یہ اشعار کس کے ھیں؟؟؟

عمر اثری — مئی 7، 2016 1:10 صبح
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
ماشاء اللہ یہاں پر شعراء کرام کثرت دے پائے جاتے ھیں:D
لہذا میرے مدد فرمائیں اور یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں کہ یہ اشعار کس کے ھیں. مزید اس سلسلے کے پورے اشعار اگر لکھ دیں تو مہربانی ھوگی:
ہم بھی تو انساں ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھو

مزید:
وہ اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ھے
عمر اثری — مئی 7، 2016 6:27 صبح
محترم زیک صاحب
صائمہ شاہ — مئی 7، 2016 6:38 صبح
زیک اس پر روشنی ڈالیے قرعہ فال آپ کے نام نکلا ہے :)
ویسے یہ اشعار کم اور تک بندی زیادہ ہے ان کے خالق کا نام سامنے نہ ہی آئے تو بہتر ہے ان کے حق میں ۔
محمداحمد — مئی 7، 2016 7:44 صبح
وہ اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ھے

یہ تو بے چارہ ایک ہی مصرع ہے۔
جب تک زیک بھائی اپنی ریسرچ پیش کرتے ہیں، ہم اس پر گرہ لگا دیتے ہیں۔ :)
ہزار شاد ہیں لیکن بس اک یہی غم ہے
وہ اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ہے
---- یا پھر -----
وہ محوِ فیس بک رہتا ہے ہر گھڑی صد حیف
اب اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ہے :)
فیس بک کا "کاف" گر گیا ہے اُٹھا کے رکھ لیجے پھر کام آئے گا۔ :)
یہاں 'کاف' سے مراد بچھڑا نہیں ہے۔ :) :) :)
عباد اللہ — مئی 7، 2016 7:56 صبح
ویسے یہ اشعار کم اور تک بندی زیادہ ہے
اچھا بھلا موزوں شعر ہے میڈم
آپ تکبندی کیوں فرما رہی ہیں؟؟
عباد اللہ — مئی 7، 2016 7:58 صبح
ہم بھی تو انساں ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھو
اگر اس شعر کو کسی محنت کش کی تصویر پر چسپاں کیا جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔
محمد ریحان قریشی — مئی 7، 2016 8:00 صبح
اگر اس شعر کو کسی محنت کش کی تصویر پر چسپاں کیا جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔
مجهے تو یہ کسی معروف بحر میں نہیں لگ رہا.
عباد اللہ — مئی 7، 2016 8:06 صبح
مجهے تو یہ کسی معروف بحر میں نہیں لگ رہا.
فعلن کی تکرار ہے نا بھیا
اور یہی دنیا کی آسان ترین بحر ھے کہ اس میں تسکین کے زریعے 500 سے زائد صورتیں قابلَ قبول ہیں
(تفصیل اسامہ سرسری جی سے پوچھتے ہیں کہ میں عروض نہیں جانتا)
محمداحمد — مئی 7، 2016 8:06 صبح
ہم بھی تو انساں ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھو
مجهے تو یہ کسی معروف بحر میں نہیں لگ رہا.

پہلے مصرعے میں شاید کوئی ہوں، ہاں مسنگ ہے۔ :)
دوسرا مصرع بحر میں ہے۔
رو رو کر یہ مجھ سے پوچھا میرے پاؤں کے چھالوں نے
بستی کتنی دور بسائی دل میں بسنے والوں نے
محمد ریحان قریشی — مئی 7، 2016 8:09 صبح
بحر ہندی ہے عروض کے مطابق جو اکثر میرا دماغ خراب کرتی ہے. ایک انداز سے سارے شعر پڑهے ہی نہیں جاتے کبهی کبهی.
عباد اللہ — مئی 7، 2016 8:19 صبح
ایک انداز سے سارے شعر پڑهے ہی نہیں جاتے
اس کی وجہ یہ ہے
متقارب والا لنک نہیں مل سکا یہ متدارک کو یہاں دیکھ لیجئے دونوں قریبا ایک جیسی ہیں
محمد ریحان قریشی — مئی 7، 2016 8:22 صبح
اس کی وجہ یہ ہے
متقارب والا لنک نہیں مل سکا یہ متدارک کو یہاں دیکھ لیجئے دونوں قریبا ایک جیسی ہیں
بحر زمزمہ میں مشکل نہیں ہوتی. بحر ہندی میں ہوتی ہے زمزمہ میں تو بس فعلن کا ع کبهی ساکن تو کبهی متحرک ہے اور کوئی خاص ورائٹی نہیں.
محمداحمد — مئی 7، 2016 8:24 صبح
ایک انداز سے سارے شعر پڑهے ہی نہیں جاتے کبهی کبهی.

ایسا نہیں ہے۔
صرف ایک بار بحر سمجھ آنے کی دیر ہوتی ہے۔ :)
محمد تابش صدیقی — مئی 7، 2016 8:58 صبح
اگر یوں لکھا جائے تو درست نہیں ہو جائے گا؟
ہم بھی تو انسان ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھو
محمد تابش صدیقی — مئی 7، 2016 9:02 صبح
شاید arifkarim کچھ مدد کر سکیں زیک کے ساتھ
عباد اللہ — مئی 7، 2016 9:03 صبح
اگر یوں لکھا جائے تو درست نہیں ہو جائے گا؟
ہم بھی تو انسان ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ھو
میرےخیال میں انساں اور انسان دونوں طرح درست ہے
محمد ریحان قریشی — مئی 7، 2016 9:08 صبح
کریں گے عید پہ اس جام جم اسے ہم پیش
وہ اپنے گهر کے دریچے سے دیکهتا کم ہے
(گرہ لگائی ہے اصل نہیں ہے)
صائمہ شاہ — مئی 7، 2016 9:42 صبح
اچھا بھلا موزوں شعر ہے میڈم
آپ تکبندی کیوں فرما رہی ہیں؟؟
اپنا اپنا معیار ہے
آپ کو پسند آیا تو آپ کے لیے موزوں ہوگا مجھے بہت عامیانہ انداز لگا اب کم از کم پسند ناپسند کی وضاحت تو نہیں مانگی جانی چاہیے ۔ اور میں نے اشعار لکھا ہے آپ نے ایک ٹوٹے ہوئے نامکمل شعر کی مثال پیش کردی :) گھر کے دریچے والے کو بھی شعر کہا جائے گا ؟؟
اگر ایسا ہی ہے تو پھر شاعری کا تصور ہمارے لیے بہت مختلف ہے ۔
ویسے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ذرا تخیل کی بلندی درکار ہے ۔
صائمہ شاہ — مئی 7، 2016 9:44 صبح
یہ تو بے چارہ ایک ہی مصرع ہے۔
جب تک زیک بھائی اپنی ریسرچ پیش کرتے ہیں، ہم اس پر گرہ لگا دیتے ہیں۔ :)
ہزار شاد ہیں لیکن بس اک یہی غم ہے
وہ اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ہے
---- یا پھر -----
وہ محوِ فیس بک رہتا ہے ہر گھڑی صد حیف
اب اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ہے :)
فیس بک کا "کاف" گر گیا ہے اُٹھا کے رکھ لیجے پھر کام آئے گا۔ :)
یہاں 'کاف' سے مراد بچھڑا نہیں ہے۔ :) :) :)
دوسرا شعر زیادہ پریکٹیکل ہے :)
ادب دوست — مئی 7، 2016 9:48 صبح
یہ تو بے چارہ ایک ہی مصرع ہے۔
جب تک زیک بھائی اپنی ریسرچ پیش کرتے ہیں، ہم اس پر گرہ لگا دیتے ہیں۔ :)
ہزار شاد ہیں لیکن بس اک یہی غم ہے
وہ اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ہے
---- یا پھر -----
وہ محوِ فیس بک رہتا ہے ہر گھڑی صد حیف
اب اپنے گھر کے دریچے سے دیکھتا کم ہے :)
فیس بک کا "کاف" گر گیا ہے اُٹھا کے رکھ لیجے پھر کام آئے گا۔ :)
یہاں 'کاف' سے مراد بچھڑا نہیں ہے۔ :) :) :)

محمد احمد بھائی کیا اب ہم یہ بھی نہیں سمجھیں گے کہ یہاں کاف سے مراد بچھڑا نہیں بلکہ پنڈلی ہے ......
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%DA%BE%DB%8C%DA%BA%D8%9F%D8%9F%D8%9F.89784/