نوید حجاز

مہدی نقوی حجاز — جولائی 13، 2012 8:38 صبح
ایک نئی کاوش کا آغاز کیا ہے۔۔۔ ایک مسدس لکھنے کی کوشش کی ہے جس کی روزانہ ایک قسط آپ احباب اور اساتذہ کی خدمت میں پیش کروں گا۔۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 13، 2012 8:43 صبح
قسط نمبر 1
اشکریزاں جب ہوئی مغرب تفکّر کی سحر
ہنہناتی چھاگئ پھر جہل کی شب سربہ سر
جھل کے ایوان میں آنے لگی فکرِ بشر
بے مروّت بن گئے پھر داورانِ خیر و شر
ہر کوئی پھر فلسفی اور خبرہِ دیں بَن گیا
تھی خبر جس کو نہ اپنی اہلِ خبرہ بَن گیا
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2012 9:55 صبح
آج کی قسط پیش خدمت ہے۔۔۔ جناب محمد وارث، الف عین، سہیل عباس خان اور محمد خلیل الرحمٰن صاحبان سے گزارش ہے کہ اس دھاگے پر بھی نظر ثانی فرما کر ہماری اصلاح میں کوشاں ہوں۔۔
مہدی نقوی حجاز — جولائی 14، 2012 9:58 صبح
قسط نمبر 2
پھر خرد مندی کا جادہ تیروتار ہونے لگا
پھر بشر اک بار سوئےشوروشربڑھنےلگا
پھر جنوں میں عقلِ پختہ کو زوال آنے لگا
پھر حیاتِ آدمی کو آسماں تکنے لگا
پھر سیاھی چھا گئی ہے قوم کے اذہان میں
پھر خرافات آگئی ہے عقل کے میدان میں
الف عین — جولائی 15، 2012 6:12 صبح
قسط نمبر 2
پھر خرد مندی کا جادہ تیروتار ہونے لگا
پھر بشر اک بار سوئےشوروشربڑھنےلگا
پھر جنوں میں عقلِ پختہ کو زوال آنے لگا
پھر حیاتِ آدمی کو آسماں تکنے لگا
پھر سیاھی چھا گئی ہے قوم کے اذہان میں
پھر خرافات آگئی ہے عقل کے میدان میں
اس کے قوافی درست نہیں۔ اس کے علاوہ ’تیر و تار ہونے لگا‘ میں ر اور ہ ضم ہو رہے ہیں۔ اتصال حرف علت کا تو جائز ہے کسی دوسرے حرف کا نہیں۔ جس طرح ’خرافات آ‘ میں الف کا درست اتصال ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ یہ لفظ بھی مشکوک ہے، کہ میدان میں کیا خرافات آ سکتی ہے بھلا؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF-%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2.52660/