نظم درکار ھے!!!

حسن علوی — اگست 24، 2008 10:41 شام
آج سے کچھ عرصہ پہلے ایک محفل میں کسی نے ایک بہت ہی خوبصورت نظم پیش کی تھی جو مجھے بہت ہی اچھی لگی۔ بدقسمتی سے موقع کچھ ایسا تھا کہ میں وہ کلام حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی وہ کلام مجھے کبھی کہیں اور پڑھنے یا سننے کو ملا۔ اسکا پہلا شعر مجھے آج بھی یاد ھے:
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
مرے درد کی دوا کرے کوئی
اگر کسی دوست کے پاس یہ نظم موجود ہو تو برائے مہربانی شاعر کے نام کے ساتھ یہاں شئیر کر دے۔ وارث بھائی، فرخ بھائی یا کوئی اور۔۔۔۔
بہت ممنون ہوں گا۔ شکریہ
جیا راؤ — اگست 24، 2008 11:30 شام
حسن یہ نظم نہیں چچا غالب کی غزل ہے۔

ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کہ جا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط کرے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی
کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے راہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

مرزا اسد اللہ خان غالب

(غلطیاں جیہ جی آ کر ٹھیک کریں گی۔:))
جیہ — اگست 25، 2008 4:31 صبح
شوریٰ و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

شرع و آئین پر مدار سہی
جیا راؤ — اگست 25، 2008 5:26 صبح
شکریہ جیہ جی تصحیح کا۔
یہی مصرع "کھٹک" رہا تھا۔:)
فرخ منظور — اگست 25، 2008 10:04 صبح
لو میاں‌ حسن ہمارے آنے سے پہلے ہی تمہاری مراد پوری ہوگئ - اور دوسرے مصرعے میں دکھ ہے درد نہیں - :) چچا کو دکھ زیادہ تھے درد نہیں‌ تھے - :)
محسن حجازی — اگست 25، 2008 10:07 صبح
جتنی عمر تھی ان کی یقینا درد بھی ہوں گے۔
زونی — اگست 25، 2008 10:28 صبح
جتنی عمر تھی ان کی یقینا درد بھی ہوں گے۔

یاد رہے یہ درد "درد ڈسکو " سے یکسر مختلف تھا :grin:
بلکہ کچھ اس قسم کا تھا
' دل ہی جب درد ہو تو کیا کرے کوئی';)

ِِ
مغزل — اگست 25، 2008 10:34 صبح
خوب کلام ہے اسی بہانے شیئر کرنے کا شکریہ۔ جیا راؤ
سدا سلامت رہیں۔ شاد و کامران رہیں۔
محسن حجازی — اگست 25، 2008 11:25 صبح
یہ درد ڈسکو کی ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ ہوتا کہاں ہے۔
شاید ڈسکو کے بعد ہوتا ہے۔ :grin:
محمد وارث — اگست 25، 2008 11:34 صبح
یاد رہے یہ درد "درد ڈسکو " سے یکسر مختلف تھا :grin:
بلکہ کچھ اس قسم کا تھا
' دل ہی جب درد ہو تو کیا کرے کوئی';)
ِِ

غالب بیچارے قبر میں کروٹ پر کروٹ لے رہیں ہونگے، پہلے انکی خوبصورت اور شہرہ آفاق غزل، 'نظم' بنی اور پھر 'دردِ ڈسکو' میں مصرع کچھ کا کچھ ہو گیا :grin:
درد ہو دل میں تو دعا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
زونی — اگست 25، 2008 12:42 شام
غالب بیچارے قبر میں کروٹ پر کروٹ لے رہیں ہونگے، پہلے انکی خوبصورت اور شہرہ آفاق غزل، 'نظم' بنی اور پھر 'دردِ ڈسکو' میں مصرع کچھ کا کچھ ہو گیا :grin:
درد ہو دل میں تو دعا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

ہاہا شکریہ وارث بھائی اصل میں صورتحال کچھ یوں بنی کہ
'دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجئیے'
اور،
'میرے دکھ کی دوا کرے کوئی ' آپس میں گڈ مڈ ہو گئے :grin:
درد ڈسکو کا قطعاً کوئی قصور نہیں تھا :grin:
حسن علوی — اگست 25، 2008 4:49 شام
بہت شکریہ جیا راؤ اور باقی تمام احباب کا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DA%BE%DB%92.14579/