نون — اپریل 25، 2016 8:59 صبح
السلام علیکم
چند مصروں کی تکمیل میں دوستوں کی مدد درکار ہے، جن میں سے 2 ابھی درج ذیل ہیں:
1- شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی
2- ہم بعض آئے محبت سے اٹها لو پاندان اپنا
نوازش
یاز — اپریل 25، 2016 10:12 صبح
وعلیکم السلام جناب
آپ شاید "مصرعوں" کی تکمیل چاہ رہے ہیں؟
عباد اللہ — اپریل 25، 2016 11:20 صبح
مصرعوں کی تکمیل یا ان پر تضمین؟؟
عباد اللہ — اپریل 25، 2016 11:55 صبح
دوئی کا نقش مٹا بس بہت خدائی کی
شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی
سنجیدہ نہ لیجئے

عباد اللہ — اپریل 25، 2016 11:58 صبح
ہم بعض آئے محبت سے اٹها لو پاندان اپنا؟
بعض؟؟
ابن رضا — اپریل 25، 2016 12:03 شام
وعلیکم السلام جناب
آپ شاید "مصرعوں" کی تکمیل چاہ رہے ہیں؟
ارے بابا مصرعے تو پہلے ہی مکمل ہیں وہ شعروں کی تکمیل چاہتے ہیں
یاز — اپریل 25، 2016 12:05 شام
ہم بعض آئے محبت سے اٹها لو پاندان اپنا؟
بعض؟؟
اس طرح کی اغلاط عموماً بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو سپیکنگ افراد کی لکھائی میں دیکھی ہیں۔ نون صاحب بھی شاید بھارت سے ہی ہوں۔
اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ بھارت میں زیادہ تر جگہوں پہ اردو سمجھی یا بولی تو جاتی ہے، تاہم اس رسم الخط میں ہر جگہ نہیں لکھی جاتی۔ لہٰذا اس طرح کے ہم آواز الفاظ لکھے جانا بعید از قیاس نہیں ہوتا۔ جیسے
تویل، موکا، ذالم وغیرہ
عباد اللہ — اپریل 25، 2016 12:13 شام
جی بھیا ٹھیک ہے
ایک صفت اور بھی اس مصرعے کو ممتاز کرتی ھے کہ اس پر تضمین ممکن نہیں
سید عاطف علی — اپریل 25، 2016 12:20 شام
اس طرح کی اغلاط عموماً بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو سپیکنگ افراد کی لکھائی میں دیکھی ہیں۔ نون صاحب بھی شاید بھارت سے ہی ہوں۔
اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ بھارت میں زیادہ تر جگہوں پہ اردو سمجھی یا بولی تو جاتی ہے، تاہم اس رسم الخط میں ہر جگہ نہیں لکھی جاتی۔ لہٰذا اس طرح کے ہم آواز الفاظ لکھے جانا بعید از قیاس نہیں ہوتا۔ جیسے
تویل، موکا، ذالم وغیرہ
ایسی صورت میں بعض کو باز لکھ دیا جانا تو سمجھ آتا ہے لیکن باز کو بعض لکھے جانے کی وجہ کا امکان شاید یہ امر نہ ہو۔واللہ اعلم
محمد ریحان قریشی — اپریل 25، 2016 12:37 شام
وجہ کوئی نہیں مدت ہوئی لڑائی کی
شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی

محمد تابش صدیقی — اپریل 25، 2016 12:40 شام
دوئی کا نقش مٹا بس بہت خدائی کی
شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی
سنجیدہ نہ لیجئے
وجہ نہیں ہے اک عرصے سے کچه لڑائی کی
شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی
انہوں نے گرہ لگانے کو نہیں کہا۔ پہلے سے موجود شعر کو مکمل ڈھونڈنا چاہ رہے ہیں غالباً۔

عباد اللہ — اپریل 25، 2016 1:22 شام
انہوں نے گرہ لگانے کو نہیں کہا۔ پہلے سے موجود شعر کو مکمل ڈھونڈنا چاہ رہے ہیں غالباً۔
پھر تو آپ ہی مدد فرمائیے بھیا ہم اس سلسلے میں معذور ہیں
محمد تابش صدیقی — اپریل 25، 2016 1:23 شام
پھر تو آپ ہی مدد فرمائیے بھیا ہم اس سلسلے میں معذور ہیں
ملے ہوتے تو پوسٹ کر چکا ہوتا۔

محمد ریحان قریشی — اپریل 25، 2016 2:15 شام
دوئی کا نقش مٹا بس بہت خدائی کی
شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی
سنجیدہ نہ لیجئے
اس کی داد تو دینی پڑے گی.
کیا بات ہے واہ.
عباد اللہ — اپریل 25، 2016 3:09 شام
اس کی داد تو دینی پڑے گی.
کیا بات ہے واہ.
شکریہ ریحان
فرقان احمد — مئی 5، 2016 5:07 شام
السلام علیکم
چند مصروں کی تکمیل میں دوستوں کی مدد درکار ہے، جن میں سے 2 ابھی درج ذیل ہیں:
1- شتاب آ کہ نہیں تاب اب جدائی کی
2- ہم بعض آئے محبت سے اٹها لو پاندان اپنا
نوازش
کہیں ایسے پڑھا سنا تھا ۔۔۔
اگر یہی شرط رہی وصل لیلٰی تو ہم باز آئے محبت سے اٹھا لو پان دان اپنا
الف عین — مئی 6، 2016 5:10 صبح
اس طرح کی اغلاط عموماً بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو سپیکنگ افراد کی لکھائی میں دیکھی ہیں۔ نون صاحب بھی شاید بھارت سے ہی ہوں۔
اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ بھارت میں زیادہ تر جگہوں پہ اردو سمجھی یا بولی تو جاتی ہے، تاہم اس رسم الخط میں ہر جگہ نہیں لکھی جاتی۔ لہٰذا اس طرح کے ہم آواز الفاظ لکھے جانا بعید از قیاس نہیں ہوتا۔ جیسے
تویل، موکا، ذالم وغیرہ
دیوناگری میں جو لکھتے ہیں، وہ بھی اسے اردو زبان نہیں کہتے۔ محض دیو ناگری رسم الخط کہتے ہیں۔ اردو صرف اور صرف فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، ہندوستان میں بھی اور ساری دنیا میں بھی۔
اگر اردو کسی کو لکھنا آتی ہے تو درست ہی آتی ہے۔ ہاں، کسی کی املا کی غلطی ہو تو اسے املا کی غلطی مانا جاتا ہے۔