صبا افغانی

نظام الدین — فروری 19، 2015 12:19 شام
زندگی کی راہوں میں رنج و غم کے میلے ہیں
بھیڑ ہے قیامت کی پھر بھی ہم اکیلے ہیں
گیسوؤں کے سائے میں ایک شب گزاری تھی
آج تک جدائی کی دھوپ میں اکیلے ہیں
سازشیں زمانے کی کام کرگئیں آخر
آپ ہیں اُدھر تنہا، ہم اِدھر اکیلے ہیں
کون کس کا ساتھی ہے، ہم تو غم کی منزل ہیں
پہلے بھی اکیلے تھے، آج بھی اکیلے ہیں
اب تو اپنا سایہ بھی کھوگیا اندھیروں میں
آپ سے بچھڑ کے ہم کس قدر اکیلے ہیں
(صبا افغانی)
اوشو — فروری 19، 2015 12:35 شام
زبردست غزل ہے۔
یہ شاید کسی گلوکارہ نے گائی بھی ہے۔
محمداحمد — فروری 19، 2015 12:55 شام
بہت خوب انتخاب!
محمد اطھر طاھر — مئی 30، 2015 5:06 شام
بہت خوب
محمد اطھر طاھر — مئی 30، 2015 5:07 شام
ﺳﯿﻨﮧ ﺩﮨﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﭼُﭗ ﺭﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﮐﯿﻮﮞ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﻧﮧ ﮔﻼ ﭼﮭﯿﻞ ﻟﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﺎﻻﺕ ﮨﻮﮞ ﺧﺮﺍﺏ
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻼﻑ ﺯﮨﺮ ﺍُﮔﻠﺘﺎ ﭘﮭﺮﮮ ﮐﻮﺋﯽ !!!
ﺍﮮ ﺷﺨﺺ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﮯ ﮐﻮﺋﯽ !!
ﮨﺎﮞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍَﻧﺎ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﮨﻮﮞ
ﺁﺧﺮﻣﯿﺮﮮ ﻣﺰﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﺧﻞ ﺩﮮ ﮐﻮﺋﯽ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ
ﮐﺎﺵ ﺍﺱ ﺯﺑﺎﮞ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻧﻮﭺ ﻟﮯ ﮐﻮﺋﯽ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B5%D8%A8%D8%A7-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%DB%8C.80419/