قصہ کچھ یوں ہے کہ پچھلے ڈیڑھ برس میں بارہا ادارہ ہذا کی کسی نا کسی تقریب میں میزبانی کا موقع ملا. آخر میں ہیڈ آف ڈویژنژ اور ڈائریکٹر صاحب کو دعوت کلام دینی ہوتی ہے اور ان کے لیے کوئی شعر پڑھنا پڑتا ہے. اب پھر میری میزبانی ہے، شاید یہ آخری ہو کہ سیشن بھی ختم ہونے کو ہے اور میرے پاس اشعار کی کلیکشن تقریباً ختم ہو چکی ہے. انٹرنیٹ پر عمومی طور پر جو بھی تعریف والے اشعار ملتے ہیں وہ محبوب کی تعریف والے ہوتے ہیں اور اساتذہ کے لیے یا قابل قدر ہستیوں کی تعریف کے لیے کچھ بہت کم نظر سے گزر پاتا ہے یا کم از کم ایک جگہ اکٹھا تو بالکل نہ مل سکا. یہ لڑی اس لیے کھولی جا رہی ہے. اس موضوع سے متعلقہ اشعار اس لڑی میں لکھے جائیں تاکہ میرا بھی بھلا ہو اور آئندہ یہاں تک پہنچنے والوں کا بھی!
محمد تابش صدیقی — جنوری 14، 2019 5:07 شام
اشعار میں تو عزت افزائی عموماً مرنے کے بعد ہی ہوا کرتی ہے۔
جان — جنوری 14، 2019 5:37 شام
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
گو یہ خوبی جدید اساتذہ میں کم پائی جاتی ہے۔ امید ہے برداشت کر لی جائے گی۔
مریم افتخار — جنوری 14، 2019 5:46 شام
میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے
قمر، بزم انجم کی مجھ کو میسر، صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
مریم افتخار — جنوری 14، 2019 5:47 شام
وہ محض رحمت و رافت کہ بہر اہلِ جہاں
نیابتِ دمِ عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
مریم افتخار — جنوری 14، 2019 5:48 شام
وہ خوش لباس بھی، خوش دل بھی خوش ادا بھی ہے
مگر وہ ایک ہے کیوں اس سے یہ گلہ بھی ہے
مریم افتخار — جنوری 14، 2019 5:50 شام
چاہا تھا میں نے تم کو مہ چار دہ کہوں
دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیالِ خام
فہد اشرف — جنوری 14، 2019 6:11 شام
جس بزمِ ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو
رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو
سیما علی — مئی 18، 2022 4:33 شام
واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
سیما علی — مئی 18، 2022 4:49 شام
خاکساروں میں نہیں ایسی کسی کی توقیر
قد آدم مری تعظیم کو سایا اٹھا
منیر شکوہ آبادی
سیما علی — مئی 18، 2022 4:52 شام
یہ فرط شوق کہ صورت تری نہیں دیکھی
مگر جبیں تری تعظیم کے لئے خم ہے
سیما علی — مئی 18، 2022 4:53 شام
یہ فرط شوق کہ صورت تری نہیں دیکھی
مگر جبیں تری تعظیم کے لئے خم ہے