خدیجہ مستور کے ایک افسانے میں یہ مصرعہ دو دفعہ آتا ہے:
؏
بچھڑے ہوئے ملیں گے پھر خالق نے گر ملا دیا
یہ کس بحر میں ہے، اور اس کا وزن کیا ہے؟
؏
بچھڑے ہوئے ملیں گے پھر خالق نے گر ملا دیا
یہ کس بحر میں ہے، اور اس کا وزن کیا ہے؟
کسر تو کچھ نہیں لگتی لیکن ہو بھی تو ممکن ہے کیونکہ میرے علم کے مطابق یہ چالیس کی دہائی کا فلمی گانے کے بول ہیں جس میں بحر سے اخراج بھی جائز مانا جاتا ہے
مجھے محسوس ہوا کہ خالق کے لفظ میں ق نے اس بحر کو کچھ زخمی سا کیا ہے ۔
اس کا وزن مستفعلن مفاعلن دو بار ہے۔
ظہیر بھائی اس میں کوئی نمونۂ کلام بھی ہے ؟
عاطف بھائی ، مثال تو ایک بھی یاد نہیں ہے ۔ یہ وزن تو شعر دیکھ کر ہی اخذ کیا ۔ یوں کہئے کہ اس وزن میں اردو شاعری انتہائی قلیل ہے کہ کبھی نظر سے نہیں گزری۔ عام بات یہی کہی جاتی ہے کہ رجز کے اوزان عربی میں زیادہ مستعمل ہیں ۔ گنجور پر بھی اس وزن میں کچھ نہیں ہے ۔ ایک فارسی ویبگاہ پر ایک غزل ہے وہ نیچے چسپاں کرتا ہوں ۔
عاطف بھائی ،جو پانچ سات عروض کی کتب میرے پاس ہیں ان میں اس وزن کی کوئی مثال نہیں مل سکی۔ عبدالغنی رامپوری سمیت اکثرمولفین نے یہ کہہ کر ٹرخادیا کہ رجز کے اوزان عربی میں زیادہ مستعمل ہیں ۔ عربی عروض تک میری پہنچ نہیں ہے ۔ ایک مصری دوست ہیں اور عربی میں شاعری کرتے ہیں ویک اینڈ پر ان سے دریافت کرتا ہوں ۔ وہ شاید کچھ عربی کی مثالیں دے سکیں ۔
اس وزن کے بارے میں قدما کا تجربہ شاید کچھ مختلف رہا ہو اس لئے رواج نہ پاسکی۔ ویسے مجھے بھی عاطف بھائی کی طرح مذکورہ بالا مصرع کے آخر میں کچھ گرانی سی محسوس ہوئی ۔ وجہ اس کی یہ کہ ہم سالم مخبون کے بجائے مطوی مخبون (یعنی مفتعلن مفاعلن)کے زیادہ عادی ہیں کہ یہ بہت رواں دواں ہے ۔ اس کے علاوہ ا سی وزن کے بہت قریب بحر ہزج مثمن مقبوض یعنی مفاعلن چار بار بھی بہت مقبول ہے ۔
اردو بحریں میر کی ہندی بحروں کو چھوڑ کر تمام فارسی سے مستعار لی گئی ہیں، یہ بحر چونکہ فارسی میں مستعمل نہیں اس لیے اردو میں بھی نہ آ سکی۔ فارسی بحور خود عربی سے ماخوذ نہیں ہیں، صرف عروض کا نظام ان کی تفہیم کے لیے زیرِ استعمال لایا گیا ہے، کوئی اور نظام بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مفتعلن کو کلاسیکی لاطینی اور یونانی زبان کے تناظر میں کوری ایمب کہا جاتا ہے:
نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم کلجگ بھی اسی بحر میں ہے
اکثر شب تنہائی میں ، کچھ دیر پہلے نیند سے
فیس بک پر پوری "گجل" ملی ہے