شاعری میں شراب کیوں؟

قربان — دسمبر 16، 2011 9:58 صبح
اردو ایک خوبصورت اور شیریں زبان ہے مگر مے "شراب" جو کہ ایک قبیح اور ناپسندیدا شی کو اردو زبان میں کیوں داخل کیا گیا،اور اکثر شعرائ اپنے کلام میں شراب کا ذکر کیوں کرتے ہیں ،
جیسے ایک شاعر کہتا ہے نہ حرم میں یہ سکوں ملتا ہے تتخانے میں
سکون ملتا ہے شاقی تیر ے میخانہ میں
لیکن ایک دوسرا شاعر یوں رقم طراز ہے
کسی کے اشک پیو عزتیں ملیں گی تمہیں
شراب پی کر کوئی محترم نہیں ہو تا
عسکری — دسمبر 16، 2011 10:32 صبح
شراب کو کچھ نا ہی کہیں ویسے بھی کسی کی شاعری میں کسی دوسرے انسان کا کیا لینا دینا ؟ ان کی مرضی اس میں شراب لگائیں یا لسی
محمد وارث — دسمبر 16، 2011 11:16 صبح
قربان صاحب آپ کا دیا گیا عنوان ًشراب کیوںً واضح نہیں تھا سو میں نے اس کو مدون کر دیا ہے ًشاعری میں شراب کیوںً۔
محمود احمد غزنوی — دسمبر 16، 2011 11:18 صبح
شراب کا کوئی اپنا صریحی رنگ نہیں
شراب تجزیہ و احتساب کرتی ہے
جو اھل دل ہیں بڑھاتی ہے آبرو انکی
جو بے شعور ہیں انکو خراب کرتی ہے
:)
محمود احمد غزنوی — دسمبر 16، 2011 11:19 صبح
شیشے میں مئے،مئے میں نشہ، میں نشے میں ہوں۔۔۔:)
یہ اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل
محمد وارث — دسمبر 16، 2011 11:21 صبح
اردو ایک خوبصورت اور شیریں زبان ہے مگر مے "شراب" جو کہ ایک قبیح اور ناپسندیدا شی کو اردو زبان میں کیوں داخل کیا گیا،اور اکثر شعرائ اپنے کلام میں شراب کا ذکر کیوں کرتے ہیں ،
جیسے ایک شاعر کہتا ہے نہ حرم میں یہ سکوں ملتا ہے تتخانے میں
سکون ملتا ہے شاقی تیر ے میخانہ میں
لیکن ایک دوسرا شاعر یوں رقم طراز ہے
کسی کے اشک پیو عزتیں ملیں گی تمہیں
شراب پی کر کوئی محترم نہیں ہو تا

اس کا ایک جواب داغ دہلوی نے بھی دیا تھا
لُطفِ مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کم بخت تُو نے پی ہی نہیں
شاکرالقادری — دسمبر 16، 2011 11:22 صبح
اردو شاعری پر ہی کیا موقوف ۔ ۔ ۔ عربی فارسی شاعری تمام زبانوں کی شاعری کو لیجئے
ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
شمشاد — دسمبر 16، 2011 11:25 صبح
یعنی کہ آپ سب قربان صاحب کو شراب پلا کر ہی چھوڑیں گے۔
محمد وارث — دسمبر 16، 2011 11:31 صبح
یعنی کہ آپ سب قربان صاحب کو شراب پلا کر ہی چھوڑیں گے۔

اجی کہاں صاحب، وہ تو ہماری بھی بند کروا رہے ہیں، بقولِ چچا
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی
عسکری — دسمبر 16، 2011 11:34 صبح
یعنی کہ آپ سب قربان صاحب کو شراب پلا کر ہی چھوڑیں گے۔
ہمارے پاس وافر نہیں ہے ہمیں تو اپنے کوٹے کی نہیں مل رہی :laugh:
شمشاد — دسمبر 16، 2011 11:36 صبح
شراب لفظ کا تصور ہمارے ہاں صرف نشے والی شراب ہی ہے جبکہ یہاں ہر پینے والی چیز کو شراب کہتے ہیں۔ جیسے ایک لفظ مجرا ہے جس کو سنتے ہیں وہاں ہر کسی کے ذہن میں طوائفوں والا مجرا ہی آتا ہے۔
محمود احمد غزنوی — دسمبر 16، 2011 11:43 صبح
رقّ الزجاج و رقّۃ الخمر
فتشابھا فتشاکل الامر
فکانّھما خمرّ ولا قدح
وکانّھما قدحّ ولا خمر
از حضرت شہاب الدین شہروردی
ترجمہ۔۔۔شیشے کی رقت یعنی صفائی و شفا فیت اور شراب کی بھی رقت۔۔۔پس دونوں امور باہم متشابہ ہوگئے۔۔۔گویا یہ شراب ہی شراب ہے شیشہ نہیں اور یا پھر محض شیشہ ہی ہے شراب نہیں
محمد وارث — دسمبر 16، 2011 11:45 صبح
دراصل شاعری کا حسن ہی استعارے اور کنایے اور مجاز سے بنتا ہے، ان کے بغیر شاعری، شاعری نہیں ہوتی بلکہ اسٹیٹ منٹ یا پھر خبرنامہ ہوتی ہے۔ شراب شاعری میں بھی زیادہ تر انہی معنوں میں استعمال ہوتی ہے اور پی جاتی ہے بلکہ جام کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے شعرا اس کو اسکے اصلی معنوں میں استعمال کرتے تھے اور ہیں، نہ صرف شاعری میں بلکہ حقیقت میں بھی استعمال کرتے ہیں، کئی ایک نام ہیں۔
لیکن پھر شاعری کا حسن انہی باتوں سے ہے، بصورتِ دیگر بہتر ہے انسان بہشتی زیور اور موت کا منظر پڑھ لے، ہاں ان کتابوں سے یاد آیا، قرآن میں بھی تو شراب کا ذکر ہے کہ جنتیوں کو پلائی جائے گی، گو نشے کے بغیر والی شراب طہور ہوگی :)
محمود احمد غزنوی — دسمبر 16، 2011 11:48 صبح
ویسے بہشتی زیور کا بھی اپنا ایک نشہ ہے۔۔:)
S. H. Naqvi — دسمبر 16، 2011 12:06 شام
ہائیں تو پھر اس شراب کا مقصد؟؟؟
ویسے قربان صاحب آپ اتنے پریشان نہ ہوں، آپ وہ والی شاعری پڑھ لیا کریں جو بادہ و ساغر کے بغیر ہو!! جیسے اکژحضرات سماع سن لیتے ہیں مگر مزامیر کے بغیر۔۔۔۔۔۔!
S. H. Naqvi — دسمبر 16، 2011 12:10 شام
ویسے بہشتی زیور کا بھی اپنا ایک نشہ ہے۔
جی بجا فرمایا آپ نے غزنوی صاحب، "بہشتی زیور" کا بھی اپنا ہی اک نشہ ہے،
،،، ساقیا تیرے بادہ خانے میں،
نام ساغر ہے اور مے کو ترسے۔۔۔۔۔۔
فاتح — دسمبر 16، 2011 2:38 شام
دراصل شاعری کا حسن ہی استعارے اور کنایے اور مجاز سے بنتا ہے، ان کے بغیر شاعری، شاعری نہیں ہوتی بلکہ اسٹیٹ منٹ یا پھر خبرنامہ ہوتی ہے۔ شراب شاعری میں بھی زیادہ تر انہی معنوں میں استعمال ہوتی ہے اور پی جاتی ہے بلکہ جام کے جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے شعرا اس کو اسکے اصلی معنوں میں استعمال کرتے تھے اور ہیں، نہ صرف شاعری میں بلکہ حقیقت میں بھی استعمال کرتے ہیں، کئی ایک نام ہیں۔
لیکن پھر شاعری کا حسن انہی باتوں سے ہے، بصورتِ دیگر بہتر ہے انسان بہشتی زیور اور موت کا منظر پڑھ لے، ہاں ان کتابوں سے یاد آیا، قرآن میں بھی تو شراب کا ذکر ہے کہ جنتیوں کو پلائی جائے گی، گو نشے کے بغیر والی شراب طہور ہوگی :)
آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ شراب، لیلیٰ، مجنوں، باغ، دریا، یہ سب شاعری کے استعارے ہیں۔ لیکن جہاں تک بات ہے شعرا کے اصل شراب پینے کی تو غیر شعرا بھی اسی تناسب سے شرابی ہیں جس قدر تناسب سے شعرا۔ :)
شمشاد — دسمبر 16، 2011 5:17 شام
دیکھا جائے تو غیر شعرا نے اسی تناسب سے نہیں بلکہ کہیں زیادہ تناسب سے پی ہو گی۔
کاشفی — دسمبر 19، 2011 2:47 شام
بہت اچھی گفتگو ہورہی ہے۔۔۔بہت خوب
محفلِ واعظ تو تادیر رہے گی قائم
یہ ہے مے خانہ ابھی پی کے چلے آتے ہیں
متلاشی — دسمبر 19، 2011 7:57 شام
نہ چھیڑ اے ہم نشیں صہبا کے افسانے
شرابِ بے خودی کے مجھ کوساغر یاد آتے ہیں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA%D8%9F.49058/