تعلیانہ اشعار

شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 9:12 صبح
تعلی شاعر کا وہ پہلو بیان کرتی ہے جسے وہ اکثر چهپانا چاہتا ہے، شاعرانہ تعلی کا دائرہ بہت وسیع ہے، اس پر تحقیقی مقالے لکھے جا سکتے ہیں ( بعید نہیں کہ لکھے جا چکے ہوں) اس قسم کے اشعار یکجا جمع کریں تو انبار لگ جائیں، شاعر کو اپنی تعریف میں جب زمین و آسمان کے قلابے ملانے ہوتے ہیں تو وہ اس کا سہارا لیتا ہے، تقریباً ہر بڑا اور محترم شاعر تعلی کرتا ہے اور اسے حق بهی ہے مگر کچھ تعلیاں ایسی ہوتی ہیں جہاں ہم یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ جناب والا اب زیادہ ہو رہا ہے! !! :)
تو جن اشعار میں ہمارے شعرائے کرام جذبات کی رو میں بہتے ہوئے یا مخالفین کو جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے یا جو بهی صورت رہی، حد اعتدال پهلانگ گیے ان اشعار کو اس لڑی میں پروتے ہیں.
آپ حضرات بهی اپنے علم کی ضیا بکھیریں اور حافظہ کے گوڈاون سے کچھ تعلیانہ اشعار پیش کریں . نوازش ہوگی..
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 9:16 صبح
استاد ہوں میں مصحفی حکمت کے بهی فن میں.
ہے کودک نو درس فلاطوں مرے آگے
عبدالقیوم چوہدری — اپریل 30، 2015 12:57 شام
گودام ؟؟
ستاد ہوں میں مصحفی حکمت کے بهی فن میں.
ہے کودک نو درس فلاطوں مرے آگے
:thinking:
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 1:24 شام
جی گودام
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 1:25 شام
ساری دنیا میں قلم کاروں کی وقعت گر جائے
میں قلم رکھ دوں تو الفاظ کی صحت گر جائے
( رانا ) تعلی ...
محمداحمد — اپریل 30، 2015 2:00 شام
جو ہم نہ ہوں تو زمانے کی سانس رُک جائے
قتیل وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں
قتیل شفائی!
محمداحمد — اپریل 30، 2015 2:00 شام
تمھیں نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے
وصی شاہ
محمداحمد — اپریل 30، 2015 2:03 شام
ہمیں بھی جلوہ گاہِ ناز میں لیتے چلو موسیٰ
تمھیں غش آ گیا تو حُسنِ جاناں کو دیکھے گا۔
اس مقام پر آ کر شاعر حفظِ مراتب کا لحاظ بھی نہ رکھ سکے ورنہ ایسی بات کبھی نہ کرتے۔
سید عاطف علی — اپریل 30، 2015 2:05 شام
سارے عالم پہ ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
۔میرتقی میر۔
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 2:14 شام
بہت بہترین مثالیں محمد احمد صاحب اور سید صاحب قبلہ
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 2:18 شام
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
( خواجہ میر درد)
ادب دوست — اپریل 30، 2015 3:31 شام
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
( میر تقی میر)
شبیر حسین تاب بھائی میرا خیال ہے یہ شعر میر درد کا ہے
ادب دوست — اپریل 30، 2015 3:32 شام
صحرا تو سمٹ کر ہوا ذرہ مرے آگے
اب وسعتِ افلاک کو لے آ مرے آگے
رفیع الدین راز
ادب دوست — اپریل 30، 2015 3:33 شام
حیران سا رہتا ہوں کہ کس کس کو میں باندھوں
بادل سے چلے آتے ہیں مضموں میرے آگے
ادب دوست — اپریل 30، 2015 3:34 شام
یہ خوبصورت تضمین دیکھیں
بجھتی ہے مری پیاس درِ آلِ نبی پر
" گھستا ہے جبیں خاک پر دریا میرے آگے"
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 3:42 شام
بہت خوب جناب! !
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 3:44 شام
نہ کرتا ضبط میں گریہ تو اے ذوق اک گهڑی بهر میں.
کٹورے کی طرح گهڑیال کے غرق آسماں ہوتا
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 3:47 شام
شبیر حسین تاب بھائی میرا خیال ہے یہ شعر میر درد کا ہے
درست فرمایا بهائی!!!
روانگی میں لکھ گیا. ..شکریہ
شبیر حسین تاب — اپریل 30، 2015 3:58 شام
یہ خوبصورت تضمین دیکھیں
بجھتی ہے مری پیاس درِ آلِ نبی پر
" گھستا ہے جبیں خاک پر دریا میرے آگے"
آپ نے تو تسلیم کی تضمین کی یاد دلا دی بهائی
ادب دوست — اپریل 30، 2015 4:31 شام
یا جو بهی صورت رہی، حد اعتدال فلانگ گیے ان اشعار کو اس لڑی میں پروتے ہیں.
پھلانگ :)
انڈیا میں اکثر "پھ" کو "ف" کہہ دیا جا تا ہے
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1.81655/