عرفان سعید — جنوری 9، 2019 10:07 صبح
کیا کواڑ اور شرار کو ہم قافیہ کہا جا سکتا ہے؟
محمد تابش صدیقی — جنوری 9، 2019 10:08 صبح
کیا کواڑ اور شرار کو ہم قافیہ کہا جا سکتا ہے؟
میں پریشان ہوتا رہا کہ قوانی کس بلا کا نام ہے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 9، 2019 10:08 صبح
کیا کواڑ اور شرار کو ہم قافیہ کہا جا سکتا ہے؟
نہیں
عرفان سعید — جنوری 9، 2019 10:11 صبح
میں پریشان ہوتا رہا کہ قوانی کس بلا کا نام ہے۔
اسی لیے آپ نے جواب ٹھیک نہیں دیا!

محمد وارث — جنوری 9، 2019 10:39 صبح
کیا کواڑ اور شرار کو ہم قافیہ کہا جا سکتا ہے؟
نہیں کہا جا سکتا ڈٖاکٹر صاحب۔ قافیہ اصل میں صوت پر مبنی ہی ہوتا ہے اور کواڑ اور شرار میں بظاہر "آ" کی آواز مشترک لگ رہی ہے لیکن آخری حرف بدل گیا ہے۔ کواڑ کے ساتھ جھاڑ، پچھاڑ، آڑ فٹ بیٹھے گا کہ ان میں "آڑ" کی آواز مشترک یعنی قافیہ ہوگی۔ شرار کے ساتھ "آر" کی آواز یعنی کار، بیکار، مختار، زار، قطار وغیرہ قافیہ بنیں گے۔
عرفان سعید — جنوری 9، 2019 10:49 صبح
نہیں کہا جا سکتا ڈٖاکٹر صاحب۔ قافیہ اصل میں صوت پر مبنی ہی ہوتا ہے اور کواڑ اور شرار میں بظاہر "آ" کی آواز مشترک لگ رہی ہے لیکن آخری حرف بدل گیا ہے۔ کواڑ کے ساتھ جھاڑ، پچھاڑ، آڑ فٹ بیٹھے گا کہ ان میں "آڑ" کی آواز مشترک یعنی قافیہ ہوگی۔ شرار کے ساتھ "آر" کی آواز یعنی کار، بیکار، مختار، زار، قطار وغیرہ قافیہ بنیں گے۔
بہت شکریہ قبلہ محترم!
آپ نے کلام کیا ہے تو مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔
میرے انتہائی محدود مطالعے میں ایک تاثر سا تھا کہ لفظ کے آخر میں "ر" اور "ڑ" کو ایک ہی قافیے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کہاں سے یہ تاثر عود کر آیا ذہن میں مستحضر نہیں۔ شاید میری کج فہمی تھی۔
فلسفی — جنوری 9، 2019 10:51 صبح
بہت شکریہ قبلہ محترم!
آپ نے کلام کیا ہے تو مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔
میرے انتہائی محدود مطالعے میں ایک تاثر سا تھا کہ لفظ کے آخر میں "ر" اور "ڑ" کو ایک ہی قافیے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کہاں سے یہ تاثر عود کر آیا ذہن میں مستحضر نہیں۔ شاید میری کج فہمی تھی۔
ازراہ تفنن
ممکن ہے کسی "توتلے شاعر" کا کلام سن کر یہ تاثر پیدا ہوا ہو۔ ویسے تو لاہوریے بھی "ر" اور "ڑ" میں گڑبڑ کردیتے ہیں۔
م حمزہ — جنوری 9، 2019 11:37 صبح
کواڑ کے ساتھ جھاڑ، پچھاڑ، آڑ فٹ بیٹھے گا
اور جھگاڑ بھی!
سفیر آفریدی — جنوری 9، 2019 2:08 شام
جیسے کواڑ بهاڑ تاڑ دراڑ پہاڑ
شرار ضرار نگار کوہسار سوار