شمشاد — فروری 19، 2011 10:09 صبح
اردو محفل کے رکن محمد یعقوب آسی صاحب کو مندرجہ ذیل فارسی غزل درکار ہے۔
عرفی شیرازی کی یہ غزل درکار ہے۔
زباں ز نکتہ فرو ماند و رازِ من باقیست۔
بضاعتِ سخن آخر شد و سُخن باقیست۔
تعاون فرمائیے گا۔
۔۔۔ فقط
محمد یعقوب آسی
میم نون — فروری 19، 2011 10:10 صبح
آسی صاحب خود کہاں ہیں؟
الف عین — فروری 19، 2011 10:31 صبح
آسی صاحب نے خود بھی فارسی اشعار کے دھاگے میں یہی پوسٹ کیا ہے۔
محمد وارث — فروری 19، 2011 10:32 صبح
الف عین — فروری 19، 2011 10:36 صبح
میں یہاں ہھی کر دوں، ظفر خان نے فیس بک میں پوسٹ کی ہے یہی غزل
زباں ز نکتہ فرو ماند و رازِ من باقیست۔
بضاعتِ سخن آخر شد و سُخن باقیست۔
گماں مبر کہ تو چون بگذری جہاں بگذشت۔
ہزار شمع بکشتند و انجمن باقیست۔
کسے کہ محرمِ بادِ صباست میداند۔
کہ باوجودِ خزاں بوئے یاسمن باقیست۔
ز شکوہ ہائے جفایت و کون پرشد لیک۔
ہنوز رنگِ ادب برزخِ سُخن باقیست
نماند قائدۂِ مہرِ کوہکن بجہاں۔
ولے عداوتِ پرویز و کوہکن باقیست۔
مگو کہ ہیچ تعلق نماند عرفی را۔
تعلقے کہ نبودش بخویشتن باقیست
محمد وارث — فروری 19، 2011 10:53 صبح
اوہ تو آسی صاحب نے وہاں بھی کہہ رکھا تھا

ای سنپس پر عرفی کے کلیات ڈاؤنلوڈ کیلیے دستیاب ہیں۔
محمد وارث — فروری 19، 2011 11:01 صبح
ز شکوہ ہائے جفایت و کون پرشد لیک۔
ہنوز رنگِ ادب برزخِ سُخن باقیست
یہ شعر غلط لکھا گیا ہے، میں نے فیس بُک پر بھی درست کروا دیا ہے، صحیح شعر یوں ہے
ز شکوہ ہائے جفایت دو کون پرشد لیک
ہنوز رنگِ ادب بر رُخِ سُخن باقیست
مغزل — دسمبر 29، 2011 10:55 صبح
رسید حاضر است وارث (
محمد وارث ) صاحب۔۔۔ ترجمہ درکار است
محمد وارث — دسمبر 29، 2011 11:02 صبح
شکریہ محمود صاحب، اس غزل کا منظوم ترجمہ اختر عثمان صاحب نے کیا تھا، فیس بُک پر میں بھی دیکھتا ہوں آپ بھی دیکھیے گا۔
ایم اے راجا — جنوری 5، 2012 5:55 شام
اگر ترجمہ مل جائے تو ضرور پسندیدہ کلام میں پوسٹ کیجے گا۔ شکریہ۔