ہممم ظفری آپ کو نہیں پتہ نا۔۔مذاق میں میں بھی یہی کہتی ہوں کہ میں اب بڑی ہوگئی ہوں اس لیے سنجیدہ ہوگئی ہوں۔۔جبکہ حقیقت میں ہمارے اردگرد رہنے والے لوگ،حالات ہمیں سنجیدہ، غمدیدہ، نمدیدہ بنا دیتے ہیں۔ (یہ سارے دیدہ میں نے خود سے بنائے ہیں۔) : خیر کوششش کیجیئے گا کہ آپ کے اندر خوشی کو محسوس کرنے کا احساس زندہ رہے۔چلیئے یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ اور میں یہ تو سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہوگئے ہیں ۔ ورنہ لوگ تو خود کو ابھی تک بچہ کھلوانے پہ ُمصر ہیں ۔

خوشی کی جہاں تک بات ہے تو یہ صحیح ہے کہ انسان کو خوشی کے لمحات میں خوشی کی کروٹوں کو محسوس کرنا چاہیئے ۔ مگر چند لمحوں کی مسرت کو زندگی کے مقصد سے دوری کا سبب نہ بنائے ۔ بہادر شاہ ظفر نے یہ بھی بہت خوب کہا ہے کہ :
ظفر آدمی اس کو نہ جانیئےگا وہ ہو کیسا ہی صاحب ِ فہم و زد کا
جسے عیش میں یاد ِخدا نہ رہی ، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
اللہ تعالی ٰ نے انسان میں خوشی کا مادہ پیدا کیا ہے تو انسان کو بھی چاہیئے کہ اس کے ساتھ انصاف روا رکھے ۔ ورنہ خود کو ہر وقت رنجیدہ رکھنے کا یہ عمل اپنے اردگرد کے لوگوں کو فکر مند رکھ کر کسی بھی طورسے مثبت عمل نہیں کہلا سکتا ۔ اور ایسا معاشرہ یا ماحول ایک صحت مند اور متحرک سوچ کو ظاہر نہیں کر سکتا ۔
پس میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ خود بھی خوش رہوں اور دوسروں کو بھی خوش رکھوں ۔ اور یہ بات شاید میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ دوسروں کو خوش رکھنے کے لیئے بہت ضروری ہے کہ انسان پہلے خود کو خوش رکھے ۔
جائیں معاف کیا۔۔۔آپ بھی کیا یادرکھیں گے حالانکہ مجھے پتہ تھا کہ نہ آپ لکھیں گے اور نہ میں لکھوا سکتی ہوں۔۔بس ویسے ہی آپ کو تھوڑا تنگ کررہی تھی۔ شکریہ ۔۔۔۔ ورنہ ناموں کے برآمد ہونے بعد میری اردو محفل سے جلاوطنی کے احکامات آنے کے پورے پورے آثار موجود تھے ۔
: ( ظفری آپ کے اس جواب نے ہر پڑھنے والے کے لیے ایک سوال چھوڑا ہے ۔۔کیا ہم بھی بے مقصد زندگی ہی جی رہے ہیں۔۔؟ ظفری یہی تبدیلی میں نے آپ میں دیکھی تھی اس لیے کہہ بھی دیا کہ آپ پہلے سے کچھ سنجیدہ اور بدل گئے ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میری چھوٹی سی بات کی وجہ سے ناصرف آپ نے اپنی سوچ کو ذباں دی بلکہ کئی اور لوگوں کو ایسا سوچنے پر مجبور کیا۔انشاءاللہ میں آپ کے لیے، اپنے لیے بلکہ سب کے لیے یہ دعا ضرور کروں گی۔ اور ہاں جیسا کہ محب نے کہا ہے۔۔آپ اظہار خیال کے لیے دھاگہ کھولیں۔دیکھئے ! ۔۔۔ بحثیت ایک انسان ہمارے لیئے کسی مقصد یا منزل کا تعین بہت ضروری ہے ۔ زندگی کی راہ میں ہمیں آگے بڑھنے سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ آکر ہمیں جانا کہاں ہے ۔ ہماری کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں ، یا ہم زندگی کی شاہراہ پر پر بے مقصد ہی بھٹکتے رہیں گے ۔
زندگی کے دن پُورے کرنا ، تھوڑا بہت کھا پی لینا ، دوستوں میں بیٹھ کر مذاق کر لینا ، رات آئی سو لینا ، تکلیف ہوئی رو لینا ، زندگی کا مقصد تو نہیں ہے ۔ اگر !!! ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے تو ہم سراب کی شعبدہ بازی میں پھنسے رہیں گے ۔ ہمیں اس خیال کا شدت سے احساس ہونا چاہیئے کہ ہمیں اس دنیا میں کچھ کرنے کے لیئے پیدا کیا گیا ہے ۔ اور میری بھی کائنات میں کچھ جگہ ہے ۔ حیات مقصد سے مشروط ہے اور مقصد نہیں تو حیات بھی نہیں ۔
جی بہت شکریہ کچھ سطری جواب کا لیکن سالگرہ کا دن کیسے گزرتا ہے۔۔مناتے ہیں یا نہیں۔۔اور کس کی وش کا سب سے زیادہ انتظار ہوتا ہے۔۔؟ اس بارے میں بھی روشنی ڈالیں۔ سالگرہ کا دن عموماً جاب پر ہی گذرتا ہے اور ویسے بھی میں اپنی سالگرہ بہت کم مناتا ہوں مگر بچوں کی وش کا ضرور انتظار رہتا ہے ۔ جس کا وہ بہت گرم جوشی سے مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ( میرا خیال ہے کہ اتنی روشنی کافی ہے ) ۔
اور اگر کبھی کوئی مستقل مزاج مل جائے تو۔۔۔؟تو پھر کیا کہنے ۔۔۔۔
