یہ انٹرویو کب آیا دلچسپ لگ رہا ھے لیکن اسقدر طویل ھے کہ سترہ صفحات کو پڑھنے میں سترہ دن تو لگیں گے
" فرصت ملی تو بیٹھ کے پڑھیں گے کسی دن"


بی بی ۔۔۔۔ اتنی مشکل سے تو ستائیس صفحات ہوئے ہیں اور آپ نے پھر سترہ بنادیئے ۔

یہ وہ زمانہ تھا جب جنگِ آزادی کے بعد بڑی افراتفری پھیلی ہوئی تھی ۔ بہادر شاہ ظفر کے انتقال کو گویا کہ 27 سال گذر چکے تھے ۔ مگر فرنگی " ظفر " نام کی مماثلت کی وجہ سے میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے ۔ پھر انہوں نے مجھے گرفتار کیا اور مجھ پر شاعری کا الزام ڈال کر لاہور کے الحمراء ہال میں ٹرائل چلایا اور اسی ٹرائل میں میرے وکیل اعتزاز حسین نے مشورہ دیا کہ آپ میٹرک کرلیں ۔ اگر میٹرک کی سند آپ کے پاس ہوگی تو یہ آپ کو سزا نہیں دے سکیں گے کہ بہادر شاہ ظفر نے میٹرک نہیں کیا تھا ۔ چنانچہ ان محرکات نے مجھے " اکسایا " کہ میں میٹرک کروں اور پھر میں نے میٹرک کمپری ہنسو ہائی اسکول کراچی سے کیا ۔ جو اس وقت معرض وجود میں نہیں آیا تھا ۔ چونکہ جان کے لاے پڑے ہوئے تھے ۔سو مجبوراً اس حالت میں بھی میٹرک کرنا پڑا ۔



گویا دوست کو ہم مزاج،ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔او سے ایک اور سوال بھی ذہن میں آیا نیے سوالات میں پوچھتی ہوں

ہمممممممممم تو آپ کو diplomacy بھی آتی ہے
میں پڑھ لیا کروں گی ۔جہاں سمجھ نا آیا تو پوچھنا پڑ تا ہے بس۔
جب کہ میں اسے مہ جبیں کے الٹ سمجھی۔یعنی شہ رخاس کا کیا جواب دوں۔
ہممممم مجھے تو محتاط ہونے کی ضرورت نہیں ہے نا



۔
۔
[/QUOTE]

بی بی ۔۔۔ جب انسان کسی بات پر لاجواب ہوجاتا ہے تو اصولاً اسے خاموش رہ جانا چاہیئے یا سراہانا چاہیے کہ میرے پاس واقعی اس بات کا جواب نہیں ہے ۔ اس سے ایک باوقار ماحول وجود میں آتا ہے ۔

اُف ۔۔۔ میں نے اس لیئے کیا تھا کہ کچھ دیر کے لیئے چکر آگیا تھا ۔ مگر پھر میں نے خود کو سنبھال لیا ۔
