شمشاد نے کہا:
ماوراء نے کہا:
بیٹیاں ایک ایسا بوجھ ہے جو بڑے سے بڑا راجہ مہاراجہ بھی نہیں اٹھا سکتا۔ بہنیں اور بیٹیاں اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں۔
یہ باتیں میری عقل میں ٹھیک طرح سے سمائی نہیں ہیں۔
مطلب یہ کہ ماں باپ ساری عمر بیٹی کو گھر میں نہیں بٹھا سکتے۔
میرے معاشرے میں بیٹی کی ٹھیک عمر میں شادی ہو جائے تو سر سے بوجھ اتر جاتا ہے۔ ورنہ تو ماں باپ کو سکون سے نیند بھی نہیں آتی۔
جناب کون جاہل ہے جو بیٹیوں کو بوجھ تصورکرتےہیں ۔؟ میرا دل چاہتا ہے ایسے سوچنے والوں کو سو کوڑے لگاؤں
کیوں نیند نہیں آتی بھلا ؟

میں تو آرام سکون سے سوتی ہوں ۔ اور دیکھ لیں خدا کی رحمت ہیں بیٹیاں ۔ بیٹوں کا کیا ۔؟ شادی کی ۔ ماں باپ کو چھوڑا اور بیوی کے دمچھلےہوگئے۔
یہ بیٹیاں ہی ہیں جو ماں اور باپ کے نہایت قریب ہیں انکا سکھ چین آرام خیال سبھی ذمے داریاں بیٹیاں اٹھاتی ہیں ۔ تو پھر ماں باپ جب بھی بولتے ہیں تو کیوں کر انکو بوجھ کہتے سمجھتے ہیں ؟
اتنی ہی اگر بوجھ محسوس ہوں تو اندھے کنواں میں دھیکل کیوں نہیں دیتے ۔؟
مگر آجکل صرف اور صرف انکے فیوچر پر نظر رکھنی چاہئیے اور جتنا ممکن ہو ایجوکیشین دلاوائی جائے۔ کہ کل کو زندگی کے نشیب و فراز سے انکو کچھ فرق نہ پڑے اور خدانخواستہ برا وقت مں بھی پڑھائی لکھائی انکے کام آئے ۔ ایک یہی تعلیم ہی ایسی ہے جتنی بھی دی جائے دلائی جائے یہی ساری زندگی کام آتی ہے۔ شوہروں نامداروں کا کیا ہے ۔ ؟

کوئی پتا ہوتا ہے کسی کا؟ کب بدل جائے ۔؟
اس لئے جو بیٹیوں کے کام آتی وہ صرف تعلیم ہی ہے ۔
اس لئے بیٹیوں کی عمریں دیکھ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اعلی تعلیم آپ انکو دلا وا دیں تو سمجھئیے آپ نے آپنا خق ادا کیا ۔
رشتوں کا کیا ہے ؟ اگر پڑھ لکھ کر کچھ بن لیا جائےتو اچھے سے اچھے رشتے اپنی چوکھٹ پر خود بخود آن موجود ہوتے ہیں ۔
تو پھر کیوں انکو بوجھ بوجھ کہہ کر پکارتے ہیں ۔ مصلب میں سمجھ رہی ہوں کہ آپ نے کس لحاظ سے بولا ۔ مگر پھر بھی بوجھ نہیں ہوتیں ۔ یہ الگ بات ہے جو ماں باپ زیادہ دیر انکو نہیں اپنے گھر بیٹھاتے وہ ایسآ سوچتے ہیں ۔
مگر سوچ میں بھی کیوں سوچا بھی جائے ۔؟ کہ بیٹی کو بوجھ تصور کیا جائے ۔؟
آئیندہ میرے سامنے بوجھ بوجھ مت لکھئیے گا ۔
