کیا خوب ترجمانی کی ہے آپ نے محسن بھائی دو بڑے شاعروں کی ۔۔۔۔

آخر آپ دیکھیں تو غالب کی قدر بھی اس کے مرنے کے بعد ہوئی ۔۔۔۔ کم از کم ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہم کو ہماری زندگی میں سراہ دے ۔




انشاءاللہ کبھی ضرور لکھوں گا شگفتہ جی ۔۔۔کہ نہ جانے کیوں ابھی ایموشنل ہوگیا ہوں ۔ ویسے شمشاد بھائی بتائیں گے کہ میں نے یہاںمحفل پر ان کے ایک دو واقعات کہاں لکھیں ہیں ۔
غالب نے یہ مصرع شاید اپنے دوست مولانا فضل حق خیرآبادی کی وجہ سے لکھا ہوگا جنہوں نے انہیں اپنے کلام کو سہل کرنے کا کہا تھا۔