ہمیں مراسلے کا یہ حصہ مصنف کی زبانی نہ صرف مکمل اور کئی بار بلکہ تفسیر کے ساتھ سننے کا عذاب سہنا پڑا ہے اوہ ہمارا مطلب تھا کہ شرف حاصل رہا ہے۔
ہمیں مراسلے کا یہ حصہ مصنف کی زبانی نہ صرف مکمل اور کئی بار بلکہ تفسیر کے ساتھ سننے کا عذاب سہنا پڑا ہے اوہ ہمارا مطلب تھا کہ شرف حاصل رہا ہے۔
اچھا جبھی میں کہوں کہ سارا دن، ساری رات آن لائن کیسے اور کیوں رہتے ہیں محفل پر
ہم دہقانی الطرفین ہیں۔ یعنی ہمارے ننہال اور ددیہال دونوں خاندانوں کا بنیادی ذریعہ معاش کاشت کاری ہوا کرتا تھا۔ ہمارے یہاں عموماً گندم، چاول، گنا، آلو، و دیگر سبزیوں سمیت مختلف دالوں کی کاشت ہوتی تھی۔ زمینیں بھی بس گزارے بھر کی تھیں۔ ہمارے دادا جان حولدار تھے، لیکن جب ہم نے ہوش سنبھالا تو ان کو پنشن کی عمر میں پایا۔ البتہ ان کی رعب دار، ملنسار، اور حق پسند طبیعت کے چلتے جوار میں سبھی لوگ ان کو جانتے تھے لہٰذا ہم ان کے حوالے سے اپنی شناخت کراتے تھے اور دادا جان کے ساتھ روز صبح کوئیں پر جا کر غسل کرتے تھے۔ ہمارے آبائی گاؤں کے آس پاس تعلیمی نظام نہ کے برابر تھا لہٰذا ہم نے بچپن کا بیشتر حصہ وہاں سے پچاس کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ننہالی گاؤں میں گزارا اور وہیں کے مدارس میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ننہال میں ہمیں اکلوتے ماموں جان کی سرپرستی حاصل رہی جو کہ ان دنوں ماسٹر صاحب ہوا کرتے تھے اور اچھی شاعری کرتے تھے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے علم طب حاصل کر کے ڈاکٹر صاحب بن گئے۔ ان دنوں ہمارے یہاں فون اور انٹرنیٹ وغیرہ کا تصور نہیں تھا، البتہ ماموں جان اور بڑے بھائی جان سے باقاعدگی کے ساتھ مکتوبات کے ذریعہ رابطہ رہتا تھا۔ وہ خطوط تو خیر اب محفوظ نہیں رہے، کچی مٹی کی دیواروں والے کھپریل مکان کے ایک کمرے میں کوٹھلے کے اوپر لکڑی کی صندوق میں ان کا بنڈل رکھا ہوا تھا، شاید کسی شدید بارش میں بہہ گیا ہوگا۔
اس کا کوئی حتمی اندراج تو کہیں موجود نہیں، لیکن مختلف آثار و واقعات کی بنیاد پر درست ترین قیاس کے مطابق ہم نے 15 جنوری، 1985 کو آنکھیں اور مٹھیاں بند کر کے شور مچانا شروع کیا۔ چند روز بعد ہمیں نام دے دیا گیا کہ شاید کچھ پا کر ہم خاموش ہو جائیں، لیکن اس کا فائدہ فقط یہ ہوا کہ کون چیخ رہا ہے یہ بتانا سہل ہو گیا۔
موجودہ سائنس اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ ستارے گردش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی غالباً اجسام فلکی کو تیرتا ہوا بتایا گیا ہے۔ نیز ہم نے موسم گرما کی راتوں میں کھلی چھت پر لیٹ کر گھنٹوں تاروں بھرے آسمان کو نہارا ہے اور بیشتر ستاروں و سیاروں کی گردش کا مشاہدہ گیا ہے، بلکہ صبح اٹھ کر کہکشاں تک کو اس کی جگہ سے ہٹا ہوا پایا ہے۔ لہٰذا ان کی چال پر یقین نہ رکھنے کا تو کوئی جواز نہیں بنتا، البتہ ان کی چالبازیوں کا کچھ نہیں کہہ سکتے۔
ہمارا تعلیمی سفر بڑا ہی منتشر اور غیر متوقع قسم کا رہا۔ ابتدا مدرسے سے ہوئی اور نویں جماعت تک مختلف مدارس میں زیر تعلیم رہے۔ اس طرح اسلامیات، ریاضی، سائنس، تاریخ، جغرافیہ جیسے بنیادی علوم کے ساتھ ساتھ اردو، فارسی، عربی، ہندی، اور انگریزی زبانوں سے آشنائی ہوئی۔ چند ماہ ایک ایسے مدرسے میں بھی گزرے جہاں عربی نحو و صرف کی کتابیں بھی فارسی زبان میں ہوا کرتی تھیں۔ بعد ازاں مدارس کو خیرباد کہا اور صوبائی بورڈ کے تحت سائنس میجر میں ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی۔ کالج میں آ کر عربی، فارسی، قرآن، حدیث، صرف و نحو وغیرہ کے مضامین تو خارج از نصاب ہو گئے لیکن ریاضی، سائنس، ہندی، و انگریزی پر توجہ مزید فیہ ہوگئی، نیز تاریخ، جغرافیہ، سماجیات، سیاست، و معاشیات وغیرہ کو ایک مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھنے کا موقع ملا۔ صوبائی بورڈ کے کالج کی بنیادی زبان ہندی تھی جبکہ ہم اس سے قبل تک بنیادی طور پر اردو زبان میں زیر تعلیم رہے تھے لہٰذا کچھ عرصہ ہندی سے ہم آہنگ ہونے میں لگے۔ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے دوران تھوڑی بہت سنسکرت سے بھی پالا پڑا کیونکہ وہ کورس کا لازمی جزو قرار پایا تھا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد کچھ عرصہ انجنئیرنگ کالج میں داخلے کی تیاری کی اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے کمپیوٹر انجنئیرنگ ڈیپارٹمنٹ سے بی ٹیک کیا۔ انجنئیرنگ کالج میں بنیادی زبان انگریزی تھی اس لیے ایک دفعہ پھر سائنسی اصطلاحات ذہن پر چوٹ مارنے لگیں اور ان سے مانوس ہونے میں کچھ عرصہ لگا۔ بی ٹیک کے بعد ٹھیک ایک برس دہلی میں ہی ایک سافٹوئیر کمپنی میں بطور کمپیوٹر سائنٹسٹ ملازمت کی اور اس کے بعد ماسٹرس اور پی ایچ ڈی کی غرض سے امریکہ کے لیے رخت سفر باند لیا، تب سے یہیں پائے جاتے ہیں اور ابھی تک زیر تعلیم ہیں، لہٰذا اس قصے کو تا حال نا تمام گردانا جائے۔ ہم نے دوران تعلیم بیشتر وقت گھر سے دور رہ کر گزارا۔ تیسری جماعت سے گھر سے باہر رہ کر پڑھنا پڑا، انواع و اقسام کے ہاسٹل زیر بار رہے تو کبھی دیگر احباب کے اشتراک میں کمرہ کرائے پر لے کر رہے، کبھی خود چولہا جلایا تو کبھی میس یا ٹفن وغیرہ پر گزارہ ہوا، کبھی سبزی مسالوں اور چائے پانی کے اخراجات کا بجٹ بنانا پڑا تو کبھی مشترکہ ادھار اور فاقہ مستی کے حالات سے گزرے، کبھی امتحانات کے دنوں میں اچھی خاصی کتابوں کے حصے بخرے کیے تاکہ بیک وقت کئی لوگ مختلف اجزائے کتب سے استفادہ کر سکیں، تو کبھی دو تین گھنٹوں میں پورے سیمسٹر کے کورس ورک کا اعادہ کیا اور کرایا۔ انجنئیرنگ کالج میں ہمیشہ پہلی قطار میں بیٹھے اور چار سال کی مدت میں ایک عدد نوٹ بک بھی مکمل نہ لکھا، بلکہ ضرورتمندوں کو اپنی قلم دے کر توجہ سے معلمین (و معلمات) کا لکچر سنتے رہتے۔ انجنئیرنگ کے آخری سیمسٹر میں 98 فیصد حاضری کے ساتھ ہم جماعت حاضر ترین طالبات کو بھی پیچھے چھوڑ کر ہم خود حیران رہ گئے۔ انٹر میڈیٹ کے بعد جب پہلی دفعہ لکھنؤ پہنچے تو کمپیوٹر دیکھنے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کا موقع ملا اور انجنئیرنگ کے سال سوم میں پہلی دفعہ صاحب کمپیوٹر ہوئے، وہ دن اور آج کا دن۔۔۔ ویڈیو ٹیوٹوریل، ڈیجیٹل کتب اور دیگر آن لائن موادوں کی مدد سے کافی کچھ سیکھا اور سیکھ رہے ہیں۔
مڈل اسکول تک کے تعلیمی سفر میں پانچ مختلف مدارس اور ایک سرکاری اسکول میں ہمارے نام کا اندراج مل سکتا ہے۔ ان میں سے بیشتر اسکول دیہی علاقوں میں واقع ہیں لہٰذا ان کے نام اور پتے بتانے کا تکلف عبث ہے۔ اس کے بعد ننہالی گاؤں کے قریب واقع ایک قصبے میں موجود انٹر کالج سے ہائی اسکول کیا اور انٹرمیڈیٹ کے لیے ایک اور انٹر کالج کا رخ کیا۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے کمپیوٹر انجنئیرنگ میں بیچلرز آف ٹیکنولوجی کی ڈگری حاصل کی۔ ہندوستانی اداروں سے تعلیم کا سلسلہ یہیں رک گیا اور ہم اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک آ گئے۔
یہاں بغرض اعلیٰ تعلیم نا چیز آوری ہوئی تھی اور ابھی تک پر سکون نہ ہو سکے۔ تعلیمی سلسلہ تمام ہو تو سوچیں گے کہ ساکن ہونا ہے یا متحرک۔
شہریت ہندوستانی ہے اور اس کے علاوہ ابھی تک فقط امریکہ میں رہائش اختیار کی ہے۔ نیپال اور سعودی عرب دو ایسے ممالک ہیں جہاں بطور زائر چند روز ٹھہرے ہیں۔ البتہ ہوائی مستقر پر چند گھنٹوں کا قیام شمار کیا جائے تو ابو ظہبی سمیت چند ایک یورپی ممالک شامل ہوں گے جن میں برطانیہ، نیدر لینڈس، اور فرانس کے نام ذہن میں آ رہے ہیں۔
)امن بٹیا کے شہر میں مکھن ارزاں ہوا لگتا ہے۔
یعنی آپ انٹرویو کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتیں بلکہ جوابات پڑھ کر فی البدیہہ سوالات ترتیب دیتی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ بطور انٹرویو کوآرڈینیٹر آپ کے ذہن میں ایک خاکہ ہونا چاہیے کہ سوالات کی مجموعی ترتیب کیا ہوگی اور کس نوعیت کے سوالات کب پوچھے جائیں گے۔
اتفاق سے ہم واقعی سوال کا ما فی ضمیر نہیں سمجھ سکے۔ جہاں تک سمجھے ہیں اس کے مطابق جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ زندگی کے ابتدائی ایام ایک عام دیہاتی شخص کی طرح سادگی اور جفاکشی میں گزرے۔ وسائل زندگی محدود ہوں تو پریشانیاں اور خواب بھی ایک مخصوص سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ گھر میں کبھی ٹی وی نہ ہونے کی وجہ سے کسی اور طرز زندگی کا تصور محض کتابی تھا۔ فلموں سے بھی واسطہ ایسا رہا کہ باقاعدہ پہلی فلم (تارے زمین پر) بی ٹیک کے بعد امریکہ آتے ہوئے ہوائی سفر کے دوران دیکھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے، ہم جس کمپنی میں بطور کمپیوٹر سائنٹسٹ ملازمت کر رہے تھے وہاں سال نو کے موقع پر ایک اعلیٰ قسم کے پب میں رقص اور مشروبات وغیرہ کا اہتمام کیا گیا۔ وہاں جا کر ہم پر یہ راز منکشف ہوا کہ "آئی ایم ٹو اولڈ ٹو ڈانس"۔ البتہ فکری اعتبار سے ہم نے ہمیشہ خود کو میانہ رو پایا ہے نیز ہم میں جدت پسندی اور کہنہ خیالی کے اونچ نیچ پہلؤوں کا موازنہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ اس بات کا تعلق کسی ملک یا قوم سے نہیں۔ ہر طبقے کی طرز زندگی، لباس، اور انداز گفتگو عمومی طور پر ان کی شناخت کا وسیلہ ہو سکتی ہے۔ ویسے یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں، بعض اوقات ظاہری رکھ رکھاؤ اور گفتگو سے کسی کا پس منظر آسانی سے ظاہر نہیں ہوتا۔
آپ کے سوالات کی ذیل میں جو اضافی نوٹ ہے اس کا درج ذیل حصہ قابل توجہ ہے:
اگر واقعی آپ کو اس موضوع پر معلومات کا حصول مقصود ہے تو ہم اس موضوع پر اتھارٹی نہیں اس لیے آپ کو زیادہ موزوں افراد کی تلاش کرنی چاہیے۔ ایک مشورہ یہ ہو سکتا ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ فرد واحد کے جواب پر تکیہ کریں، آپ ایک علیحدہ لڑی میں ایسے سوالات رکھیں اور زیادہ لوگوں کی آرا سے مستفید ہوں۔
سعود بھائی یہ دھاگہ اسی مقصد کے لیے بنایا تھا۔۔دراصل ایک تو ترتیب وارسوالات پوچھتی ہوں پھر جو جوابات دیے جائیں اُن کو پڑھ کے مزید انہیں میں سے کچھ اور پوچھنا چاہوں تو اس کے لیے عموما یہی لکھتی ہوں کہ کچھ اور سوالات ذہن میں آئے
آپ نے میرے سوال کو بہت احسن طریقے سے سمجھا اور جواب دیا،میں یہی جاننا چاہ رہی تھی
جی شکریہ
ہم پانچ بھائی ہیں جبکہ بہنوں کی تعداد ہم شمار نہیں کرتے۔ ایک وقت تھا جب ہم کہا کرتے تھے کہ ہم اس نعمت سے محروم ہیں لیکن یہ کافی پرانی بات ہے۔ ہمارے ایک بھائی ہم سے بڑے ہیں اور ان سے ہمارے تعلقات ہمیشہ ایسے رہے کہ ساڑھے گیارہ برس تک "برادر خرد مباش" والا محاورہ غلط محسوس ہوتا رہا، حتیٰ کہ ہم برادر خرد نہیں رہے اور پھر اس محاورے سے پیچھا چھوٹ گیا۔
ہم سارے بھائی ایک دوسرے سے بے حد قریب ہیں۔ تینوں چھوٹے بھائیوں کا ہم دو بڑے بھائیوں سے عمروں میں خاصا فاصلہ ہے پھر بھی ہم باہم دوست ہیں۔ بہنوں سے ہمارے تعلقات کیسے ہیں اس کا تو آپ کو بھی علم ہونا چاہیے۔
خوشگوار یادیں انگلیوں پر تو شمار نہیں کی جا سکتیں، البتہ گاہے گاہے تلخ و شیریں باتیں یاد آتی رہتی ہیں۔ ایسے میں کچھ فارغ وقت ہو اور کمپیوٹر پاس ہو تو کسی نہ کسی رنگ میں ان یادوں کو تحریر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً تھم جا بچہ تھم جا یا پھر طائر تخیل۔ ویسے بہت چھوٹے تھے تب سے ماموں جان اور بھائی جان سے با قاعدہ تسلسل کے ساتھ خط و کتابت رہتی تھی، اس سے جڑی کچھ باتیں ہیں جن کا تصور ہی مسکان انگیز ہے۔ کبھی وقت ملا اور تحریک ہوئی تو انھیں تحریر کرنے کی کوشش کریں گے۔
کئی افسردہ کن واقعات ہیں لیکن انھیں بیان کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کچھ باتیں ایسی بھی یاد ہیں جن کا تعلق ہماری بے بسی سے ہوتا تھا اور ہم سوچا کرتے تھے کہ جب بڑے ہوں گے اور یہ لاچاریاں نہیں ہوں گی تو بدلہ لیں گے، لیکن اب وہ باتیں بھی لبوں پر مسکان ہی لاتی ہیں۔
ہمیں نہیں یاد پڑتا کہ ہماری زندگی کا اب تک کا کوئی دور بے فکری میں گزرا ہو اور یہی وجہ ہے کہ ہم بچپن سے ہی بوڑھے ہیں، لہٰذا ہمیں نہیں معلوم کہ کس دور کو سنہری دور کا خطاب دیں۔ زندگی کے تئیں ہمارا فلسفہ یہ ہے کہ ماضی کے مسائل اور مستقبل کے خدشات کے چلتے حال کو تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ با الفاظ دیگر، ماضی سے سبق کشید کر کے بہتر مستقبل کے حصول کی کوشش کرتا ہوا حال ہی انسان کی زندگی کا سنہرا دور ہوتا ہے۔
آپ کی اس ناقص العقل بہن کو جو بات سمجھ میں آئی وہ یہ کہ منہ بولی بہنوں کے معاملے میں تو آپ ماشاءاللہ سے خود کفیل ہیں لیکن حقیقی بہن کی کمی کس حد تک محسوس کرتے ہیں؟
اگر سمجھ لیا ہے تو ہمیں بھی سمجھا دیں
مکمل محاورہ یوں ہے کہ "سگ باش، برادر خرد مباش"۔
اجی قبلہ کون سی مستقل مزاجی اور کہاں کی مستقل مزاجی؟ ہمارا خیال ہے کہ ہم فقط "ٹال مٹول" کے معاملے میں مستقل مزاج واقع ہوئے ہیں۔
ہم بس اتنا کہیں گے کہ رشتوں کا تعلق احساس سے ہوتا ہے اور کچھ رشتے حقیقت سے کہیں زیادہ حقیقی ہوتے ہیں۔
ان دونوں تحریروں میں کئی چھوٹے چھوٹے واقعات کو جمع کیا گیا ہے جو کہ بہر حال بیک وقت پیش نہیں آئے لہٰذا ان کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے کسی قدر افسانویت اور مخصوص انداز بیان کو برتا گیا ہے ورنہ ہماری یاد داشت کی حد تک واقعات کم و بیش سارے ہی سچ ہیں۔ ان تحریروں کا مقصد یہ تھا کہ اس دیہی زندگی کی جھلکیاں محفوظ کر لی جائیں جن سے ہمارا واسطہ رہا ہے۔