انتخاب امیر مینائی

عظیم خواجہ — جنوری 12، 2016 6:22 صبح
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ
شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشق سخن کو چھوڑ
امیر مینائ
سید عطوف الحسن — جنوری 14، 2016 2:32 شام
واااااااہ واااہ۔۔۔۔۔۔ بہت خوب جناب
،
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم​
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ​
۔
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے​
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ​
نور وجدان — جنوری 14، 2016 2:34 شام
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ جناب ۔۔۔عمدہہہہہہہہ شراکت
باباجی — جنوری 14، 2016 2:37 شام
امیر مینائی کا بہت خوبصورت کلام
سوچ رہا کچھ شیئر کروں
میرے پاس ان کا مجموعہ کلام پڑا ہوا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C.87112/