انٹرویوانٹرویو وِد سیدہ شگفتہ

سیدہ شگفتہ — جنوری 30، 2007 9:14 صبح
ماہ وش نے کہا:
بائی دا وے یہ آپ دونوں کیا سن پچپن کی آئی مین بچپن کی سہیلیاں‌ہیں‌۔۔

السلام علیکم ماہ وش بھائی
آپ کے سوال کا جواب تو بعد میں پہلے یہ بتائیں کہ آپ نے اپنے تحقیقی مقالے کے لئے یہی موضوع چنا، اس پر کچھ روشنی۔۔۔ :)
ظفر احمد — جنوری 31، 2007 4:53 صبح
سیدہ شگفتہ نے کہا:
اس طرز کا اندازِ تکلم کہاں سے مخصوص ہے جو آپ نے یہاں اختیار کیا ہے؟ :p :lol:

اندازِ تکلم پر اگر اعتراض ہو تو بندہ ناچیز سر جھکائے معافی کا طلبگار ہے
سیدہ شگفتہ نے کہا:
اگر پٹائی ہو جاتی مُجرم کی تو ممکن ہے تسلی ہو جاتی۔ مجرم کی صرف لفظی کھچائی ہوئی تھی۔ میں نے اُس وقت اُس کی اعلیٰ بدمزاجی کا ذکر نہیں کیا تھا اور یہ میری غلطی تھی، مجھے اپنی اِس غلطی کا اعتراف کرنا ہو گا :p :lol:

لفظی کھینچائی سے بھی تسلی نہیں ہوئی؟ اسی وجہ کو ظلم قرار دیا تھا پر آپ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہی ہیں تو کچھ عرض کرتا ہوں کہ یہ سب مزاق تھا۔ خیر بچپن میں شرارتیں نہ ہوں تو‌‌‌‌ بچپن کامزہ نہیں رہتا۔
قیصرانی — جنوری 31، 2007 10:29 صبح
سیدہ شگفتہ نے کہا:
اگر پٹائی ہو جاتی مُجرم کی تو ممکن ہے تسلی ہو جاتی۔ مجرم کی صرف لفظی کھچائی ہوئی تھی۔ میں نے اُس وقت اُس کی اعلیٰ بدمزاجی کا ذکر نہیں کیا تھا اور یہ میری غلطی تھی، مجھے اپنی اِس غلطی کا اعتراف کرنا ہو گا :p :lol:
پہلا فقرہ کچھ عجیب سا تائثر چھوڑ رہا ہے۔ کیا بتا سکیں گی کہ اس کا مطلب یہ ہے
اگر پٹائی ہو جاتی، مُجرم کی تو ممکن ہے تسلی ہو جاتی
یا یہ
اگر پٹائی ہو جاتی مُجرم کی، تو ممکن ہے تسلی ہو جاتی
ماہ وش — جنوری 31، 2007 10:42 شام
سیدہ شگفتہ نے کہا:
[‌‌‌آپ کے سوال کا جواب تو بعد میں پہلے یہ بتائیں کہ آپ نے اپنے تحقیقی مقالے کے لئے یہی موضوع چنا، اس پر کچھ روشنی۔۔۔ :)

ارے کیسی تحقیق کہاں کا مقالہ ،، اور ٹارچ نہیں ہے میرے پاس فی الحال روشنی ڈالنے کے لئے جب ہوگی تو دیکھیں گے ۔ ۔ ۔
شمشاد — جنوری 31، 2007 11:36 شام
سیدہ شگفتہ نے کہا:
ماہ وش نے کہا:
بائی دا وے یہ آپ دونوں کیا سن پچپن کی آئی مین بچپن کی سہیلیاں‌ہیں‌۔۔

السلام علیکم ماہ وش بھائی
۔۔۔ :)

یہ ماہ وش بھائی کب سے بن گئی؟
:? :? :? :? :?
ماہ وش — فروری 1، 2007 2:03 صبح
ہاں‌ دیکھیں‌نہ شمشاد چاچو یہ بھی کوئی بات ہوئی بھلا ،،، کہنے کی بات یہ ہے کہ ماہ وش کو ماہ وش ہی رہنے دیں ،،بھائی بہن نہ بنائیں
حجاب — فروری 3، 2007 8:23 شام
ماہ وِش بھائی ٹھیک ہی تو لکھا ہے شگفتہ نے :p :p
محب علوی — فروری 3، 2007 8:46 شام
بچپن میں کونسی کہانیاں اچھی لگتی تھیں؟
ماہ وش — فروری 3، 2007 11:14 شام
حجاب نے کہا:
ماہ وِش بھائی ٹھیک ہی تو لکھا ہے شگفتہ نے :p :p

تو میں نے کب کہا کہ بھائی غلط لکھا ہے ، آئی نو کہ یو نو می
ماہ وش — فروری 3، 2007 11:17 شام
محب علوی نے کہا:
بچپن میں کونسی کہانیاں اچھی لگتی تھیں؟

محب علوی تم زندہ ہو ابھی ، ، ویسے تم بھی غائب تھے قیصرانی کی طرح
محب علوی — فروری 3، 2007 11:50 شام
میں کہاں غائب تھا یہیں تھا اور باقاعدہ پوسٹس بھی کر رہا ہوں۔
حیرت ہے کہ میں نظر نہیں آیا ویسے ماہ وش بننے کی کیا ضرورت تھی
ماہ وش — فروری 4، 2007 12:44 صبح
بس محب جی طبیعت کچھ نیا پن چاہ رہی تھی ۔ سو ماہ کی وش بننے کی ٹھان لی ۔ غالب سے معزرت کے ساتھ
بنا کر ماہ وش کا ہم بھیس شاہد
تماشہ اہل بزم دیکھتے ہیں
نوٹ ۔ بزم کے “ز“ کو جزم کے ساتھ نہ پڑھنا ورنہ مصرع وزن سے گر جائے گا
ماوراء — فروری 4، 2007 12:50 صبح
:oops: نئے پن اور تبدیلی کی قائل تو میں بھی ہوں۔ پر اتنی بڑی تبدیلی۔۔۔۔۔۔huh huh۔ یہ بات تو ٹھیک طرح سے ہضم بھی نہیں ہوتی۔
273_banned_1.gif
ماہ وش — فروری 4، 2007 12:59 صبح
ارے بابا تبدیلی تبدیلی ہوتی ہے اور بس ،، اور یوں‌ بھی نیٹ‌پر کیا ہی اور کیا شی ، ویسے بھی میں نے کبھی کسی سے اے ایس ایل پوچھ کر چیٹ‌ نہیں‌کی ۔ ماہ وش آئی ڈی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں‌ ، جیسے ماورا اور محب بھی آئی ڈیز ہیں ، ہے نہ
محب علوی — فروری 4، 2007 2:03 صبح
تم نے بات شروع کر دی اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ میں بھی اس میں شریک ہوں بلکہ کزن تک بنا ڈالا :wink:
ویسے محب میری بڑی پکی آئی ڈی ہے اور بہت زیادہ لوگ اس سے واقف ہیں۔
ماہ وش — فروری 4، 2007 2:13 صبح
ارے یہ کس کے کزن کی بات ہو رہی ہے یہاں ، اور ہاں‌آئی ڈی میری بھی وہی ہے نیٹ‌ پر جو میں‌نے 6 سال پہلے رکھی تھی ،، تبدیل ہی نہیں‌ کی ،، ویسے کچھ لوگوں‌ کا خیال ہے کہ جو لوگ ایک آئی ڈی پر اٹک جاتے ہیں‌وہ شناخت کی تلاش میں‌ہوتے ہیں‌،، لیکن میرا یہ خیال نہیں‌ ہے ، تمہارا کیا خیال ہے
سیدہ شگفتہ — فروری 4، 2007 10:59 صبح
ظفر احمد نے کہا:
اندازِ تکلم پر اگر اعتراض ہو تو بندہ ناچیز سر جھکائے معافی کا طلبگار ہے
السلام علیکم
رکنِ اردو محفل کی حیثت سے آپ محترم ہیں ۔
ظفر احمد نے کہا:
لفظی کھینچائی سے بھی تسلی نہیں ہوئی؟ اسی وجہ کو ظلم قرار دیا تھا پر آپ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہی ہیں تو کچھ عرض کرتا ہوں کہ یہ سب مزاق تھا۔ خیر بچپن میں شرارتیں نہ ہوں تو‌‌‌‌ بچپن کامزہ نہیں رہتا۔

اور یہ آپ اس ظلم سے اپنی توجہ تو ہٹائیں جو میں نے کیا ہی نہیں اور یہ بھی دیکھیں کہ اس بدمزاج کی بدمزاجی کا میں نے ذکر ہی نہیں کیا ورنہ اس کا حشر حشر سے پہلے ہی ہو جانا تھا اُسی روز عین اسی وقت :)
اس ایڈونچر میں اور بھی کئی باتیں ثابت ہیں دیکھیں جیسے یہ کہ بچے بہادر ہوتے ہیں اور تجربات کرنے میں کسی قسم کا خطرہ مول لینے سے نہیں گھبراتے :)
ظفر احمد نے کہا:
بچپن میں شرارتیں نہ ہوں تو‌‌‌‌ بچپن کامزہ نہیں رہتا۔

درست بلکہ صرف بچپن ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہی !
سیدہ شگفتہ — فروری 4، 2007 12:26 شام
قیصرانی نے کہا:
پہلا فقرہ کچھ عجیب سا تائثر چھوڑ رہا ہے۔ کیا بتا سکیں گی کہ اس کا مطلب یہ ہے
اگر پٹائی ہو جاتی، مُجرم کی تو ممکن ہے تسلی ہو جاتی
یا یہ
اگر پٹائی ہو جاتی مُجرم کی، تو ممکن ہے تسلی ہو جاتی

ہاں واقعی یہ تو بالکل ہی معنی ہی بدل جاتے ہیں اس طرح سے۔۔۔ دلچسپ !
البتہ ۔۔۔ میری مراد یقینی طور پر مجرم کی پٹائی سے ہے :)
سیدہ شگفتہ — فروری 5، 2007 12:15 شام
ماوراء نے کہا:
سیدہ شگفتہ نے کہا:
ماوراء نے کہا:
اور کچھ میری طرف سے بھی:

السلام علیکم ماوراء
کچھ تاخیر ہو گئی بچپن گذرنے میں :oops:
ابھی بھی تھوڑا سا باقی ہے :) :oops:
وعلیکم السلام شگفتہ،
آپ کا بچپن بھی بہت مزے کا تھا۔ اس لیے کوئی بات نہیں۔ :)

شکریہ ماوراء
شرارتیں کرنے میں بھی بڑا مزا ملتا ہے، میں لکھنے بیٹھی تھی تو کئی شرارتیں یاد آگئیں !
سیدہ شگفتہ — فروری 5، 2007 12:25 شام
محب علوی نے کہا:
بچپن میں کونسی کہانیاں اچھی لگتی تھیں؟

بے شمار ہیں۔۔۔۔ اس پر تو میں کئی جلدی مقالہ لکھ سکتی ہوں ۔۔۔ اچھا بناتی ہوں ایک چھوٹی سی فہرست :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%88-%D9%88%D9%90%D8%AF-%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DB%81-%D8%B4%DA%AF%D9%81%D8%AA%DB%81.4933/page-5