انٹرویوانٹرویو وِد جیہ

شمشاد — مئی 17، 2007 6:54 شام
جیہ نے کہا:
زکریا میں بھی ٹھیک ہوں۔ اللہ کا فضل ہے۔
اور یہ جو شمشاد بھائ ہیں نا، ذرا ان سے پوچھ لیں کہ مجھے ذ پ میں کیوں لکھا تھا کہ میں ان کو چاچا کی جگہ بھائ لکھوں۔ لکھا تھا اگر میں ان کو چاچا لکھوں تو لوگ ان کو بوڑھا سمجھیں گے :wink:

لو جی سمجھنے سے کیا ہوتا ہے؟ کسی کے سمجھنے سے میں بوڑھا تھوڑا ہی ہو جاؤں گا۔
جیہ — مئی 17، 2007 7:04 شام
توبہ ہے بھئ توبہ۔۔۔
اللہ معاف کرےیہ آج کل کے مَردوں کا حال ہے۔ ہم خواتین تو عبث بدنام ہیں عمر چھپانے میں
زیک — مئی 17، 2007 7:07 شام
جیہ: شمشاد جتنی بھی عمر چھپائیں سب کو معلوم ہے کہ یہ ہابیل قابیل کے واقعے کے عینی شاہد تھے۔ :lol:
جیہ — مئی 17، 2007 7:12 شام
ٹھیک مگر آپ کو کیسے پتہ؟ کہیں آپ بھی ساتھ تو تھے کیا؟ :lol:
ویسے ایک ڈائجسٹ میں سلسلہ وار کہانی چھپی تھی “ صدیوں کا بیٹا“ لگتا ہے آپ سے ایک تو ضرور صدیوں کا بیٹا ہے :lol:
شمشاد — مئی 17، 2007 7:19 شام
اور کیا ہم دونوں ہی تھے وہاں پر
اور ہاں میں آجکل ڈاکٹر افتخار صاحب سے ملکر ایک “ ایج میٹر “ بنا رہا ہوں جو سب کی عمر بتایا کرئے گا۔ جیسے تھرمامیڑ ہوتا ہے ناں، منہ میں لگایا تو کتنا بخار ہے بتا دیتا ہے، اسی طرح ایج میٹر ہو گا، منہ میں لگایا اور اس نے بتایا کہ عمر کتنی ہے۔
پھر تو لگ پتہ جائے گا۔
پہلے ایک خاتون کے ساتھ ملکر بنانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ فارمولا ہی لیکر چمپت ہو گئی۔
شمشاد — مئی 27، 2007 11:48 صبح
چلیں جی انٹرویو کو آگے بڑھاتے ہیں۔
جیہ آپ کا علاقہ فطرت کے حسین نظاروں کی دولت سے مالا مال ہے۔ پھل، پھول، پودے، کھیت، درخت، دریا، سر سبز پہاڑ اور سب سے بڑھ کے وہاں کا موسم۔
یہ بتائیں کہ آپ فطرت کے کتنا قریب ہیں؟
آپ تو شہر میں رہتی ہیں، کبھی کسی دیہات میں رہنے کا اتفاق ہوا؟
کبھی پھولوں سے باتیں کیں؟
کبھی پودوں سے باتیں کیں؟
گرمیوں کی دوپہر میں کبھی درختوں کے نیچے بیٹھنے کا اتفاق ہوا؟
گرمی کی دوپہر ہو، کنواں ہو، اوپر درختوں کی چھاؤں ہو، رہٹ چل رہا ہو، کنویں کا ٹھنڈا میٹھا پانی بہہ رہا ہو، کیسا محسوس ہوتا ہے۔
جانور تو سبھی دیکھے ہوں گے، کون کون سا جانور پالنے کا اتفاق ہوا؟
ابھی کے لیے بس اتنا ہی۔ باقی بریک کے بعد۔
محب علوی — مئی 27، 2007 12:02 شام
اس انٹر ویو سے دو اشخاص‌ کی عمر کا تو معلوم ہوا۔
شک تو پہلے ہی تھا مگر دونوں فریقین نے تصدیق کر دی ہے کہ وہ صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ قارئین کی سہولت کے لیے واضح بتاتا چلوں کہ یہ دو ارکان ہیں
زکریا
شمشاد
جیا تمہارا شکریہ کہ تمہاری وجہ سے یہ معمہ حل ہوا۔
شمشاد — مئی 27، 2007 10:51 شام
لیکن یہ جیہ بی بی خود سے ہیں کہاں؟ ادھر کیوں نہیں آ رہیں؟
جیہ — مئی 28، 2007 8:02 صبح
شمشاد بھائ ادھر ہی ہوں۔
محب زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ شمشاد بھائ اور زکریا کے عمر کتنی ہے مجھے اس سے لینا دینا نہیں ہے۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ میرے لیے اتنے محترم ہیں جیسے ان کا بلکہ سب کا اور میرا صدیوں کا ساتھ ہو۔ جیسے میں صدیوں سے اس محفل کی رکن ہوں۔
اب آتے ہیں شمشاد بھائ کے سوال کے اور:
چلیں جی انٹرویو کو آگے بڑھاتے ہیں۔
شمشاد بھائ کیا ضرورت تھی۔ اوپر سے اتنے مشکل سوال:)
جیہ آپ کا علاقہ فطرت کے حسین نظاروں کی دولت سے مالا مال ہے۔ پھل، پھول، پودے، کھیت، درخت، دریا، سر سبز پہاڑ اور سب سے بڑھ کے وہاں کا موسم۔
یہ بتائیں کہ آپ فطرت کے کتنا قریب ہیں؟
شمشاد بھائ بجا کہا آپ نے۔ ہمارے علاقے کو اللہ نے بہت خوبصورتی بخشی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ حسن گہنا رہا ہے۔ باغات ختم ہو رہے ہیں۔ کھیتوں میں مکان بن رہے ہیں۔ سرسبز پہاڑ ننگے ہو رہے جنگلات کٹ رہے ہیں۔ دریا کا پانی گندا ہوگیا ہے۔ موسم بدل رہے ہیں۔ ان حالات میں فطرت کے کتنے قریب رہا جاسکتا ہے۔ مگر اب جب کبھی شہر کے مضافات میں جانا ہوتا ہے۔ فطرت مجھے اپنے طرف کھینچ لیتی ہے۔ میں دیر تک ان نظاروں میں کھوئ رہتی ہوں۔ ریلیکس ہوجاتی ہوں۔ (شمشاد بھائ بس اتنی ہی تقریر کرنی آتی ہے:)
آپ تو شہر میں رہتی ہیں، کبھی کسی دیہات میں رہنے کا اتفاق ہوا؟
جی شمشاد بھائ مجھے موقع ملتا رہتا ہے گاؤں میں جانے کا کہ بہت سے رشتہ دار اب بھی گاؤں میں رہتے ہیں۔
کبھی پھولوں سے باتیں کیں؟
کبھی پودوں سے باتیں کیں؟
گرمیوں کی دوپہر میں کبھی درختوں کے نیچے بیٹھنے کا اتفاق ہوا؟

پھول اور پودے مجھ سے اکثر باتیں کرتے ہیں مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ میرے شب و روز تو گھر کے اندر ہی گزرتے ہیں۔ مگر باہر لان کے پودوں اور پھولوں کی باتیں سننے کے لیے موقع نکال ہی لیتی ہوں۔ پچھلے دنوں یہاں جو طوفان آیا تھا اس میں ہمارے لان میں کھڑے خوبانی کے دو درخت اکھڑ گیے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی ماں کے دو بیٹے ایک ساتھ مرگیے ہوں۔ انہیں درختوں کے سایے میں گرمیوں کے دوپہر میں بیٹھ کر کوئ کتاب پڑھتی تھی۔
گرمی کی دوپہر ہو، کنواں ہو، اوپر درختوں کی چھاؤں ہو، رہٹ چل رہا ہو، کنویں کا ٹھنڈا میٹھا پانی بہہ رہا ہو، کیسا محسوس ہوتا ہے۔
شمشاد بھائ افسوس کہ یہاں رہٹ نہیں ہوتے ۔ مگر بارہا ایسا ہوا ہے کہ چھٹی کے دن بابا اور میں مدین (سوات کا مشہور سیاحتی مقام) چلے جاتے ہیں۔ وہاں میں گھنٹوں دریائے سوات کے پانی میں پیر ڈالے بیٹھی رہتی ہوں۔ مدہوش ہو جاتی ہوں۔
جانور تو سبھی دیکھے ہوں گے، کون کون سا جانور پالنے کا اتفاق ہوا؟
شمشاد بھائ بہت سے جانور ابھی دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ ایک کتاہم نے بھی پال رکھاہے سپینئیل نسل کا۔
ابھی کے لیے بس اتنا ہی۔ باقی بریک کے بعد۔
بقول غالب: امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
علمدار — مئی 28، 2007 8:14 صبح
جیہ نے کہا:
علمدار نے کہا:
کافی عرصے بعد واپس آئیں ہوں تو خوش آمدید- :welcome:

بہت بہت شکریہ علمدار صاحب :aadab:

بہت دنوں بعد اس دھاگے پر نظر پڑی ہے اس لیے وعلیکم آداب-
آپ کا انٹرویو بہت دلچسپ ہے-
جیہ — مئی 28، 2007 8:16 صبح
شکریہ علمدار صاحب
میں بھی کم دلچسپ نہیں :lol:
علمدار — مئی 28، 2007 8:25 صبح
وہ تو آپ کے انٹرویو سے ہی ظاہر ہو رہا ہے- شاعری کا ذخیرہ تو آپ کے ذہن میں‌ خوب محفوظ ہے-
شعر مکمل کریں۔۔۔۔ دلچسپ بنانے کے لیے اپنے پاس سے بھی دوسرا مصرع لکھنے کی اجازت ہے:
تو نہیں تو تیری آس رہے
---------------
:)
جیہ — مئی 28، 2007 8:33 صبح
ارے صاحب مجھے غالب کے علاوہ کوئ شعر یاد نہیں رہتا۔ اور شعر مکمل کرنا یہ تو میری بس کی بات ہی نہیں۔ مگر نہ جانے کیسے ذہن میں مصرع آگیا پتہ نہیں کہ وزن میں ہے کہ نہیں بحر حال۔۔۔۔۔۔۔۔ جسارت کرتی ہوں
کوئ تو میرے پاس رہے
تو نہیں تو تیری آس رہے
علمدار — مئی 28، 2007 9:06 صبح
درست شعر کچھ یوں ہے
تو نہیں تو تیری آس رہے
اک جائے تو اک پاس رہے
غالب تو مجھے بھی پسند ہیں لیکن شاعری کسی کی بھی ہو، بس یاد نہیں رہتی- :?
شمشاد — مئی 28، 2007 10:48 صبح
علمدار بھائی لگے ہاتھوں دو چار سوال بھی داغ دینے تھے جیہ کے لیے۔
جیہ — مئی 28، 2007 11:41 صبح
علمدار نے کہا:
درست شعر کچھ یوں ہے
تو نہیں تو تیری آس رہے
اک جائے تو اک پاس رہے
غالب تو مجھے بھی پسند ہیں لیکن شاعری کسی کی بھی ہو، بس یاد نہیں رہتی- :?

شکریہ علم(بر)دار صاحب۔ مگر یہ بھی لکھنا تھا کہ یہ شعر کس کا ہے۔
ظفری — مئی 28، 2007 2:23 شام
بہت خوب جویریہ جوابات پڑھ کر بہت لطف آیا ۔۔۔۔ اس دھاگے کو مقفل ہونے کے بعد میں نے اب دیکھا ہے ۔ یہ تو معلوم ہے کہ قفل کب لگا تھا مگر یہ نہیں معلوم کہ قفل کب اور کیسے کھلا ۔ :wink:
خیر میرے سوالات بس اب آتے ہی ہیں ۔
محب تو لگتا ہے کہ جویریہ کی جھاڑ کھانے کے بعد محفل کے کسی دوراُفتادہ مقام پر روٹھ کر اس طرح بیٹھا ہے کہ کوئی پیغام ارسال کرنے سے بھی گریزاں ہے ۔ :D
اور علمدار صاحب ۔۔۔ اگر میں آپ کے شعر کو مکمل کرنے کی جسارت کرتا ہوں اگر اپ کو برا نہ لگے تو ۔۔۔
تو نہیں تو تیری آس رہے
کوئی کب تک یونہی اداس رہے
محب علوی — مئی 28، 2007 3:09 شام
جیہ نے کہا:
شمشاد بھائ ادھر ہی ہوں۔
محب زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ شمشاد بھائ اور زکریا کے عمر کتنی ہے مجھے اس سے لینا دینا نہیں ہے۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ میرے لیے اتنے محترم ہیں جیسے ان کا بلکہ سب کا اور میرا صدیوں کا ساتھ ہو۔ جیسے میں صدیوں سے اس محفل کی رکن ہوں۔
/quote]
ایک تو میری خوشیاں نہیں دیکھی جاتیں کسی سے ۔ مان لیا کہ تمہیں شمشاد اور زکریا کی عمر سے کوئی لینا دینا نہیں مگر تم نہیں جانتی بہت سے لوگوں کو ان سے لینا دینا ہے عمر کے حساب سے۔ اچھا تم بھی صدیوں سے ہو ۔۔۔۔ یہ تو تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔
اب ایک سوال میری طرف سے
شاعری میں تو تمہیں غالب کا بخار ہے ، نثر میں کس مصنف نے از حد متاثر کیا ہے
جیہ — مئی 28، 2007 6:33 شام
ظفری آپ کو عرصے کے بعد دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ویلکم بیک
محب آپ کے اور ظفری کے سوالوں کے جواب بعد میں دوں گی۔ اس وقت موڈ نہیں بن پارہا
محب علوی — مئی 28، 2007 8:58 شام
جیہ نے کہا:
ظفری آپ کو عرصے کے بعد دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ویلکم بیک
محب آپ کے اور ظفری کے سوالوں کے جواب بعد میں دوں گی۔ اس وقت موڈ نہیں بن پارہا

ظفری دیکھ لو تمہاری وجہ سے میرے سوال کا بھی جواب نہیں دیا جیا نے حالانکہ تمہارے سوال تو ابھی آرہے تھے
چلو کوئی بات نہیں ایسے ہی تو صنف نازک کو ‘نازک‘ نہیں کہا جاتا ، ایسے ہی جواب آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ۔ لو جی میں نے سوال کا جواب لیے بغیر ہی جیا کے ‘نازک مزاج‘ ہونے کا پتہ لگا لیا اسے کہتے ہیں مردم شناسی۔ :lol:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88-%D9%88%D9%90%D8%AF-%D8%AC%DB%8C%DB%81.3694/page-18