اَرفَق پورن پوری — مئی 21، 2020 11:06 شام
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اگر چہ یہ شعر علامہ اقبال کہ طرف منسوب کیا جاتا ہے...
براہ مہربانی جواب بہ حوالہ ہو
سید عاطف علی — مئی 21، 2020 11:33 شام
یہ تو اقبال کی بہت معروف غزل ہے ۔غالبا بال جبریل میں ہے ۔
اصلاح سخن اس سوال کے لیے مناسب سیکشن نہیں ۔
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداءکیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 21، 2020 11:43 شام
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے - غزلبال جبریل میں غزلیات حصہ دوم کی غزل نمبر 33 میں یہ شعر غزل کے دوسرے شعر کے طور پر موجود ہے۔ شعر پر واوین بھی نہیں اور نہ ہی کوئی فٹ نوٹ موجود ہے، لہٰذا یہ شعر اقبال ہی کا ہے۔
اَرفَق پورن پوری — مئی 22، 2020 6:44 صبح
یہ تو اقبال کی بہت معروف غزل ہے ۔غالبا بال جبریل میں ہے ۔
اصلاح سخن اس سوال کے لیے مناسب سیکشن نہیں ۔
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداءکیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
شکریہ جزاک اللہ حضور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس کی خبر نہیں کہ کہاں اس سوال کو رکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معذرت
اَرفَق پورن پوری — مئی 22، 2020 6:44 صبح
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے - غزلبال جبریل میں غزلیات حصہ دوم کی غزل نمبر 33 میں یہ شعر غزل کے دوسرے شعر کے طور پر موجود ہے۔ شعر پر واوین بھی نہیں اور نہ ہی کوئی فٹ نوٹ موجود ہے، لہٰذا یہ شعر اقبال ہی کا ہے۔
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جزاک اللہ خیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔آمین