شعر کی وضاحت

گِل صاحب — نومبر 13، 2019 8:57 صبح
السلام علیکم
جون ایلیاء کے اس شعر کی وضاحت طلب ہے...
جون یہ جو وجود ہے ، یہ وجود
کیا بنے گی اگر عدم نکلے ...!
#Gill_Sab
گِل صاحب — نومبر 13، 2019 1:52 شام
الف عین
کچھ مدد فرمائیں
Aanum — دسمبر 5، 2019 9:58 صبح
السلام علیکم
اس شعر کے شاعر کا نام اگر کسی کو معلوم ہو تو بتا دیں
بہکا تو بہت بہکا، سنبهلا تو ولی ٹهہرا
اسخاک کے پتلے کا ہر رنگ نرالا ہے
فرقان احمد — دسمبر 5، 2019 10:29 صبح
السلام علیکم
اس شعر کے شاعر کا نام اگر کسی کو معلوم ہو تو بتا دیں
بہکا تو بہت بہکا، سنبهلا تو ولی ٹهہرا
اسخاک کے پتلے کا ہر رنگ نرالا ہے
وعلیکم السلام! یہ شعر عزیز نبیل صاحب کا ہے۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — دسمبر 5، 2019 10:31 صبح
السلام علیکم
اس شعر کے شاعر کا نام اگر کسی کو معلوم ہو تو بتا دیں
بہکا تو بہت بہکا، سنبهلا تو ولی ٹهہرا
اسخاک کے پتلے کا ہر رنگ نرالا ہے
وعلیکم السلام
صحیح شعر یہ ہے ۔
بہکا تو بہت بہکا سنبھلا تو ولی ٹھہرا
اُس چاک گریباں کا، ہر رنگ نرالا تھا
مکمل غزل کے لیے یہاں کلک کریں ۔
عزیز نبیل
فاخر رضا — دسمبر 5، 2019 10:44 صبح
السلام علیکم
جون ایلیاء کے اس شعر کی وضاحت طلب ہے...
جون یہ جو وجود ہے ، یہ وجود
کیا بنے گی اگر عدم نکلے ...!
#Gill_Sab
اس شعر میں شاعر اپنی اندرونی کیفیت بیان کررہا ہے. وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ ہمارا وجود جسے ہم وجود سمجھتے ہیں یہ نہ وجود جیسا ہے. یعنی اگر ہو یا نہ ہو برابر ہے. بنیادی طور پر وہ وجود کے تصور کو چیلینج کررہے ہیں. کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم خواب دیکھ رہے ہوں اور سمجھ یہ رہے ہوں کہ حقیقت ہے
جون کے ہاں اس طرح کی بے شمار تعبیرات ملتی ہیں. یہ ایک فلسفی بحث ہے جسے انہوں نے صرف دو مصرعوں میں ڈھال دیا ہے. یہی شاعر کی بڑائی ہے
فرقان احمد — دسمبر 5، 2019 10:44 صبح
السلام علیکم
جون ایلیاء کے اس شعر کی وضاحت طلب ہے...
جون یہ جو وجود ہے ، یہ وجود
کیا بنے گی اگر عدم نکلے ...!
#Gill_Sab
وعلیکم السلام!
ہماری نظر میں اس کا مفہوم کچھ یوں ہے: مادی وجود بظاہر مانی جانی حقیقت ہے تاہم شاعر کا فرمانا ہے کہ اگر یہ تصور کیا جائے تو کہ وجود کی دراصل کوئی حیثیت نہ ہے اور یہ محض اک فریب ہے تو پھر اس صورت میں یعنی وجود کے نہ ہونے کی صورت کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ سب کچھ عدم ہے؛ یوں ہمارے سوچ کا کُلی تناظر ہی بدل جاتا ہے۔ بظاہر یہ شعر غالب کے اس شعر کی ہی ایک اور صورت ہے۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
یہ وحدت الوجودی رنگ ہمیں اس شعر میں بھی دکھائی دیتا ہے تاہم اس مضمون کو نئے ڈھب سے باندھا گیا ہے۔
Aanum — دسمبر 8، 2019 5:45 صبح
تو حرم میں جس کو ہے ڈهونڈتا مجهے بت کدے میں وہ ملا
تجهے ملال ہے زاہد یہ نظر نظر کی تلاش ہے
کیا یہ شعر درست ہے اور شاعر کا نام پلیز
خورشید بھارتی — دسمبر 12، 2019 2:43 شام
میں آئینہ ہوں دکھاؤں گا داغ چہرے کے
جسے برا لگے وہ سامنے سے ہٹ جائے
اس مشہور شعر کےشاعر کا نام کوئی صاحب بتانے کی زحمت کریں۔ نوازش ہوگی
علی وقار — فروری 18، 2025 2:59 صبح
تو حرم میں جس کو ہے ڈهونڈتا مجهے بت کدے میں وہ ملا
تجهے ملال ہے زاہد یہ نظر نظر کی تلاش ہے
کیا یہ شعر درست ہے اور شاعر کا نام پلیز
امیر بخش صابری کا شعر ہے
تُو حرم میں ہے جس کو ڈھونڈتا مجھے بت کدے میں وہ مل گیا
تجھے کیا ملال ہے زاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نظر نظر کی تلاش ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D8%B6%D8%A7%D8%AD%D8%AA.109170/