محسن وقار علی — نومبر 3، 2012 4:55 شام
دوستو!یہ شعر میں نے کئی سال پہلے کہیں پڑھا تھا۔کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کس کا ہے؟اور اگر پوری غزل مل سکے تو کیا کہنے۔شعر ہے:
سامنے ہے تو،بتلا کہ تو کہاں ہے
کس طرح سے تجھ کو دیکھوں،نظارہ درمیاں ہے۔
محمداحمد — نومبر 29، 2012 10:18 صبح
نظارہ درمیاں ہے کے عنوان سے قرۃ العین حیدر کا ایک افسانہ ہے ۔ جو سمت میں یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ الف عین
شاید اعجاز عبید صاحب کچھ بتا سکیں اس سلسلے میں۔
محسن وقار علی — نومبر 29، 2012 1:35 شام
نظارہ درمیاں ہے کے عنوان سے قرۃ العین حیدر کا ایک افسانہ ہے ۔ جو سمت میں یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ الف عین
شاید اعجاز عبید صاحب کچھ بتا سکیں اس سلسلے میں۔
شکریہ

محسن وقار علی — نومبر 29، 2012 1:38 شام
میں نے بھی یہ شعر اسی افسانے میں ہی پڑھا تھا۔

عتیق منہاس — دسمبر 27، 2012 7:37 صبح
کیا یہ شعر علامہ محمد اقبال صاحب کا ہے؟
یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیئے
کہ یک زباں ہیں فقیہانِ شہر میرے خلاف
عتیق منہاس — جون 15، 2013 7:12 صبح
ﻓﺮﺷﺘﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺤﻘﯿﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﻮﺩِ ﻣﻼﺋﮏ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
کیا یہ شعر علامہ محمد اقبال صاحب کا ہے؟؟؟