اسلام و علیکم

جہانزیب — ستمبر 29، 2005 6:48 صبح
اس محفل پر بہت سے لوگ مجھ سے واقف ہیں اور زیادہ تر نہیں ہیں جن کے لئے میں نے سوچا ایک عدد تعارفی ملاقات کا انتظام کیا جا سکے۔۔
تو جناب میرا نام جہانزیب اشرف ہے۔ اور آج کل میں نیویارک میں قیام پذیر ہوں اور قیاس یہی ہے کہ ایک لمبے عرصے تک یہاں ہی رہوں گا۔۔
بنیادی طور پر میرا تعلق پاکستان کے نسبتا ایک پسماندہ شہر سرگودھا سے ہے جو کہ لاہور کے شمال مغرب اور اسلام آباد کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔۔ سرگودھا کو پاکستان میں تو لوگ اچھی طرح سے جانتے اور پہنچانتے ہیں مگر پاکستان کے باہر بہت کم لوگوں کو سرگودھا کے بارے میں علم ہے۔ پاکستان میں سرگودھا کو شاھینوں کے شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ ھوائی فوج کے سب سے کارآمد اڈے کی مناسبت سے اسے تقویض کیا گیا ہے۔۔ سرگودھا نام کے بارے میں بہت سی آراء پائی جاتی ہیں مگر سب سے معتبر حوالہ سے یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے سر جو کہ پنجابی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب تالاب ہے اور گودھا۔۔ کہتے ہیں جس جگہ آج کل سرگودھا کا ریلوے سٹیشن قائم ہے کسی زمانے میں یہاں ایک تالاب ہوا کرتا تھا جس کے مالک کا نام گودھا تھا اور قریب کا علاقہ اسی مناسبت کی وجہ سے سرگودھا کے نام مشہور ہو گیا۔۔ یہ لو میں نے اپنا تعارف چھوڑ کر سرگودھا کا تعارف شروع کر دیا ہے۔۔
تو جناب میں نے پاکستان میرین اکیڈمی سے میرین ٹیکنالوجی میں بی ایس کیا ہے۔ اور قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ میری پاسنگ آؤٹ کے فورا بعد ہی ہم لوگوں کا امریکہ امیگریشن ہو گئی۔۔ اور ہم خواب سجائے یہاں تشریف لے آئے۔۔ سب سے پہلے سوچا کہ میں تو افسر ہوں چلو کسی بحری جہاز پر چلتے ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ہم کو اگلوں نے ٹھینگا دکھا دیا کہ جب تک امریکی پاسپورٹ نہیں ہے آپ ایک امریکی افسر کے روپ میں جہاز پر نہیں جا سکتے ہیں۔۔ ھم نے سوچا چلو ٥ سال ہی ہیں جو کہ اللہ اللہ کر کے اب پورے ہو گئے ہیں انتظار کر لیتے ہیں مگر جن کو انتظار کا تجربہ ہے وہ جانتے ہوں گے کہ کتنا کرب ناک ہوتا ہے۔۔ مگر ان پانچ سالوں میں مجھے ایک گھر بھی چلانا تھا تو نیویارک میں ہی ایک چھوٹی سی ای کامرس کی کمپنی سے منسلک ہو گیا ۔۔۔ اب میرا پاسپورٹ آ چکا ہے چند کاغذات کی تیاری کرنا تھی جو کہ ہو چکی ہے اور اب انشاللہ مستقبل قریب میں میں جہاز پر چلا جاؤں گا اور تب پتا نہیں کب ملاقات ہو۔۔۔ تو یہ تھا میرا ایک مختصر سا تعارف :lol:
اور اگر کسی کو اب بھی تشنگی محسوس ہو تو سوالات کی بوچھاڑ کر سکتا ہے میں حتی الامکان جواب دینے کی کوشش کروں گا۔۔
والسلام
افتخار راجہ — ستمبر 30، 2005 10:26 شام
مسرت
جہانزیب صاحب
آپ کے بارے میں جانکر دلی مسرت ہوئی اور کچھ کسک سی کہ آپ بھی ان لوگوں میں سےہیں جنہوں نے پاکستان میں اپنا آپ بنایا یعنی میڈ ان پاکستان مگر خدمت دوسروں کی کر رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اسکا الزام آپ کو نہیں دیا جا سکتا کیوں بہتر رزق کی تلاش انسان کی فطرت بھی ہے اور حق بھی بلکل اس گاھک کی طرح جو بازار سے اچھی اور سستی چیز خریدنے کےلیے کوششاں ہوتا ہے۔ میری آپنی صورتِ حال بھی آپ سے کچھ مختلف نہیں، بلکہ ہر وہ بندہ جو کسی قابل ہے وہ باہر آنے کے چکر میں ہے، میری ایک کزن ہیں دوسال پہلے انہوں نے ایم بی بی ایس کیا ہے اور اب وہ سپشلائیزیشن کررہی ہیں ہسٹو پیتھالوجی میں، مجھے کہہ رہی تھیں کہ بھائی آپ ادھر ہوتے ہو دیکھنا اگر ہسپتال میں کوئی پوسٹ ملے بطور پیتھالوجسٹ تو مجھے بتانا۔
اور میرے ساتھی کالج کے لیکچرارز میں سے بھی ہر بندے نے فرداُ فرداُ کہا کہ ہمارا خیال رکھنا۔ اور اپنا فون نمبر دے جاوُ کہ دل تھام کے رکھو ہم بھی آتے ہیں۔
جہانزیب — ستمبر 30، 2005 10:40 شام
راجہ بھائی ذاتی طور پر تو میرا آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔ اور یہاں آ کر میں واپس بھی چلا گیا تھا۔۔ مگر بہت سی مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں انسان سوچتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے۔۔۔ میرے بھائی کو یہاں تعلیم مکمل کرنا تھی اور اس دوران کسی کو گھر بھی چلانا تھا۔۔۔ دوسرا پاکستان میں لوگوں کا رویہ بھی واپس یہاں لے آتا ہے۔۔ کہ جی امریکہ جا کے کون واپس آتا ہے :lol: تمہارا دماغ خراب ہے وغیرہ وغیرہ
افتخار راجہ — اکتوبر 1، 2005 8:19 شام
جی بلکل ایسی ہی بات ہے اور میں پہلے بھی اپنے ذاتی تجربہ پر کہ چکا ہوں کہ اس میں آپ کا یا کسی بھی سمندر پار بسنے والے قصور نہیں ہے کہ وہ باہر رہتے ہیں اصل میں کچھ حالات ہی ایسے ہو چکے ہی کہ اسکے سوا کو ئی چارہ نہیں، پاکستان میں نہ تو انصاف ہے اور نہ ہی تحفظ کہ بندہ سکون سے رات کو اپنے گھر میں سو سکے۔
جب انصاف اور ادارے ختم ہو جائیں تو باقی کچھ زیادہ نہیں رہ جاتا۔
منہاجین — اکتوبر 1، 2005 8:49 شام
من تُرا حاجی بگویم تُو مُرا حاجی
من تُرا حاجی بگویم تُو مُرا حاجی بگو
اب آپ دونوں ایک دوسرے کو بری الذمہ ہی قرار دیتے رہیں گے یا پسماندگان کے حق میں بھی کوئی دعا کریں گے؟​
افتخار راجہ — اکتوبر 1، 2005 10:16 شام
حضور ہمار ے پسماندگان کو دعا سے کچھ ہونے والا نہیں انکو تو بس گنی ہوئی رقم چاہیے۔ اب تو یہ حال ہے کہ فوٹو پاکستان روانہ کرو اور ساتھ پیسے بھی بھجھواو تو جواب ملے گا بھئ واہ واہ ماشاللہ کیا صحت پائی ہے۔ ایک بار صرف فوٹو روانہ کر دیئے تو جواب ملا کیابات ہے بھئ یہ صحت کو کیا کرلیاہے۔
ایک دفعہ ابا جان سے فون پر بات ہورہی تھی تو کہنے لگے یار کوئی پیسے شیسے ہی بھجوادو۔ پوچھا جناب کتنے بھجوادوں تو کہنے لگے یار کوئی تین چار لاکھ بھجوادو، میں نے کہا کہ آپ اتنے پیسوں کا کیا کریں گے تو یوں گویا ہوئے “ تم پیسے بھجوادو ہم خرچ کرلیں گے“ ۔
اب آپ ہی بتائیے کہ دعا سے کہاں تک کام چلایا جاسکتاہے۔
جہانزیب — اکتوبر 2، 2005 4:43 صبح
ہاہا افتحار بھائی بہت خوب۔۔
ویسے جب پاکستان واپس جائیں تو پہلا سوال ہوتا ہے کیسے ہو دوسرا سوال اچھا اب واپس کب جانا ہے :laugh:
اجنبی — اکتوبر 3، 2005 8:26 صبح
اچھی بات ہے ایک دوسرے کو تسلی دیتے رہیے ، اس سے منہاجین کا خون جلے گا تو پٹرول کی کمی پوری ہو جائے گی :lol:
جہانزیب آپ جہاز پر لیپ ٹاپ لے کر بھی تو جا سکتے ہیں
منہاجین — اکتوبر 3، 2005 10:58 صبح
مہنگائی
حاضرینِ محفل! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پٹرول اِتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ قدیر کا ایسی بات کرنا معیوب نہیں ہے۔
قمر — اکتوبر 4، 2005 5:21 صبح
یار پاکستان جیسا بھی ہے اچھا ہے اسی کی وجہ سے آپ سب کچھ ہو
اجنبی — اکتوبر 4، 2005 5:28 صبح
جناب ہمیں پاکستان سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ پاکستان جیسا ملک تو پوری دنیا میں نہیں ہے ۔ یہاں ہمیں جتنی آزادی ہے امریکہ یا کسی اور ملک میں نہیں ہو سکتی ۔ یہاں اگر آپ فٹ پاتھ پر پشی کر دیں تو کوئی آپ کو نہیں ٹوکے گا جبکہ باہر تو تھوکنے پر بھی پابندی ہوتی ہے ۔ یہاں آپ پیسے سے ہر کام کرا سکتے ہیں ، باہر اتنی آسانیاں نہیں ہیں :wink:
ہمیں شکایت پاکستان کی انتظامیہ سے ہے جو اپنی جیبیں بھرتی ہے اور عوام کے لیے کچھ نہیں کرتی
افتخار راجہ — اکتوبر 5، 2005 9:08 صبح
ہیں قدیر صاحب یہ آپ پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں یا کیڑے نکال رہے ہیں یا پھر صرف مجھے کیڑے نظر آرہےہیں ؟؟؟
اجنبی — اکتوبر 18، 2005 4:12 صبح
:pak: میں نے تو تعریف ہی کی ہے ، اب آپ کو کیڑے نظر آرہے ہیں تو میں کیا کہوں :beating:
قمر — اکتوبر 18، 2005 4:56 صبح
یار یہ تبصرے اور دوسرروں کو برا کہنا ھماری پرانی عادت ہے ہم دیکھیں خود کتنے اچھے ہیں اور اگر کسی برے کو ہم جانتے ہیں تو اس کو اچھا کرنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں
افتخار راجہ — اکتوبر 19، 2005 10:02 صبح
مذاق
خير قدير سے توميں ازرائے تفنن کہہ رہا تھا مگر حقيقت ہے کہ جہاں جو برائياں موجود ہيں انکي نشاندہي کرنا، برے کو برا کہنا ہي جونمردي ہے ۔
پاکستان ہمارا وطن ہے اور ہميں دنيا کے کسے بھي ملک سے زيادہ عزيز ہے وہ کيا کہتے ہيں کہ آپني تنکوں کي جھونپڑي دوسرے کے محل سے زيادہ اچھي لگتي ہے مگر اس محاورہ ميں يہ نہيں لکھاگيا کہ وہ ہوتي تنکوں کي ہے ۔ تو صاحبو پاکستان ہماري تنکوں کي ہي جھونپڑي ہے جسے ھم دوسروں کے محل سے زيادہ اچھا سمجھتے ہيں ورنہ بارش کا پہلا قطرہ ہميں آپنا پتا بتاتا ہے اور يہ بارش کے دو دن بعد تک ٹپکتي ہے۔
طوفان امريکہ ميں آيا تو پيٹرول کي قيمتيں پچاس روپئے کي حد کو عبور کرگئيں ۔ جبکہ مزدور کي ديہاڑي آج بھي ايک سو روپيہ ھي ہے۔ گزشتہ دنوں ميں يورپ ميں تنخواہيں پانچ فيصد بڑہيں تو پاکستان ميں کتنا اضافہ ہوا تھا؟
اجنبی — اکتوبر 20، 2005 4:46 صبح
یہ ساری کارستانی ان کی ہے جن کے ہاتھ میں عنانِ حکومت ہے ، پاکستان کا تو کوئی قصور نہیں ہے 8)
افتخار راجہ — اکتوبر 20، 2005 10:11 شام
پاکستان اور حکمران
اچھا جی تو کیا وہ لوگ جرمنی سے گئے ہوئے ہیں وہ بھی تو پاکستان کا ہی حصہ ہے بلکہ ایک بڑا حصہ۔ اگر میری بات کا یقین نہ ہو تو ذرا قومی بجٹ میں سے عوام کا حصہ نکالیے ؟
اجنبی — اکتوبر 21، 2005 4:11 صبح
ہم کیسے حصہ نکال سکتے ہیں ، ہمارا حصہ تو وہ اوپر والے نکال جاتے ہیں ،ہماری باری آئے تو پھر کچھ کریں :tv:
جہانزیب — اکتوبر 22، 2005 12:21 صبح
قدیر احمد نے کہا:
یہ ساری کارستانی ان کی ہے جن کے ہاتھ میں عنانِ حکومت ہے ، پاکستان کا تو کوئی قصور نہیں ہے 8)
جس کا جتنا داؤ لگتا ہے وہ اتنا کرتا ہے قدیر مجموعی طور پر ہر جگہ خرابی موجود ہے اب تمہیں اپنا لائبریری والا ایڈونچر تو یاد ہو گا نا :wink:
اجنبی — اکتوبر 22، 2005 5:01 صبح
ہاہا ، لیکن جناب میں نے تو تحصیلِ علم کے لیے وہ ایڈونچر کیا تھا
ویسے پرسوں ایک اور کتاب اٹھائی ہے ، یونس بٹ کی مزاح گردی ، اسے پڑھنے کے بعد بہت افسوس ہو کہ کیوں اٹھائی ، اس کا عنوان ہونا چاہیے تھا ، قبل مسیح کے لطیفے ، اب میں اسے واپس رکھنے کا سوچ رہا ہوں :lol:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%88-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%85.343/