ابو کاشان کا تعارف

ابو کاشان — جنوری 17، 2008 7:30 صبح
بہت دن سے آئے تو نہیں ابو کاشان یہاں۔ لیکن سوچا کہ اگر آئیں تو شادی کی پہلی سالگرہ کی مبارکباد ہی قبول کر لیں۔ اپنے تعارف میں لکھا ہے نا کہ جنوری 2007 میں شادی ہوئی ہے۔
اور کاشان کو دعائیں دے دی جائیں۔

جناب الف عین صاحب، بہت بہت شکریہ آپ نے یاد رکھا۔میں دل کی گہراییوں سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اب پابندی سے آؤں گا۔
ابو کاشان — جنوری 17، 2008 7:36 صبح
ابو کاشان آپ کو تو جس فورم کی تلاش تھی وہ تو آپ کو مل گیا لیکن اب ہم آپ کو کہاں تلاش کریں؟

بھائی کچھ مصروفیات تھیں اب انشاءاللہ پابندی رہے گی۔میں حاضری دیتا رہا ہوں مگر خاموشی کے ساتھ۔
اس فورم پر جو ادبی مزاج دیکھا ہے۔ اس سے اس کی بالیدگی کا پتہ چلتا ہے۔
ورنہ تو زیادہ تر بچکانہ مزاج کے فورمز دیکھنے کو ملے ہیں۔
آپ سب سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھنے کو ملے گا۔
دعاگو
ابو کاشان — جنوری 17، 2008 7:59 صبح
خوش آمدید ابو کاشان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب نے کہیں نا کہیں کنیت کیوں رکھی ہوئی ہوتی ہے۔کہئی مجھے بھی سمجھا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ،
مندرجہ ذیل پر اگر کوئی اعتراض ہو تو اافہ کیا جا سکتا ہے۔
میری ناقص معلومات کے مطابق کنیت رکھنا عربوں کا رواج رہا ہے اور اسلام کے ظہور کے بعد بھی اسے جاری رکھا گیا ہے۔
چنانچہ اس پرعلماٴ فریقین کااتفاق ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّم کی کنیت ” ابوالقاسم “ اورآپکے دادا کی ابوعبداللہ تھی اوراس پربھی علماٴ متفق ہیں کہ ابوالقاسم کنیت خود سرورکائنات کی تجویزکردہ ہے ۔
ابو القاسم :
حدیث نمبر 1 : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تھے ایک شخص نے دوسرے شخص کو آواز دی ” اے ابو القاسم “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے ، اس نے عرض کی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب نہیں کررہا تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت (ابو القاسم) پر کنیت نہ رکھو ۔ ( سنن ابن ماجہ از ابن ماجہ (م 273 ھ ) ج 2 ص 422 طبع لاہور 1983 ء)
حدیث نمبر 2: عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال تسموا باسمی ولا تکتنوا بکنیتی فانی انا ابو القاسم ۔ ( شرح معانی الآثار از امام ابی جعفر طحاوی م311 ھ ج 2 ص 366 )
یعنی میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ، بے شک میں ابو القاسم ہوں۔
سو سنت ہے۔
یاد رہے کہ کنیت اولاد کے نام کی نسبت پر رکھی جاتی ہے۔ جیسے میرا بیٹا کاشان تو میں ہوا "اَبُو کَاشَان"۔اور میری زوجہ ہوئیں "اُمِّ کَاشَان"۔
باقی تفصیل انشاءاللہ آئندہ۔۔
محب علوی — فروری 4، 2008 5:19 شام
اس لحاظ تو میں ابو الحسن ہوا ۔ یہ زبردست کنیت ہے ۔
kutkutariyaan — فروری 4، 2008 5:28 شام
ویلکم بھای
صرف علی — فروری 6، 2008 10:14 صبح
خوش آمدید ابو کاشان
سیدہ شگفتہ — فروری 25، 2008 3:30 شام
السلام علیکم
خوش آمدید !
ابو کاشان — جون 23، 2008 8:09 شام
السلام علیکم
خوش آمدید !
وعلیکم السلام شگفتہ جی!
آپ کو تو معلوم ہے کہ مجھ پر "علامہ" کی کتنی" دہشت" طاری ہے کہ کسی اور طرف دھیان کی نہیں جاتا۔
اب شائد "فرشتے کا دشمن" پکڑنے نکل پڑوں۔
خیر کچھ فرصت ملی تو یہاں بھی ضرور آؤں گا۔
باقی تمام دوستوں کا بے حد شکریہ
تعبیر — جون 23، 2008 11:07 شام
خوش آمدید :)
الف عین — جون 24، 2008 5:34 صبح
میں وہی یاد کر رہا تھا کہ ابو کاشان نے اصل نام کہیں بتایا تھا اور آج خیال آیا تھا کہ ان کا تعارفی پیگام ڈھوندوں اور آج یہ سامنے آ ہی گیا۔
باز خوش آمدید عمران
خرم شہزاد خرم — جون 24، 2008 5:37 صبح
جی جی عمران بھای پھر خوش آمدید
ابو کاشان — جون 24، 2008 5:50 صبح
میں وہی یاد کر رہا تھا کہ ابو کاشان نے اصل نام کہیں بتایا تھا اور آج خیال آیا تھا کہ ان کا تعارفی پیگام ڈھوندوں اور آج یہ سامنے آ ہی گیا۔
باز خوش آمدید عمران
اور آپ ہی نے مجھے میری شادی کی پہلی سالگرہ پر سب سے پہلے مبارک باد بھی دی تھی اور کاشان میاں کو دعائیں بھی۔
ماشاءاللہ کاشان اب 9 ماہ کے ہو چکے ہیں۔ دائیں طرف آپ نے ان کی تصویر تو دیکھ ہی لی ہو گی۔
آپ سب کی محبت و اُلفت کا بہت شکریہ۔
زینب — جون 24، 2008 9:11 صبح
شکریہ،
مندرجہ ذیل پر اگر کوئی اعتراض ہو تو اافہ کیا جا سکتا ہے۔
میری ناقص معلومات کے مطابق کنیت رکھنا عربوں کا رواج رہا ہے اور اسلام کے ظہور کے بعد بھی اسے جاری رکھا گیا ہے۔
چنانچہ اس پرعلماٴ فریقین کااتفاق ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّم کی کنیت ” ابوالقاسم “ اورآپکے دادا کی ابوعبداللہ تھی اوراس پربھی علماٴ متفق ہیں کہ ابوالقاسم کنیت خود سرورکائنات کی تجویزکردہ ہے ۔
ابو القاسم :
حدیث نمبر 1 : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تھے ایک شخص نے دوسرے شخص کو آواز دی ” اے ابو القاسم “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے ، اس نے عرض کی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب نہیں کررہا تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت (ابو القاسم) پر کنیت نہ رکھو ۔ ( سنن ابن ماجہ از ابن ماجہ (م 273 ھ ) ج 2 ص 422 طبع لاہور 1983 ء)
حدیث نمبر 2: عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال تسموا باسمی ولا تکتنوا بکنیتی فانی انا ابو القاسم ۔ ( شرح معانی الآثار از امام ابی جعفر طحاوی م311 ھ ج 2 ص 366 )
یعنی میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ، بے شک میں ابو القاسم ہوں۔
سو سنت ہے۔
یاد رہے کہ کنیت اولاد کے نام کی نسبت پر رکھی جاتی ہے۔ جیسے میرا بیٹا کاشان تو میں ہوا "اَبُو کَاشَان"۔اور میری زوجہ ہوئیں "اُمِّ کَاشَان"۔
باقی تفصیل انشاءاللہ آئندہ۔۔

معلومات میں اضافے کا شکریہ۔۔۔۔پر پا جی وہ میں نے مذاق میں کہا تھا
ابو کاشان — جون 24، 2008 7:28 شام
معلومات میں اضافے کا شکریہ۔۔۔۔پر پا جی وہ میں نے مذاق میں کہا تھا

چلو کام کی بات ہے۔ کہیں نہ کہیں کام آ ہی جاتی ہے۔
کل جب یہ پوسٹ دیکھی تو یاد آیا کہ تم تو وہی زینب ہو۔ اپنی ٹیم3 والی
زینب — جون 26، 2008 8:24 صبح
ہاہاہاہا آپ کو میرا نام دیکھ کے یاد آیا۔۔۔۔تو اپ کسی اور زینب کو بھی جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا خیال ہے پا جی میں یہاں‌ایک ہی زینب ہوں اپنے نام کی ایک۔۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد — جون 26، 2008 12:31 شام
اور ایک ہی کافی ہے اردو محفل کے لیے۔
ابو کاشان — جون 26، 2008 12:34 شام
اردو محفل تو ایک ہی ہے لیکن اردو فورمز تو کئی ایک ہیں نا۔
کافی سارے لوگ کافی ساری جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔
طاہر شیخ — جولائی 4، 2008 6:25 صبح
خوش آمدید جناب
اچھی نبھے گی آپ کے ساتھ
انشاءاللہ
ابو کاشان — جولائی 4، 2008 6:43 صبح
خوش آمدید جناب
اچھی نبھے گی آپ کے ساتھ
انشاءاللہ
آپ کو بھی خوش آمدید
نیک امیدیں ہر وقت اور ہر جگہ ساتھ ہونی چاہئیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8%D9%88-%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81.9965/page-2