کئی سال پہلے جب میں اپنے دوستوں سے جدائی کی تکلیف میں مبتلا تھا اور ایک طرح کی قید تنہائی گزار رہا تھا تب یہ غزل کہی تھی، احباب کی خدمت میں پیش ہے:
پیش ہے جناب!
لیکن ساری غزل میں واحد کا صیغہ ہی ہے یعنی تکلیف زیادہ کی تھی اور یہ غزل کسی "ایک " کی یاد میں
جی دیکھ لیا کہ تمہید ہی میں جمع ہے۔۔ حقیقت بالکل حقیقت کے عین مطابق ہے۔
مزے کی بات بتاتا ہوں کہ میں نے اپنی غزلوں کے مجموعے کا نام "دیوان حقیقت" رکھا تھا۔
یہ ایک غمگین داستان ہے ۔
اب اس دیوان کے غم میں ایک اور دیوان ہو جائے۔
غم نہ کر صبر کر
ہو سکتا ہے کہ کہیں انٹرنیٹ کیشے سے نکالنے کا کوئی طریقہ ہو۔
واقعہ کئی برس پرانا ہے، تب بہت کوشش کی لیکن اب کافی صبر آچکا ہے۔ اور کافی مٹی بھی پڑچکی ہے وقت کے ساتھ ساتھ
پردیس
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C.71588/