محمد بلال اعظم — اگست 5، 2012 9:18 صبح
اردو دنیا کا ایک بہت بڑا نام شہزاد احمد، جو اب ہم میں نہیں رہا۔
شیزاد صاحب کو بہت سے لوگوں نے خراجِ تحسین پیش کیا، ان پہ کالمز بھی لکھے۔
میری کوشش ہے کہ میں ان سب کو یہاں جمع کروں۔
اگر آپ کو بھی کچھ ایسا ملتا ہے تو ضرور یہاں دیجیے۔
محمد وارث
الف عین
مزمل شیخ بسمل
مہدی نقوی حجاز
فاتح
الف نظامی
محمد بلال اعظم — اگست 5، 2012 9:21 صبح
شہزاد احمد بھي ہميں چھوڑ گيا... آئينہ…مسعود اشعر
ابھي پچھلے جمعہ کي بات ہے ? نيرنگ گيلري ميں شہزاد احمد اپني ايک طويل نظم سنا رہا تھا? پھر سب کي فرمائش پراس نے تين غزليں بھي سنائيں ?نيرنگ گيلري ميں ہر مہينے کے آخري جمعہ کو نير علي دادا ايک محفل بر پا کرتے ہيں جسے انہوں نے بيٹھک کا نام ديا ہے ? کئي سال سے يہ بيٹھک چل رہي ہے ?ر شروع سے ہي اس بيٹھک کي يہ روايت رہي کہ محفل کا اختتام شہزاد احمد کي غزل پر ہو تا?يہ صرف تين دن پہلے ہي کي تو بات ہے ?وہ ہميشہ کي طرح خوش وخرم تھا?ہنسي مذاق ميں برابر کا شريک ?ہنسي ہنسي ميں ہي اس نے ميري ايک بات کي تصحيح بھي کي ?وہي سرخ وسفيد چہرہ ?وہي عينک کے پيچھے سے جھانکتي بڑي بڑي آنکھيں اوران آنکھوں ميں بھري شرارت? اور وہي اس کے ہونٹوں پر کھيلتي مسکراہٹ?کون سوچ سکتا تھا کہ صرف تين دن ميں ہي وہ ہميں چھوڑ جائے گا? دل کا عارضہ تو اسے پچھلے پندرہ بيس سال سے تھا ?مگر وہ اس کا مقابلہ کر رہا تھا? چند دن بيمار رہتا اور ٹھيک ہوتے ہي اپنے کام شروع کر د يتا? ?آج کل وہ مجلس ترقي ادب کا ڈائريکٹر تھا? ليکن اس سے پہلے اس نے انيس بيس سال بے کاري ميں گزارے ?روٹي پلانٹ بند ہو نے کے بعداس کے پاس کوئي ملازمت نہيں تھي ? ليکن جسے ہم اس کي بے کاري کے سال کہتے ہيں وہي اس کے سب سے زيادہ ہ کار آمد سال تھے ? اس عرصے ميں اس نے ملازمت کے لئے در در کي ٹھوکريں نہيں کھائيں?
اس نے سرکاري اور غير سرکاري افسروں کي خوشامديں نہيں کيں ? بلکہ اپني اس نام نہاد بے کاري کے زمانے ميں تخليقي کام کيا? شاعري تو اس کي پہلي محبت تھي? ليکن اس نے فرائيڈ اور يونگ سے لے کر دنيا کے تمام نامور ماہرين نفسيات پر کتابيں لکھيں? اسي عرصے ميں اس نے نفسيات، فلسفے اور سائنس پر کئي کتابوں کے ترجمے بھي کئے ?علامہ اقبال کے خطبات کا ترجمہ يوں تو پہلے بھي ہو چکا تھا ? مگر اس کي زبان مشکل تھي ? شہزاد احمد نے آج کي زبان ميں ان خطبات کا ايک بار پھر تر جمہ کيا ? ادارہ مشعل کے لئے ناظر محمود نے اسٹيفن ہاکنز کي کتاب A Brief History of Time کا ترجمہ کيا تھا ? مگر اصل کتاب کي طرح وہ بھي خاصہ گنجلک تھا? شزاد احمد نے اس پر بھي نظر ثاني کي اور عام پڑھے لکھے آدمي کے لئے اسے آسان بنايا ??يوں تو شہزاد کا مضمون نفسيات اور فلسفہ تھا کہ اس نے ان مضاميں ميں ايم اے کئے تھے ليکن اس نے سائنسي مضامين کا بھي اتني گہرائي کے ساتھ مطا لعہ کيا تھا کہ نظري اور اطلاقي سائنس کے ہر مضمون پر و ہ بلا تکان بول بھي سکتا تھا اور لکھ بھي سکتا تھا ?سائنس پر اس کي اسي گہري نظر کا نتيجہ تھا کہ پاکستان کے واحد نوبيل انعام يافتہ سائنس داں ڈاکٹر عبدالسلام نے بھي اپني کتاب کا اردو ترجمہ شہزاد احمد سے ہي کرايا تھا ?نفسيات، فلسفے اور سائنس پر اس کي کتني کتابيں ہيں ؟ ميں اس وقت ان کي گنتي نہيں کر سکتا? البتہ اس کي شاعري کے تيس مجموعے شائع ہو چکے ہيں ?جيسے ميں کہا?شہزاد کي پہلي محبت شاعري ہي تھي ?اور قيام پاکستان کے بعد ابھرنے والے شاعروں ميں اس کا بڑا نام تھا ?مگر اس نے صرف شاعري کو ہي اپنا تعارف نہيں بنايا ?
مجلس ترقي ادب کا ڈائريکٹر بننے کے بعد اس نے مجلس کي شکل ہي بدل دي تھي ?اس نے يہ شکل ظاہري طور پر بھي بدلي اور باطني طور پر بھي ?ظاہري طور پر اس نے مجلس کي خستہ حال عمارت کي نئي آرائش وزيبائش کرائي ? نير علي دادا کي مدد سے لائبريري اور دوسرے کمروں کو نئے سرے سے آراستہ کيا ? اور باطني طور پر اس نے چند سال ميں اتني تعداد ميں نئي کتابيں چھاپيں جتني تعداد ميں اس سے پہلے اتني کتابيں نہيں چھپي تھيں ? اس نے پراني کتابوں کے نئے ايڈيشن بھي شائع کئے ?مجلس کي پراني کتابيں نسخ ميں چھپي ہوئي تھيں? چو نکہ ہماري آج کي نسل کے لئے نسخ ميں کتاب پڑھنا مشکل ہے اس لئے شہزاد نے يہ کتابيں نستعليق ميں منتقل کرنا شروع کر دي تھيں ? کئي کتابيں نسخ ميں شائع بھي ہو چکي ہيں ? اس کا ارداہ تمام کتابوں کو نستعليق ميں شائع کرنے کا تھا ?اس نے کئي اور بھي کئي منصوبے بنائے تھے ?وہ دوسري زبانوں سے اردو ميں ترجمہ کرنے کے لئے ايک تربيتي کورس بھي شروع کرنے والا تھا ?اس کا مقصد اردو زبان ميں صحيح اور اچھا ترجمہ کرنے والے نو جوانوں کي ايک کھيپ تيار کرنا تھا ?اس سے جب کہا جا تا کہ اس کے لئے فنڈز کہاں سے آئيں گے؟ تو وہ کہتا ”فنڈ لينا ميرا کام ہے? ميں انتظام کر لوں گا “? اور وہ انتظام کر بھي ليتا تھا کہ شاعر اور لکھاري کے ساتھ وہ اچھا منتظم بھي تھا? سچ ہے،، وقت کس کا ساتھ ديتا ہے ?شہزاد بھي ہميں چھوڑ گيا ? مگراس کا ہنستا مسکراتا چہرہ ہمارے دل ودماغ ميں ہميشہ جگمگاتا رہے گا ?اور پھر اس نے تخليق اور ترجمے کا جو وقيع کام کيا ہے وقت اس کا بھي تو کچھ نہيں بگاڑ سکے گا ?
محمد بلال اعظم — اگست 5، 2012 9:24 صبح
خدا حافظ۔۔۔احمد شہزاد(ڈاکٹر محمد اجل نیازی)بدلتے موسموں کا اچھا شاعر ناصر بشیر میرے ساتھ تھا میں نے شہزاد احمد کو خدا حافظ کہا جب اس کا جنازہ دوست قبرستان کی طرف لے جا رہے تھے۔ اس سے پہلے میں نے کبھی شہزاد احمد کو خدا حافظ نہ کہا تھا۔ بدتمیزیوں کو تخلیقی اور تفریحی رنگ دے کر بٹ تمیزیاں بنانے والے ادیب ڈاکٹر یونس بٹ سے ایک بات چیت میں آخری بات کرنے کے لئے کہا تو اس نے آخیر کر دی کہ میں آخری بات کا قائل نہیں ہوں۔ میں تو باتیں کرتے رہنے کو پسند کرتا ہوں۔ دوستوں کو ویلکم کرنا میری خوشی ہے۔ میں کسی کو خدا حافظ کہنا پسند نہیں کرتا۔ مجھے ناصر بشیر نے کہا کہ تم شہزاد پر لکھو گے تو کالم کا عنوان یہی رکھنا ”خدا حافظ شہزاد احمد“ خدا حافظ آدمی اس امید میں کہتا ہے کہ اسے خوش آمدید کہنے کی مہلت بھی ملے گی“ آج کل خوشامد اور خوش آمدید میں فرق مٹ گیا ہے۔ یہ کام تو ہوتا رہتا ہے مگر ہم اس کی خبر نہیں رکھتے۔ ہم باخبر بہت بنتے ہیں مگر اہل خبر نہیں بن سکتے۔ شہزاد باخبر بھی تھا اور اہل خبر بھی تھا اور اہل خبر ہی اہل خیر ہوتے ہیں۔ شہزاد واقعی اہل خیر میں سے تھا۔ اب لکھنے پڑھنے والوں میں اہل خیر کم کم رہ گئے ہیں۔ اس زمانے میں خبر کی ظاہری حیثیت بہت بڑھ گئی ہے اور خیر کی خبر کہیں سے آتی نہیں۔
خبر دینے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ خبر ہوتی کیا ہے۔ بھارتی اداکار راجیش کھنہ مرتا ہے تو ہمارا میڈیا کئی رتوں تک چیختا چلاتا رہتا ہے۔ ایک عالم آدمی چلا گیا ہے تو کوئی پرواہ ہی نہیں۔ شہزاد بے پناہ پڑھے لکھے آدمی تھے۔ آج کل لوگ پڑھے کم اور لکھے زیادہ ہیں۔ میں نے شہزاد کو سراج منیر سے باتیں کرتے سنا اور پھر سجاد کے ساتھ اس کا مکالمہ سنا۔ مکالمہ مکاشفہ اور مراقبہ کا فرق مٹ جاتا تھا۔ وہ نظریاتی آدمی تھا بلکہ روحانی آدمی تھا مگر غیر مذہبی بھی نہ تھا۔
اس سے پہلے بھی وہ موت کی دہلیز کے پار چلا گیا تھا موت کی دہلیز پر تو ہم سب ہیں مگر ہمیں احساس نہیں۔ یہ احساس شہزاد کا تجربہ بنا تھا۔ وہ مر گیا تھا۔ پھر زندہ ہوا۔ پہلے بھی وہ کسی اور زندگی کی تلاش میں گیا تھا اب بھی وہ کسی اور زندگی کی تلاش میں گیا ہے۔ وہ تو زندگی میں کسی اور زندگی کی تلاش میں تھا اور زندگی کی کئی قسمیں ہیں۔ میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم نے کہا تھا کہ تخلیق معلوم سے نامعلوم کی طرف ایک سفر ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا یہ حق اسے ہے جو نامعلوم سے معلوم کی طرف آ جائے۔ موت ایک نامعلوم جہان ہے۔ پھر وہ کب واپس آئے گا۔ وہ آتا رہے گا مگر یہ صرف ان کو پتہ چل جائے گا جو معلوم سے نامعلوم کی طرف جانے کے اہل ہوں گے اور ہم بڑے نااہل ہیں۔ علوم کا ایک ہجوم اس کے اندر تھا مگر وہ اس میں گم نہیں ہو گیا تھا۔ وہ اس بھیڑ میں سے نکلتا تھا تو اس کے معلوم میں نامعلوم کی فراوانی ہوتی تھی۔ وہ نامعلوم شہزادوں کے دیس کا معلوم مسافر تھا۔ وہ زندگی اور موت دونوں کی حقیقتوں کا رازدار تھا۔ اس نے کبھی اپنے آپ کو پوری طرح ظاہر نہ کیا تھا۔ شاید وہ ایسا کر نہ سکتا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو چھپایا بھی نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی پہیلی ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ زندگی سہیلی بھی ہے۔ ان دونوں کیفیتوں کو سادہ اور آسودہ رشتوں میں اس نے ڈھال لیا تھا۔ وہ محرومیوں اور نعمتوں کو الگ الگ کرکے نہ دیکھتا تھا۔ قرآن کا فیصلہ ہمارے لئے ہے۔
”قسم ہے زمانے کی کہ انسان خسارے میں ہے“
شہزاد اتنے ہنس مکھ بذلہ سنج اور جملہ باز تھے کہ ان کے مقابلے میں بقول ظفر اقبال صرف منیر نیازی کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ظفر اقبال نے شہزاد کے لئے دو کالم لکھے ہیں۔ ان کی وابستگی شہزاد کے ساتھ بہت تھی۔ ان کے صاحبزادے آفتاب اقبال نے بھی کالم لکھا۔ انتظار حسین، سجاد میر، طاہر مسعود، خالد احمد، مسعود اشعر، عطاءالحق قاسمی ابھی اور بھی دوست لکھیں گے۔ ناصر بشیر لکھے گا۔ اور کالم کا عنوان ”ویلکم شہزاد احمد ہو گا“ ڈاکٹر شبیہ الحسن ہوتا تو وہ بھی لکھتا۔ اسے شہزاد کے ساتھ نجانے کیا نسبت تھی ہر محفل میں اسے بلاتا۔ ڈاکٹر سلیم اختر اور مجھے بھی یہ اعزاز عطا کرتا۔ شہزاد بہت سینئر تھا بہت بڑا تھا۔ مگر نہ وہ کسی زعم میں رہتا تھا نہ کسی پر رعب جھاڑتا تھا۔ کسی دوسرے آدمی سے اتنا بے تکلفانہ اور دوستانہ تعلق نہ بن سکا۔
ایک دفعہ میری اہلیہ رفعت نے شہزاد اور سنگِ میل والے نیاز احمد کو پکوڑے کھلائے ان کا بیٹا افضال بھی ساتھ تھا۔ وہ ہمیشہ تعریف کرتا تھا اور دوستوں کو پکوڑے کھانے پر اکساتا۔ شہزاد سے رفعت نے گلہ کیا کہ پکوڑے پکا پکا کر میں تھک گئی ہوں۔ شہزاد ہنسے اور کہا میں آپ کے گھر کا پتہ بتا بتا کے تنگ آ گیا ہوں۔ آپ اتنے لذیذ پکوڑے بنانا چھوڑ دیں۔ میری بیوی نے کہا یہ بھی کرکے دیکھ لیا ہے۔ ان پکوڑوں کے لئے آپ کے شاعر ادیب زیادہ تعریفیں کرتے ہیں۔
محمد بلال اعظم — اگست 5، 2012 9:27 صبح
محمد بلال اعظم — اگست 5، 2012 9:32 صبح
الف عین — اگست 6، 2012 8:16 صبح
یہ جنگ والے نہ جانے کس مجہول کنورٹر سے کنورٹ کرتے ہیں کہ وقفے کی جگہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے!!