حقہ اور چاء

عاطف سعید جاوید — ستمبر 8، 2013 7:05 شام
نہ تو انجیل سے باقی ہے نہ تورات سے باقی ہے
دین باقی ہے تو قرآن کی آیات سے ہے
زندہ دل یوں تو ہیں اسلام کے سارے فرزند
ان کی رونق مگر آبادیء گجرات سے ہے
چاء پیتا ہوں تو ہو جاتا ہے ایماں تازہ
چاء نوشی مری دیرینہ روایات سے ہے
حقہ پیتا ہوں تو اڑ جاتے ہیں سکھوں کے دھوئیں
خالصہء جی کی قضا میری کرامات سے ہے
شاعر: مولانا ظفر علی خان
گجرات
یکم جولائی 7391 ء
راجہ عبدالرحمن — ستمبر 8، 2013 7:17 شام
واہ جی واہ
نایاب — ستمبر 8، 2013 7:45 شام
واہہہہہہہہہہہ
کیا خوب شراکت ہے ۔۔۔۔۔۔۔
مولانا صاحب تو چائے کے کمال عاشق نکلے ۔۔۔۔۔۔۔
ماہی احمد — اکتوبر 4، 2013 8:17 شام
زبردست :)
چائے نوشی کے حق میں میرے پاس ایک اور دلیل آ گئی :heehee:
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 4، 2013 8:27 شام
نہ تو انجیل سے باقی ہے نہ تورات سے باقی ہے
دین باقی ہے تو قرآن کی آیات سے ہے
زندہ دل یوں تو ہیں اسلام کے سارے فرزند
ان کی رونق مگر آبادیء گجرات سے ہے
چاء پیتا ہوں تو ہو جاتا ہے ایماں تازہ
چاء نوشی مری دیرینہ روایات سے ہے
حقہ پیتا ہوں تو اڑ جاتے ہیں سکھوں کے دھوئیں
خالصہء جی کی قضا میری کرامات سے ہے
شاعر: مولانا ظفر علی خان
گجرات
یکم جولائی 7391 ء

گل تے ٹھیک ای کیتی اے ظفر چاچو نے۔ :cool::cool:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D9%82%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%86%D8%A7%D8%A1.67594/