کے کی جائے لہذا اس کیلیے ضروری ہے کہ بہشت کو دوزخ میں ڈال کر ختم کر دینا چاہیے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری یعنی پھر لوگ اطاعت بغیر لالچ کے کریں گے۔
صوفیا اور شعرا کے ہاں یہ خیال عام ہے، اقبال اس سلسلے میں یوں گویا ہیں
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
محمد بلال اعظم — مئی 18، 2012 1:06 شام
شکریہ جناب یاد آوری کیلیے۔
طاعت - اطاعت، بندگی، عبادت
مے - آپ جانتے ہی ہیں :)
انگبین - شہد ﴿شعر میں نون غنہ ہے یعنی انگبیں﴾
لاگ - چاہت، آرزو، خواہش، پسندیدگی
مطلب یہ کہ لوگ خدا کی بندگی اور اطاعت شراب اور شہد یعنی جنت کی خواہش میں کرتے ہیں لہذا مرزا فرماتے ہیں کہ اصل عبادت اور اطاعت تو یہ ہے کہ بغیر جنت کی خواہش کے کی جائے لہذا اس کیلیے ضروری ہے کہ بہشت کو دوزخ میں ڈال کر ختم کر دینا چاہیے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری یعنی پھر لوگ اطاعت بغیر لالچ کے کریں گے۔
صوفیا اور شعرا کے ہاں یہ خیال عام ہے، اقبال اس سلسلے میں یوں گویا ہیں
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

واہ وارث بھائی، آپ نے تو آتے ساتھ ہی مسئلہ حل کر دیا۔
بہت خوب،
ذوالقرنین — مئی 18، 2012 3:43 شام
بہت بہترین وارث بھائی!
آپ نے نہایت اچھے طریقے سے تشریح کردی۔
الف عین — مئی 18، 2012 4:06 شام
مشکل شاید یوں ہوئی کہ ’طاعت میں تا رہے‘ کا محاورہ سمجھ میں نہیں آ سکا ہو گا۔ یہ استعمال آج کل متروک ہے نا۔
ذوالقرنین — مئی 18، 2012 4:09 شام
جی ہاں انکل جی!
پر اس سے بھی زیادہ مجھے "وانگبین" نے پریشان کیے رکھا۔ میں نے و اور انگبیں کو ایک سمجھ بیٹھا تھا جو محمد وارث بھائی نے بہت اچھے طریقے سے کلئیر کر دیا۔
محمد بلال اعظم — مئی 18، 2012 4:48 شام
جی ہاں انکل جی!
پر اس سے بھی زیادہ مجھے "وانگبین" نے پریشان کیے رکھا۔ میں نے و اور انگبیں کو ایک سمجھ بیٹھا تھا جو محمد وارث بھائی نے بہت اچھے طریقے سے کلئیر کر دیا۔

میں بھی ایسے ہی سمجھا۔
الف عین — مئی 19، 2012 9:26 شام
یہ مزید اس بات کا ثبوت کہ ہم لوگ سب غلط کمپوزنگ کرتے ہیں۔ واوِ عطف کے بعد ہمیشہ سپیس دینا ضروری ہے۔ تاکہ مے اور انگبیں دو الگ الفاظ سمجھے جا سکیں، اور تیسرا واؤ خود ایک لفظ ہے ہی۔ جیسے میں نے ہمیشہ شعر و سخن کو شعروسخن، شعرو سخن، یا شعر وسخن، لکھا دیکھا ہے۔احباب ان چاروں میں فرق کا مشاہدہ کر لیں۔
چھوٹاغالبؔ — مئی 21، 2012 6:05 شام
اور مجھے اس شعر پر ایک سپیڈ بریکر ملتا تھا جب میں "تارہے" کو اکٹھا پڑھتا تھا
اللہ بھلا کرے استانی جی کا
کہ تا ، رہے لفظ ہے جس کو میں تار، ہے پڑھتا رہا کچھ عرصہ
کسی اور کو بھی یہ کنفیوژن ہو ئی ہو تو "آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں":eek:
الف عین — مئی 22، 2012 2:52 شام
اس کا مزید ثبوت کہ کمپوزنگ کی اغلاط تفہیم کی اغلاط میں بدل جاتی ہیں۔ اور ایسی اغلاط کسی اچھے سے اچھے پروف ریڈر کو بھی نظر نہیں آتیں جب تک کہ وہ کمپیوٹر پر نہ دیکھے۔ اور اویس کی مثال میں تو ورڈ بھی سپیلنگ مسٹیک دکھانے سے قاصر ہو گا، کہ ’تار‘ اور ’ہے‘ بھی دو valid الفاظ ہیں۔ با معنی۔ سب سے عام غلطیوں کی طرف اشارہ کروں جو میرے مشاہدے میں آئی ہیں وہ ایک تو یہی ہے، رہے، اور رہیں، جسے ر سپیس اور ہے، یا ہیں ٹائپ کیا گیا ہے اور ورڈ ایک واحد حرف کو بھی جائز لفظ مانتا ہے۔ اور ’اور‘ کو ’او سپیس ر‘ لکھا ہوا۔ میں ہمیشہ کسی بھی فائل میں ورڈ کو ’حکم‘ دیتا ہوں کہ او سپیس ر کو ’اور‘ سے بدل دے، اور کسی بھی فائل میں ایسے دس بارہ مقامات ضرور ہوتے ہیں جہاں یہ غلطی ہو۔
ذوالقرنین — جون 14، 2012 7:01 شام
ایک اور شعر حاضر خدمت ہے۔
حلقے ہے چشم ہائے کشودہ بسو ہے ساز
ہر زلف تار کو نگہ سرمہ سا کہوں
گزارش ہوئی ہے یعنی مشکل الفاظ کے معنی، تشریح، غلط الفاظ کی درستگی وغیرہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B4%D8%B9%D8%B1.51545/