اِک بستی بسنے والی ہے

وجدان — مئی 27، 2013 8:22 صبح
اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔
اِک بستی بسنے والی ہے
جس بستی میں کوئی ظُلم نہ ہو ۔
اور جینا کوئی جُرم نہ ہو
وہاں پھُول خوشی کے کھِلتے ہوں ۔
اور موسم سارے مِلتے ہوں
بَس رَنگ اور نُور برستے ہوں ۔
اور سارے ہنستے بَستے ہوں
اُمید ہے ایسی بستی کی
جہاں جھوٹ کا کاروبار نہ ہو ۔
اور دہشت کا بازار نہ ہو
جینا بھی دشوار نہ ہو ۔
اور مرنا بھی آزار نہ ہو
وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو ۔
اُس آنگن میں غم کی شام نہ ہو
جہاں مُنصف سے انصاف ملے ۔
دل سب کا سب سے صاف ملے
اِک آس ہے ایسی بستی ہو ۔
جہاں روٹی زہر سے سستی ہو
یہ بستی کاش تمہاری ہو ۔
یہ بستی کاش ہماری ہو
اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔
اک بستی بسنے والی ہے
الف عین — مئی 28، 2013 7:32 صبح
خوب۔ شاید یہ وجدان کی اپنی نظم ہے۔ ماشاء اللہ
امجد میانداد — مئی 28، 2013 7:36 صبح
بہت عمدہ،
وجدان — مئی 29، 2013 8:57 صبح
خوب۔ شاید یہ وجدان کی اپنی نظم ہے۔ ماشاء اللہ
نہیں سر، اپنی تو نہیں پر یقین کریں لگتا ہے سب کی آواز ہے یہ نظم ۔۔۔۔ اللہ کرئے پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ آمین
فارقلیط رحمانی — مئی 29، 2013 9:19 صبح
:great:
نیلم — مئی 29، 2013 9:53 صبح
بہت خُوب
فارقلیط رحمانی — مئی 29، 2013 12:45 شام
زبردست!
اُمیدوں بھری نظم !
کاش !!!ساری اُمیدیں برآئیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%90%DA%A9-%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D8%A8%D8%B3%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DB%81%DB%92.64314/