نظم

من — مارچ 28، 2016 8:46 صبح
نظم
ترے خیالوں کی بارشوں نے
زمین دل کو ہے خوب سینچا
جو بیج بوے تھے چاہتوں کے
وہ اشک بن کر پنگر رہے ہیں
یہ درد پیہم کی ساری فصلیں
درختِ ہجراں میں ڈھل چکی ہیں
جو یاس کی ڈال پر ٹکے ہیں
وہ زرد پتے ہیں رتجگوں کے
یہ زخم ہے جو ابھی بھی تازہ
گلاب بن کر مہک رہے ہیں
لدے ہیں یادوں کے وہ شگوفے
کہ شاخِ غم پھر سجی ہوئی ہے
منؔ
محمداحمد — مارچ 28، 2016 8:49 صبح
وہ اشک بن کر پنگر رہے ہیں

اس لفظ کا کیا مطلب ہے؟ یا یہ کوئی ٹائپو ہے؟
من — مارچ 28، 2016 9:11 صبح
لفظ ہے پُنگر جیسے پتوں کی کونمپلیں پنگرتی ہیں
اس لفظ کا کیا مطلب ہے؟ یا یہ کوئی ٹائپو ہے؟[/QUOTE
محمداحمد — مارچ 28، 2016 9:13 صبح
لفظ ہے پُنگر جیسے پتوں کی کونمپلیں پنگرتی ہیں

اچھا
یہ اردو زبان کا ہی لفظ ہے؟
من — مارچ 28، 2016 9:14 صبح
پنجابی لفظ ہے
من — مارچ 28، 2016 9:14 صبح
اچھا
یہ اردو زبان کا ہی لفظ ہے؟
پنجابی ہے
محمداحمد — مارچ 28، 2016 9:44 صبح
بہاؤ اور روانی کے اعتبار سے نظم خوب ہے۔
نظم کا عنوان سوجھا نہیں یا یوں ہی نہیں رکھا؟
لفظ ہے پُنگر جیسے پتوں کی کونمپلیں پنگرتی ہیں

یعنی پتوں کی کونپلیں کھل رہیں ہیں؟
من — مارچ 28، 2016 9:50 صبح
بہاؤ اور روانی کے اعتبار سے نظم خوب ہے۔
نظم کا عنوان سوجھا نہیں یا یوں ہی نہیں رکھا؟
یعنی پتوں کی کونپلیں کھل رہیں ہیں؟
کونمپلیں پھوٹتی ہیں شاید اردو میں اور نظم کا عنوان سوچا ہی نہیں کیا رکھا جاے اپ بتاییں؟
محمداحمد — مارچ 28، 2016 9:57 صبح
نظم کا عنوان سوچا ہی نہیں کیا رکھا جاے اپ بتاییں؟

یہ کام باقی زائرین پر رکھ چھوڑتے ہیں۔ :)
ہوسکتا ہے تب تک آپ کو بھی کوئی عنوان سوجھ جائے۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85.88904/