امن ایمان نے کہا:
وعلیکم السلام امن ایمان
سب سے پہلے تو ‘معذرت معذرت معذرت‘ (سوری شمشاد بہائی)
کہ انٹرنیٹ کنیکشن کی خرابی نے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈالی ہوئی تھی،ابھی بھی ٹھیک کام نہیں کر رہا، کب غائب ہوجاؤں کچھ پتہ نہیں!
آپ کی مایوسی کے خیالات مجھے آٹھ آٹھ آنسو رلانے ہی والے تھے کہ خبررساں ایجنسی نے خبریں مستعدی سے پہنچادیں سو کچھ تو بیمار کا حال اچھا ہوا۔(تھینکس باجو)
مصروفیات نے کچھ ایسا گھیرا ہے کہ خواہش کے باوجود محفل سے اکثر ہی بہت غیر حاضری ہوجاتی ہے بلکہ کبھی کبھی تو لگتا ہے : ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
اس دوران آپ اور کئی نئے ممبران کا گرانقدر اضافہ ہو چکا ہے
کئی ہستیوں کے تفصیلی انٹرویوز کے بارے میں جملے پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔ پھر
میری جستجو اور فزوں ہوجاتی ہے کہ ایک دن مکمل انٹرویو پڑھ کر اپنی رائے اور سوال بھی لکھوں گی
: اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
پہلی بات تو یہ کہ آپ کو ابھی میرا انٹرویو نہیں کرنا چاہیئے تھا، میری ناقص رائے کے مطابق محفل کی کئی ایسی شخصیات ہیں جن کا انٹرویو ہونا چاہیئے۔ ۔ ۔ ۔
اس سلسلے میں ایک فرمائش کا جیسے ہی سوچا آپ نے تاڑ لیا اور کھٹ سے دھاگہ پرودیا، ‘‘اوپس‘‘، کھول دیا، اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت لہذا :
اعتراف اپنی خطاؤں کا میں کرتی ہی چلوں
جانے کس کس کو ملے میری سزا میرے بعد
مجھے لگتا تھا کہ میں ایک کھلی کتاب ہوں بلکہ ملنے والوں نے مجھے اس کا یقین دلایا، اس لیئے مجھے اندازہ تک نہیں ہوا کہ آپ لوگ میرے بارے میں اتنے متجسس ہوں گے۔۔۔!
ایک دوست تو ہمیشہ کہتی ہے نیناں یار بچوں کی طرح ازخود ہر بات بتائے جاتی ہو کچھ تو چھپانا سیکھ لو۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔!
یوں بھی جب سے 'بے بی ہاتھی' نے بلی کو تھیلے سے باہر نکالا میرے بارے میں جاننے کو کچہ باقی ہی نہیں رہا اب آپ کا اصرار ہے تو پھر یہ ہی سہی :
دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو
اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
کیا فون نمبر لکھے تھے سب نے دھڑا دھڑ ۔