مصرعے کا وزن بتا دیجیے

امجد علی چیمہ — اگست 19، 2021 3:00 شام
خدیجہ مستور کے ایک افسانے میں یہ مصرعہ دو دفعہ آتا ہے:
؏
بچھڑے ہوئے ملیں گے پھر خالق نے گر ملا دیا
یہ کس بحر میں ہے، اور اس کا وزن کیا ہے؟
سید عاطف علی — اگست 19، 2021 3:21 شام
خدیجہ مستور کے ایک افسانے میں یہ مصرعہ دو دفعہ آتا ہے:
؏
بچھڑے ہوئے ملیں گے پھر خالق نے گر ملا دیا
یہ کس بحر میں ہے، اور اس کا وزن کیا ہے؟
رجز مثمن مطوی مخبون
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
لیکن کچھ کسر سی لگتی ہے ۔
الف عین — اگست 19، 2021 3:49 شام
رجز مثمن مطوی مخبون
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
لیکن کچھ کسر سی لگتی ہے ۔
کسر تو کچھ نہیں لگتی لیکن ہو بھی تو ممکن ہے کیونکہ میرے علم کے مطابق یہ چالیس کی دہائی کا فلمی گانے کے بول ہیں جس میں بحر سے اخراج بھی جائز مانا جاتا ہے
سید عاطف علی — اگست 19، 2021 3:52 شام
کسر تو کچھ نہیں لگتی لیکن ہو بھی تو ممکن ہے کیونکہ میرے علم کے مطابق یہ چالیس کی دہائی کا فلمی گانے کے بول ہیں جس میں بحر سے اخراج بھی جائز مانا جاتا ہے
مجھے محسوس ہوا کہ خالق کے لفظ میں ق نے اس بحر کو کچھ زخمی سا کیا ہے ۔
امجد علی چیمہ — اگست 19، 2021 4:10 شام
کسر تو کچھ نہیں لگتی لیکن ہو بھی تو ممکن ہے کیونکہ میرے علم کے مطابق یہ چالیس کی دہائی کا فلمی گانے کے بول ہیں جس میں بحر سے اخراج بھی جائز مانا جاتا ہے

الف عین صاحب، بہت شکریہ۔ :) کیا آپ کو اس گانے کے کچھ مزید بول یاد ہیں؟ اگر فلم یا شاعر کا نام معلوم ہو جاتا تو بڑی آسانی ہوتی کیونکہ تلاش کرنے پر نیٹ پہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں مل رہا۔
امجد علی چیمہ — اگست 19، 2021 4:11 شام
رجز مثمن مطوی مخبون
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
لیکن کچھ کسر سی لگتی ہے ۔

شاہ صاحب، بہت شکریہ! :)
یاسر شاہ — اگست 19، 2021 4:11 شام
مجھے تو وزن یہ لگ رہا ہے:
مستفعلن مفاعلن مستفعلن مفاعلن
یوں مصرع میں کوئی نقص بھی نہیں رہتا۔
ظہیراحمدظہیر — اگست 19، 2021 4:43 شام
خدیجہ مستور کے ایک افسانے میں یہ مصرعہ دو دفعہ آتا ہے:
؏
بچھڑے ہوئے ملیں گے پھر خالق نے گر ملا دیا
یہ کس بحر میں ہے، اور اس کا وزن کیا ہے؟
اس کا وزن مستفعلن مفاعلن دو بار ہے۔
یعنی بحر رجز مثمن سالم مخبون ۔ یہ بحر فارسی اور عربی کی نسبت اردو میں کم مستعمل ہے ۔
امجد علی چیمہ — اگست 19، 2021 4:56 شام
یاسر شاہ صاحب، اور محترم ظہیر صاحب، بہت بہت شکریہ! :)
سید عاطف علی — اگست 19، 2021 5:12 شام
اس کا وزن مستفعلن مفاعلن دو بار ہے۔
یعنی بحر رجز مثمن سالم مخبون ۔ یہ بحر فارسی اور عربی کی نسبت اردو میں کم مستعمل ہے ۔
ظہیر بھائی اس میں کوئی نمونۂ کلام بھی ہے ؟
ظہیراحمدظہیر — اگست 20، 2021 12:47 صبح
ظہیر بھائی اس میں کوئی نمونۂ کلام بھی ہے ؟
عاطف بھائی ، مثال تو ایک بھی یاد نہیں ہے ۔ یہ وزن تو شعر دیکھ کر ہی اخذ کیا ۔ یوں کہئے کہ اس وزن میں اردو شاعری انتہائی قلیل ہے کہ کبھی نظر سے نہیں گزری۔ عام بات یہی کہی جاتی ہے کہ رجز کے اوزان عربی میں زیادہ مستعمل ہیں ۔ گنجور پر بھی اس وزن میں کچھ نہیں ہے ۔ ایک فارسی ویبگاہ پر ایک غزل ہے وہ نیچے چسپاں کرتا ہوں ۔
هر روز خسته ‌تر شوم در کارزار جستجو
با گم شده کجا و کِی آخر شویم روبرو
با تشنگان عشق خود ای خوب من از او بگو
یک شب که در کنار هم هستیم مست گفتگو
دست از طلب نمی‌کشم در شهر عشق کو به کو
تا تن کُنم به آب دل از خاک راه شستشو
در بزم آن نگار جان هرگز نگشته رو از او
با هر کلام دلنشین نزدیک گشته او به او
در محضرش سکوت کن کمتر نمای پرس و جو
تنها ببین به چشم دل از غیر او مگو مگو

اس وقت کلینک سے نکل رہا ہوں ۔ وقت ملا تو گھر جاکر عروض کی کتب دیکھتا ہوں ان میں ضرور اس وزن کی کچھ مثالیں ہوں گی۔
محمد تابش صدیقی — اگست 20، 2021 4:23 صبح
ویسے مجھے تو اس بحر میں روانی کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی، تو پھر یہ کیوں اردو میں استعمال نہ ہوئی؟
ظہیراحمدظہیر — اگست 20، 2021 5:08 شام
ظہیر بھائی اس میں کوئی نمونۂ کلام بھی ہے ؟
عاطف بھائی ،جو پانچ سات عروض کی کتب میرے پاس ہیں ان میں اس وزن کی کوئی مثال نہیں مل سکی۔ عبدالغنی رامپوری سمیت اکثرمولفین نے یہ کہہ کر ٹرخادیا کہ رجز کے اوزان عربی میں زیادہ مستعمل ہیں ۔ عربی عروض تک میری پہنچ نہیں ہے ۔ ایک مصری دوست ہیں اور عربی میں شاعری کرتے ہیں ویک اینڈ پر ان سے دریافت کرتا ہوں ۔ وہ شاید کچھ عربی کی مثالیں دے سکیں ۔
ظہیراحمدظہیر — اگست 20، 2021 5:19 شام
ویسے مجھے تو اس بحر میں روانی کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی، تو پھر یہ کیوں اردو میں استعمال نہ ہوئی؟
اس وزن کے بارے میں قدما کا تجربہ شاید کچھ مختلف رہا ہو اس لئے رواج نہ پاسکی۔ ویسے مجھے بھی عاطف بھائی کی طرح مذکورہ بالا مصرع کے آخر میں کچھ گرانی سی محسوس ہوئی ۔ وجہ اس کی یہ کہ ہم سالم مخبون کے بجائے مطوی مخبون (یعنی مفتعلن مفاعلن)کے زیادہ عادی ہیں کہ یہ بہت رواں دواں ہے ۔ اس کے علاوہ ا سی وزن کے بہت قریب بحر ہزج مثمن مقبوض یعنی مفاعلن چار بار بھی بہت مقبول ہے ۔
محمد ریحان قریشی — اگست 20، 2021 6:56 شام
میرا قیاس ہے کہ یہ بحر مفتعلن مفاعلن ہی ہے لیکن مصرع سہوِ کاتب یا سہو شاعر میں سے کسی ایک چیز کا شکار ہے۔
ویسے مجھے تو اس بحر میں روانی کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی، تو پھر یہ کیوں اردو میں استعمال نہ ہوئی؟
اردو بحریں میر کی ہندی بحروں کو چھوڑ کر تمام فارسی سے مستعار لی گئی ہیں، یہ بحر چونکہ فارسی میں مستعمل نہیں اس لیے اردو میں بھی نہ آ سکی۔ فارسی بحور خود عربی سے ماخوذ نہیں ہیں، صرف عروض کا نظام ان کی تفہیم کے لیے زیرِ استعمال لایا گیا ہے، کوئی اور نظام بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مفتعلن کو کلاسیکی لاطینی اور یونانی زبان کے تناظر میں کوری ایمب کہا جاتا ہے:
Choriamb - Wikipedia
ایک اور ملتا جلتا عربی وزن مستفعلن فاعلن مستفعلن فعِلن ہے۔ قصیدۃ البردۃ اسی بحر میں ہے اور روانی سے خوانا بھی جاتا ہے تاہم کسی اردو شاعر نے اس بحر میں کوئی تجربہ نہیں کیا۔
محمد وارث — اگست 21، 2021 6:23 صبح
بحر "رجز" جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہو رہا ہے خاص عربی کی چیز ہے اور زیادہ تر رجزیہ شاعری ہی اس میں ہوگی جو کہ عربی ثقافت کی خاص چیز تھی۔ فارسی اور اردو والے اس سے دُور ہی رہے۔
بحر رجز سالم"مستفعلن" چار بار بھی اسی قسم کی معروف بحر ہے، اس میں کلاسیکی فارسی شاعری کافی ہے، اردو کی بھی ایک شہرہ آفاق غزل "کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا" اسی میں ہے لیکن اس کے باوجود رجز سالم بھی اردو میں بہت کم استعمال ہوئی ہے۔
فہد اشرف — اگست 21، 2021 7:19 شام
اس کے باوجود رجز سالم بھی اردو میں بہت کم استعمال ہوئی ہے۔
نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم کلجگ بھی اسی بحر میں ہے
دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی سات لے
نیکی کا بدلا نیک ہے بد سے بدی کی بات لے
میوہ کھلا میوہ ملے پھل پھول دے پھل پات لے
آرام دے آرام لے دکھ درد دے آفات لے
کلجگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہات دے اس ہات لے
امجد علی چیمہ — اگست 29، 2021 5:09 صبح
عربی عروض تک میری پہنچ نہیں ہے ۔ ایک مصری دوست ہیں اور عربی میں شاعری کرتے ہیں ویک اینڈ پر ان سے دریافت کرتا ہوں

محترم ظہیر صاحب، کیا آپ کی اپنے مصری دوست سے ملاقات ہوئی؟ کیا انھوں نے عربی میں اس وزن کے استعمال پر کچھ روشنی ڈالی؟
سید عاطف علی — اگست 29، 2021 5:26 صبح
دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی سات لے
اکثر شب تنہائی میں ، کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں بیتے ہوئے دن عیش کے
الخ---
الف عین — اگست 29، 2021 6:30 صبح
الف عین صاحب، بہت شکریہ۔ :) کیا آپ کو اس گانے کے کچھ مزید بول یاد ہیں؟ اگر فلم یا شاعر کا نام معلوم ہو جاتا تو بڑی آسانی ہوتی کیونکہ تلاش کرنے پر نیٹ پہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں مل رہا۔
فیس بک پر پوری "گجل" ملی ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%88%D8%B2%D9%86-%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%8C%DB%92.117235/