عرفان سعید — ستمبر 26، 2018 9:17 صبح
ایک طالب علمانہ سوال ہے
"طبع رواں" اور "موزوں طبع" فطری ہے یا اکتسابی؟
محمد وارث — ستمبر 26، 2018 1:03 شام
ہیرا اپنی ذات میں پتھر ہوتا ہے لیکن قیمتی، مگر تراش خراش سے اس کی قیمت بیش بہا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح موزوں طبع لوگ بھی فطری ہوتے ہیں اکتسابی تراش خراش سے ان کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 26، 2018 1:04 شام
ہیرا اپنی ذات میں پتھر ہوتا ہے لیکن قیمتی، مگر تراش خراش سے اس کی قیمت بے بیش بہا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح موزوں طبع لوگ بھی فطری ہوتے ہیں اکتسابی تراش خراش سے ان کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
واہ قبلہ بہت زبردست تعریف فرمائی ہے ۔
عرفان سعید — ستمبر 26، 2018 1:09 شام
اسی طرح موزوں طبع لوگ بھی فطری ہوتے ہیں
بہت شکریہ جنابِ عالی
یہ فرمائیےکہ کیسے معلوم ہو کہ کوئی فطری طور پر موزوں طبع ہے یا نہیں؟
اگر فطری طور پر نہیں ہے تو پھر اکتساب بے معنی ہے؟
محمد وارث — ستمبر 26، 2018 1:17 شام
بہت شکریہ جنابِ عالی
یہ فرمائیےکہ کیسے معلوم ہو کہ کوئی فطری طور پر موزوں طبع ہے یا نہیں؟
اگر فطری طور پر نہیں ہے تو پھر اکتساب بے معنی ہے؟
اکتساب کسی بھی طور بے معنی نہیں۔ اور کسی بھی فرد کو اپنے چھپے ہوئے ہنر کا تبھی علم ہوگا جب وہ اس کو آزمانے کی کوشش کرے گا۔ اکتساب کرنے کی کوشش کریں گے تو چھپی ہوئی فطرت بھی ابھر آئے گی۔