اب یہ بھی بتاؤں اس شعر کی حقیقت کیا ہے۔ در اصل عظیم نے ایک غزل لکھی تھی جسے وہ ماشااللہ خاں کو سنانے آئے جو رجز سالم کے وزن میں تھی اور ایک مصرع لاعلمی میں رمل محذوف میں چلا گیا۔
انشااللہ خاں بھی وہیں موجود تھے جنہوں نے عظیم بیگ سے گھات کی اور کہا یہ غزل آپ مشاعرے میں ضرور پڑھیں۔ جب عظیم نے غزل پڑھی تو انشا نے فوراً تقطیع کا مطالبہ کر ڈالا۔ انہیں وہاں جو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا وہ خیر اس پر انشا نے مخمس پڑھا:
گر تو مشاعرے میں صبا آج کل چلے
کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
اتنا بھی حد سے اپنی نہ باہر نکل چلے
پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے"
اس طرح پر عظیم نے بھی مخمس پڑھا جس میں یہ شعر موجود تھا
شہزور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنے کے بل چلے