ہم پاگل ہیں جو اپنی پیاری سی جویریہ بٹیا کو ہمارے منھ میں خاک، مردہ سمجھیں اور وہ بھی گڑا ہوا۔
مغزل — دسمبر 7، 2009 9:02 صبح
مگر میں تو سمجھوں گا اور مجھے روکنے والا کوئی نہیں ، ہاہہاہاہا
جیہ کیپ اٹ اپ ۔۔ شاباش
مدرس — دسمبر 18، 2009 3:02 شام
محترمہ جویرییہ صا حبہ
السلام علیکم
بہت دیر سے آمد ہو ئی معذرت چا ہتا کہ شایان شان استقبال و تہنیت نہیںہو سکا
بہر حال خوش آمدید اور مبارک ہو یہ انٹر ویو
لیکن آپ کا تعارف پڑھ کر خوشی ہو ئی میں بھی الحمد للہ کا فی حد تک پشتو میں بات کر لیتا ہوں
بچپن سے ہی دوستی پٹھا نوں سے رہی اور آج تک ہے
رحمن بابا کے اشعار رکشہ ٹیکسی وغیرہ پر دیکھتا ہوںتو پڑھ بھی لیتا ہوں سمجھ بھی لیتا ہو ں
جیہ — دسمبر 19، 2009 7:15 صبح
شکریہ استاد مکرم۔ معذرت کی ضرورت ہی نہیں اس انٹرویو کو ختم ہوئے دو سال سے زیادہ کا عرضہ گزر چکا ہے تو آپ مکلف ہی نہیں۔ خوشی ہوئی کہ محفل پر ایک اور پشتو جاننے والا مل گیا ہے۔ ویسے محترم رکشوں گاڑیوں پر رحمان بابا کے نام سے لکھے گئے اکثر اشعار جعلی ہوتے ہیں۔ رحمان بابا کی شاعری بہت بلند اور آفاقی ہے۔
مدرس — دسمبر 19، 2009 1:58 شام
ویسے میں نے ابھی تک حکمت والے اشعار ہی پڑھے ہیں بازاری شعر کو ئی نہیں پڑھا
کراچی کی بات کررہا ہوں
مغزل — دسمبر 25، 2009 8:43 شام
رحمان بابا کی چہیتی کبھی کلام بھی پیش کردیا کرو ۔ بابا کا۔ترجمہ کے ساتھ
حمنہ — جنوری 31، 2010 6:27 شام
جیہ اس سے پہلے کتنی بار انٹرویو دے چکی ہیں ماشااللہ بہت خوبصورت انداز میں سب سوالوں کا جواب دیا
شمشاد — جنوری 31، 2010 6:30 شام
جیہ کا اب تک یہ اردو محفل پر پہلا اور آخری انٹرویو ہے۔